Select Language:
Urdu / English /Spanish / Bengali / Hindi
ہفتہ وار کالمز

کمرے میں ہاتھی!

سب سے پہلے تو سید عاصم منیر کا شکریہ کہ انہوں نے سابق وزیر اعظم جناب عمران خان کو اڈیالہ جیل سے نکال کر انٹرنیشنل شفا ہسپتال میں داخل کرنے کی اجازت دے دی۔ یہ کیسے ہوا؟ سب سے اول تو وہ سپریم کورٹ کا حکم تھا جس میں ایسا کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ لیکن حکومت ایسے کئی فیصلے نظر انداز کرتی رہی ہے۔اور بہت سی قیاس آرائیاں ہیں، جیسے کہ خان کی پہلی زوجہ کے والد ایک باا ثرا نگلینڈ کے یہودی ہیں، انہوں نے جمائمہ کی درخواست پر کہ عمران خان کو مرنے سے بچا لیا جائے، نیتین یاہوسے براہ راست درخواست کی ہو کہ عاصم منیرعمران خان کو ہسپتال جانے دے، تا کہ اگر انکی جان کو کوئی خطرہ ہو تو وہ دور کیا جا سکے۔تو نیتین یاہو نے اپنے امریکی دفترخارجہ کے توسط سے عاصم منیر کو کہا ہو کہ سپریم کورٹ کو ایسا حکم جاری کرنے کا کہے جس سے عمران خان کو جیل سے ہسپتال منتقل کیا جا سکے۔
امریکہ سے آئے ہوئے کسی حکم کو پاکستانی افواج کا کمانڈر کسی حال میں نظر انداز نہیں کر سکتا۔ اور نہ ہی کسی پاکستانی وزیر اعظم میں اتنی جرأت ہے کہ وہ انکار کر سکے۔
اگرچہ یہ امکان سب سے قریب القیاس ہے، اور وجوحات بھی ممکن ہیں۔ جیسے کہ سید عاصم منیر بڑی شد و مد کے ساتھ اسمبلی سے 28ویں ترمیم پاس کروانے کے چکر میں ہیں۔ وہ غالباً اسی صورت میں ہو سکتی ہے کہ پارلیمنٹ کے تحریک انصاف کے ارکان اس کی حمایت میں ووٹ ڈالیں۔اگر حکومت اور فیلڈ مارشل عمران خان کے معاملے میں کچھ نرمی دکھائیں تو یہ ممکن ہے کہ تحریک کے اسمبلی کے ارکان ا س ترمیم کے حق میں ووٹ ڈال دیں۔سوال یہ ہے کہ فوج کو اس ترمیم میں کیا دلچسپی ہے؟
۔ صبح جب اٹھے تو پتہ چلا یہ سب ایک سہانا خواب تھا،کہ نہ صرف خان کو الشفا ہسپتال نہیں لے جایا گیا، بلکہ ایک دوسرے سرکاری ہسپتال لے جایا گیا، وہ بھی تھوڑی سی تفتیش اور علاج کے بعد الٹے پیر واپس اڈیالہ جیل میں لے گئے۔ اللہ اللہ خیرسلا۔یہ تھی فیلڈ مارشل کی کُل اوقات۔نہ جمائمہ نے کوئی زور لگایا اور نہ کوئی ڈیل ہی ہوئی۔ صرف دنیا کو دکھانے کے لیے کہ سپریم کورٹ کے حکم کی تعمیل کی گئی، اور کوئی انسانی قدر پیش نظر نہیں تھی۔ہماری قیاس آرائیاں سب پانی کے بلبلے تھے۔جب تک امریکہ سے حکم نہیںا ٓئے گا، یہ پرنالہ وہیں گرے گا۔ کہ د ر حقیقت یہ ڈرامہ سپریم کورٹ کے حکم کی تعمیل بھی نہیں تھا، اور توہین عدالت کا کیس تھا۔ اب تحریک انصاف عدالت سے رجو ع کر رہی ہے۔سپریم کوٹ کی مجال نہیں کہ حکومت کے خلاف توہین عدالت کا فیصلہ سنائے۔ وہ حکومت کا جواب درست مان کر معاملہ خارج کر دے گی۔ یہ ہماری پیشین گوئی سمجھ لیں۔
لیکن اٹھائیسویں آئینی ترمیم میں ہماری پیاری فوج کی دلچسپی قابل غور ہے۔وہ دلچسپی اس لیے بھی اہم ہے کہ فوج تو سیاست میں دخل اندازی نہیں کرتی۔تو اسے بھلا آئینی ترمیم میں کیا دلچسپی ہو سکتی ہے؟یہ دنیا جانتی ہے کہ پاکستان کی فوج ایک انتہائی منظم، چست اور ایمانداری سے کام کرنے والا واحد ادارہ ہے، جسے پاکستان کی سلامتی اور بہتری کے علاوہ کوئی دوسرا شوق نہیں۔اس ادارہ کو کئی دہائیاں گذر گئی ہیںکہ وہ لگا تار پاکستان میںبہ نفس نفیس، خاص طور پر اس دفعہ جب سے اس کی کاوشوں سے نئی حکومت بنی ہے، وہ پاکستان کے اہم شعبوں پر ریٹائرڈ اور حاضر سروس جرنیلوں کو فائز کروا چکی ہے۔ وفاقی حکومت میں اس کے اپنے عزیر جیسے کہ وہ منحوس شکل مسٹر نقوی وزیر داخلہ ، تعینات کیے جا چکے ہیں۔ ایک انتہائی حساس اور اہم ادارے نادرا کا سربراہ ایک جنرل ہے۔ اسی طرح جو ادارہ سرکاری محکموں میں بد عنوانیت پکڑنے کا ذمہ وار ہے ، نیب، اس کا سربراہ بھی، آپ سمجھ گئے ہوں گے۔یہ فہرست بہت طویل ہے۔کہاں تک سنو گے؟
فوج کے راستے میں ایک بڑی رکاوٹ ہے، وہ ہے آئین اور قانون۔ فوج اس کا بہت احترا م کرتی ہے۔ اسی وجہ سے اس نے تردد کر کے آئین کی چھبیسویں اور ستائیسویں ترمیم پاس کر وائیں۔ فوج نے یہ ترامیم عمومی بحث مباحثہ سے بچا کر پاس کروائیں۔ وہ ارکان اسمبلی کو فضول سوالات اور خدشات سے بچانا چاہتے تھے اور جعلی وزیر اعظم تو صرف ربر سٹیمپ کے لیے ہیں۔ اس لیے بڑی آسانی سے دونوں ترامیم پاس ہو گئیں۔ان ترامیم نے کیا غضب ڈھایا؟ اس نے اعلیٰ عدالتوں میں ججز کی تعیناتیوں کو اور تبادلوں کو انتظامیہ کے حوالے کر دیا۔اور بہت سے اختیارات چھینے گئے۔ ججوں نے چون تک نہیں کی۔اب جج وہی فیصلہ سناتے ہیں جو ان کو بتایا جاتا ہے نہ کہ جو قانون اور آئین بتاتے ہیں۔تحریک انصاف کے خلاف جاتے جاتے انصاف کا گلا بھی گھونٹ دیا گیا ہے۔جو حالات اب ملک میں ہیں اس میں وہی ہوتا ہے جو فوج کا سربراہ چاہتا ہے۔ یہ تو ہو گیا حکمرانی کا حلیہ۔ لیکن کسی ملک کو چلانے کے لیے، خصوصاً جس کی آبادی چھبیس کروڑ کے لگ بھگ ہو، اتنا آسان نہیں ہے۔ کبھی باریک واردات بھی کرنی ہوتی ہے، جس کے لیے وزیر اعلی کو کہنا پڑتا ہے۔ اب چار وزیر اعلیٰ کے پاس ہر بات کے لیے جانا بھی اچھا نہیں لگتا۔ کیونکہ سول سروس ان کے نیچے ہے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ ملک کے چھوٹے چھوٹے انتظامی یونٹ بن جائیں اور ہر یونٹ پر فوجی جنرل بیٹھا ہو؟ یا کم از کم فوجی اثر و رسوخ کو ماننے والا؟جیسا کہ قاعدہ ہے کہ آئینی ترمیموں کو بغیر بحث و مباحثہ کے پاس کروایا جاتا ہے۔ لیکن پھر بھی اس ترمیم کا کچھ خاکہ عوامی ذرائع تک پہنچ گیا ہے۔The Nation کی مئی 2026کی ایک اشاعت میں 28 ویں ترمیم کے تین بڑے نکات بتائے گئے ہیں۔لیکن پہلے پوری خبر پڑھ لیں جس میں سیاق و سباق بتائے گئے ہیں۔پی ایم ایل نون کی حکومت کے سامنے ایک پیچیدہ مسئلہ آ پڑا ہے جس میں اسے اٹھائیسویں ترمیم کا پیکٹ کہتے ہیں۔ جس وقت یہ پیش کیا جانا تھا اس کے ساتھ ہی بڑی عید بھی تھی اور بجٹ بھی پاس ہونا تھایہ ترمیم پہلے بھی پیش کی جانی تھی لیکن اسی وقت مشرق وسطیٰ کا بحران شرو ع ہو گیا اور پاکستان اس میں ثالثی کا کردار نبھانے میں مصروف ہو گیا۔اگرچہ بڑے سیاستدانوں کے مہمان خانوں میں کچھ بات چیت شرو ع ہو چکی تھی، لیکن اس ترمیم کو پاس کروانے میں جتنے مراحل طے کرنے تھے وہ ابھی بہت دور تھے۔حکمران جماعت کو ان سب سیاسی گروہوں کو ہم خیال بنانا ہے جن کے تعاون سے یہ ترمیم پاس ہو سکتی ہے۔سیاسی اور آئینی امور کے ماہرین جو اس ترمیم سے پیدا ہونے والی تبدیلیوں سے متفکر ہیں، کہ ان میںاس کے پاس کرنے سے جو آبادیوںمیںتبدیلیاں آ سکتی ہیں وہ نا قابل قبول ہوں۔مثلاً اس میں ایسی تجاویز ہیں کہ عدلیہ کو اختیار دیا جائے گا کہ وہ گورنر راج اور اس سے متعلقہ قوانین کو بدل سکے۔حکومتی اداروں میں اس ترمیم پر کام ہو رہا ہے، لیکن اس کے لیے دؤتہائی اکثریت درکار ہو گی۔جو تمام سرکاری جماعتوں کی کل تعداد بنتی ہے۔اٹھائیسویں ترمیم کا بڑا مقصد موجودہ صوبوں کی تقسیم کر کے زیادہ صوبے بنانا ہے۔ اس وقت 12 صوبوں کی بات ہو رہی تھی۔مثلاً کراچی شہر کو ایک صوبہ بنا دیا جائے گا۔ لیکن آپ نوٹ فرمائیں کہ یہ کوئی آسان کام نہیں۔بہت سے مفاد پرستوں سے واسطہ ہو گا۔ترمیم۔ کا دوسرا حصہ پُر کشش ہے کہ مقامی حکومتی نظام کو مضبوط بنانا اور اس طرح سب سے نچلے طبقہ کے ساتھ حکومتی شراکت داری کرنا۔ایم کیو ایم نے حکومت کو الٹی میٹم دیا ہے کہ فوراً اٹھائسویں ترمیم پاس کروائی جائے تا کہ مقامی حکومتیں بحال کی جا سکیں۔اس آئینی ترمیم کا تیسرا بڑا رکن ، آبادی کی بنیاد پر انتخابات کروانے سے متعلق ہے۔اگر ایسا کر دیا گیا تو انتخابات سے متعلق بہت سے اعتراضات جو مردم شماری کے حوالے سے کیے جاتے ہیں، وہ ختم ہو جائیں گے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ صوبوں کی تعداد میں اضافہ تبھی ممکن ہے جب کہ تمام سیاسی پارٹیاں اس پر راضی ہوں۔ موجودہ حالات میں ایسا ممکن نظر نہیں آتا۔ یہی وجہ ہے کہ اٹھائیسویں ترمیم کے لیے تحریک کے ارکان کی ضرورت پیش آئی ہے۔روزنامہ فرائیڈے ٹائمز کی ایک حالیہ اشاعت کے مطابق صوبوں کے بڑھانے کی پاکستان کی پرانی بحث، جانی پہچانی شدت کے ساتھ پھر سے چھڑ گئی ہے۔ اسے اکثر ایک ضروری انتظامی قدم قرار دیا گیا ہے جس سے علاقائی غیر مساوی سلوک اور صوبائی دارلحکومتوں پر زیادہ بوجھ کا حل سمجھا گیا ہے۔کسی حد تک یہ رحجان سمجھ میں آتا ہے۔ملک کے کچھ حصوں میں احساس محرومی واضح نظر آتا ہے۔ دور افتادہ ضلع، چھوٹے قصبے اور تاریخی نظر انداز علاقے ، فیصلہ سازی کے عمل سے باہر، محرومی کا شکار محسوس کرتے ہیں ۔ اسکے مقابلے میں ایک جریدہ کاکہنا کہ پاکستان کو نئے صوبوں سے زیادہ فعال مقامی حکومتوں میں اصلاحات کی ضرورت ہے، نہ کہ علاقائی بندر بانٹ کی۔مسئلہ نقشہ کا نہیں ، ریاست کا ہے۔یہ کوئی معمولی فرق نہیں ہے۔ پاکستان کے مسائل اس وجہ سے نہیں ہیں کہ صوبوںکا حجم کیا ہے، مگر اس سے کہ موثر ادارے ، سیاسی بصیرت، اور بقدر ضرورت مقتدر مقامی حکومتیں نہیں ہیں۔ ان مسائل کا حل صوبوں کی حد تبدیل کرنے میں نہیں ، بلکہ موثر حکومت میں ہے۔اگر اس لحاظ سے سوچا جائے تو صوبہ سازی کی یہ ساری بحث لا یعنی ہو جاتی ہے۔دنیا کے اور ملکوں نے ایسے تجربے کیے لیکن اگر بنیادی حالات ٹھیک نہیں تھے تو ان تبدیلیوں سے کوئی فرق نہیں پڑا۔نئے صوبے تو بن جائیں گے مگر ان کو چلانے کے لیے، نئے سیکریٹیریٹ، وزارتیں، اسمبلیاں، پولیس کا نظام، اور عدالتی نظام بھی چاہیئے ہوں گے۔ان ضروریات پر وہ پیسہ لگے گا جو بچوں کی تعلیم، صحت، اور انفرا سٹرکچر پر لگنا چاہیئے۔پاکستان کا مسئلہ کم افسری نظام نہیں، اس کا مسئلہ غیر جوابدہ اور بے حس ادارے ہیں۔بہر حال، ہر کوئی اپنی ضرورت دیکھتا ہے۔ نہ کہ پاکستان کی۔اگر 12 صوبے بھی بن گئے توایک طرف تو ان کے سیکریٹیریٹ بنانے اور وزارتوں کی سہولیات دینے اور الم غلم پر بڑی رقمیں درکار ہوں گی، دوسری طرف پاکستان کے پاس مزید قرضے لینے کے ذرائع بھی کم ہو گئے ہیں۔ نئے صوبے آمدنی تو نہیں بڑھائیں گے ، صرف خرچ ہی بڑھائیں گے۔فوج کو چاہیے کہ ایک بجٹ بنائے کہ نئے صوبے بنانے پر کیا خرچ آئے گا۔اور وہ کہاں سے پورا ہو گا؟ البتہ مقامی حکومتوں کو فعال کرنے میں زیادہ خرچ نہیں ہو گا، اور عوام کی حکمرانی میں شمولیت کا خواب بھی پورا ہو جائے گا۔ رہا مسئلہ ریٹائرڈ فوج افسروں کو کہاں کھپایا جائے تو ہمارے سر آنکھوں پر۔ آپ ہر ضلع میں ایک سینئر ڈپٹی کمشنر کی پوسٹ بنوا لیں اور اس پر کسی فوجی کو بٹھا دیں۔یا ایسا ہی کوئی نظام سوچ لیں؟ایک صورت اور بھی ہے کہ ایک ٹریننگ اکیڈیمی بنائی جائے جس میں تمام سول سروس کے افسروں کو دو مہینے کا کورس کروایا جائے کہ فوج نظم و نسق کو کیسے چلاتی ہے۔اس کا نظام کیسے اتنا عمدہ چلتا ہے؟ وغیرہ وغیرہ۔اول تو اب ملک کے حالات ایسے بن گئے ہیں کہ کسی مزید کاروائی کی ضرورت ہی نہیں۔ عدالتیں آپ کی ہیں، وزیر اعظم آپ کا۔ نئے انتخابات میں جو حکومت بنے اس سے بھی سودا کر لیں تو رام بھلی ہی کرے گا۔

 

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button