پاکستان میں ایسٹ انڈیا کمپنی کا عروج !

مشہورِ زمانہ، یا رسوائے زمانہ، ایسٹ انڈیا کمپنی، جس کی تاسیس ملکہ الزبتھ اول کے سنہرے دور میں سولہوی صدی کے آغاز میں ہوئی تھی، اس کا تعلق برصغیر ہند و پاک سے تعلق تاریخی ہی نہیں بلکہ تاریخ ساز بھی ہے!جس دور میں یہ تجارتی کمپنی قائم ہوئی وہ ہندوستان میں اکبر اعظم کا دورِ عروج تھا جب ہندوستان دنیا کا سب سے مالدار ملک تھا اور دنیا کی مجموعی صنعتی پیداوار کا ایک چوتھائی سے زیادہ ہندوستان سے متعلق تھا۔یورپ میں اس دور میں صنعتی ترقی شروع ہوچکی تھی اور یورپ کی سامراجی قوتیں اپنی مصنوعات کیلئے منڈیاں تلاش کر رہی تھیں اور اس کے ساتھ ساتھ کمزور ممالک پر اپنا تسلط جمانے کیلئے بھی پر پرزے نکال رہی تھیں۔ ہندوستان کی طرف اس کی عالمی شہرت کے سبب یورپ کی حریصانہ نظریں لگی ہوئی تھیں۔یورپ کی اس سامراجی دوڑ میں ایسٹ انڈیا کمپنی ہندوستان میں اپنی تجارت کو فروغ دینے کیلئے بنائی گئی تھی۔ ظاہر ہے کہ مغلیہ سلطنت کا وہ نصف النہار تھا جس میں ہندوستان پر قبضہ کرنے کا خواب دیوانے کا خواب ہوسکتا تھا اسلئے کہ مغلیہ سلطنت کی عسکری طاقت سے دنیا واقف تھی!تو ایسٹ انڈیا کمپنی کے تاجر ہندوستان میں اس دور میں آنا شروع ہوئے جب یہاں شہنشاہ جہانگیر کی حکمرانی تھی اور شہنشاہ نے اپنی فیاضی میں ایسٹ انڈیا کمپنی کو تجارت کیلئے مراعات دے دیں۔ ان مراعات سے فرنگیوں نے بھرپور فائدہ حاصل کیا لیکن ان کی حریص نظریں ہندوستان کے سیاسی حالات پر بھی اسی مستعدی کے ساتھ لگی ہوئی تھیں جس مستعدی اور عیاری سے وہ ہندوستان میں اپنی تجارت کو فروغ دینے کا کام کر رہے تھے!اس کے بعد ایسٹ انڈیا کمپنی نے جس طرح پر پرزے نکالے وہ ہماری برصغیر کی تاریخ ہے جسے دہرانے کی یہاں کوئی ضرورت نہیں۔ لیکن ایک بات جس کا ہمارے پاکستان سے خصوصا” بہت گہرا تعلق ہے وہ یہ کہ ایک تجارتی کمپنی جس کی کارکردگی معیشت اور تجارت کے شعبوں تک محدود رہنی چاہئے تھی وہ بہت جلد ہندوستان میں فرنگی فوج لے آئی اور پھر اس نے مقامی باشندوں پر مشتمل دیسی فوج بنائی اور 1947ء میں برصغیر کی تقسیم تک فرنگی کی وفادار رہی، خصوصا” وہ فوج جو پاکستان کے حصہ میں آئی!ایسٹ انڈیا کمپنی اور اس کے جانشین فرنگی راج کی سب سے نمایاں بات یہ رہی کہ فرنگی کی کائیاں نظر نے اپنی تمام تر توجہ اس پر مرکوز رکھی کہ ہندوستان میں جو دو سب سے بڑی قومیتیں تھیں، یعنی ہندو اور مسلمان، ان کو ایک نہ ہونے دیا جائے۔ انہیں تقسیم اور ایک دوسرے کے خلاف محاذ آرا رکھا جائے تاکہ ’’تقسیم کرو اور راج کو‘‘ کے ایجنڈا کے مطابق فرنگی راج ہندوستانیوں پر مسلط رہے، براجمان رہے اور اس میں کامیابی انہیں ان کے اندازہ سے بڑھ کر ہوئی۔ کامیابی اسلئے ہوئی کہ فرنگی سرپرستی میں برصغیر کی ہندو اکثریت کو، جو صدیوں تک مسلمانوں کے دورِ عروج میں ان کی رعیت بن کر رہی تھی، اپنے دیرینہ مسلم حاکموں کے خلاف اپنے سینوں میں پکتے ہوئے زہر کو اگلنے کا موقع مل جائے اور اسی بنیاد پر مسلمانانِ ہند میں ہندو راج کے اندیشہ کے خلاف اپنا آزاد ملک بنانے کی تحریک نے جنم لیا۔ اور جو خواب سرسید احمد خان نے انیسویں صدی کے اختتام پر دیکھا تھا، اور حکیم الامت نے وہی خواب بیسویں صدی کے تیسرے عشرہ میں بھی دیکھا اس کو تعبیر قائد اعظم محمد علی جناح نے اپنی ولولہ انگیز قائدانہ صلاحیتوں کو بھرپور طریقے سےبروئے کار لاتے ہوئے آزاد مملکت پاکستان کی صورت میں دی!یہ تمام تاریخی خلاصہ ہمیں یہاں بیان کرنے کی ضرورت اسلئے محسوس ہوئی کہ عام پاکستانیوں کا خیال یہ ہے کہ ایسٹ انڈیا کمپنی برصغیر پر فرنگی راج کے خاتمہ کے ساتھ ختم ہوگئی اور اپنا بوریا بستر لپیٹ کر تاریخ کے سینے میں دفن ہوگئی۔ یہ کہنا کہ ایسٹ انڈیا کمپنی ہندوستان اور پاکستان کے وجود میں آنے کے ساتھ ختم ہوگئی آدھا سچ ہوگا!ہاں، ہندوستان یا بھارت کی حد تک تو ختم ہوگئی اگرچہ مودی راج اپنی مسلمانوں کے خلاف زہریلی عصبیت اور نفرت سے اب اس کے تنِ مردہ میں بھارتی جنتا پارٹی کی زہریلی روح پھونکنے کی ہر ممکن کوشش کر رہی ہے لیکن جہاں تک پاک وطن کا تعلق ہے تو وہاں ایسٹ انڈیا کمپنی آج بھی زندہ ہے اور پوری آب و تاب کے ساتھ جلوہ افروز ہے!یوں جلوہ دکھارہی ہے کہ ہمارے عسکری طالع آزما اپنے کرتوت سے اسے زندہ رکھے ہوئے ہیں! آپ پوچھیں گے کہ کیسے تو آج کا کالم آپ کے اسی سوال کے جواب کیلئے مختص ہے !آپ کو اپنی تاریخ کا یہ باب تو یاد ہوگا کہ جسے ہم اپنی جنگِ آزادی کا اولین باب کہتے ہیں، یعنی 1857ء کی وہ جنگ فرنگی راج کے خلاف جسے فرنگی نے ’’غدر‘‘ کہہ کے مسلمانانِ ہند کو مطعون کرنا چاہا ، اس نے دہلی سے فرنگی راج کو بھاگنے پر مجبور کیا تھا۔ فرنگی راج نے پناہ پنجاب میں لی اور وہاں وہ سپاہی بھرتی کئے جن کی مدد سے اس نے دوبارہ دہلی پر قبضہ کیا اور وہاں سفاکانہ قتل و خون کی ہولی کھیلی!اس کے ساتھ ہی فرنگی نے ایک مفروضہ کو، یا فکشن، جنم دیا جس نے پنجابی کو برصغیر کی مارشل ریس قرار دیا اور اس فکشن کو دوام بخشا۔ اس کا عملی ثبوت یہ تھا کہ جب 1947ء کی تقسیم ہوئی تو فرنگی ہندوستان کی فوج میں اسی فیصد سے زائد کمیشنڈ افسران، جن میں مسلمان زیادہ اور سکھ کم تھے، کا تعلق پنجاب سے تھا!مختصر یہ کہ پاکستان بنانے میں ہماری فوج کے افسران کا کوئی حصہ نہیں تھا، نام کو بھی نہیں تھا لیکن ان کی سوچ من و عن وہی تھی جو فرنگی راج میں ایسٹ انڈیا کمپنی کی فوج کی تھی۔فرنگی راج میں ایسٹ انڈیا کمپنی نے فوج بعد میں استعمال کی، بعد میں بنائی ۔ اس سے پہلے اس نے سیاسی طور پہ اپنے قدم ہندوستان کی سرزمین میں جمائے۔ہمارے طالع آزماؤں نے اسی سنت پہ عمل کرتے ہوئے فوجی تنظیم کے ساتھ ساتھ تجارت اور صنعت پر بھی اپنی اجارہ داری اسی طرح قائم کی ہوئی ہے جیسے ایسٹ انڈیا کمپنی کی تھی!دنیا میں پاکستانی فوج کی مثال دوسری کوئی نہیں ملتی جو اپنی چھتری تلے اسی (80) سے زیادہ مختلف اقسام کے تجارتی اور صنعتی ادارے چلاتی ہے اور معیشت میں اس کا کردار ملک کے ہر سرمایہ دار یا کارپوریشن سے بڑھ کر ہے!لیکن ایسٹ انڈیا کمپنی اور فرنگی راج کی جو صفت ہمارے عسکری طالع آزماؤں کے کردار اور ان کے کرتوت میں سب سے نمایاں ہے وہ یہ کہ جیسے فرنگی نے ہندو اور مسلمان کی تفریق کو اپنے سینے سے لگائے رکھا تھا اور’’تقسیم کرو اور راج کرو‘‘ان کے راج کا اساسی ستون تھا اسی طرح ہمارے عسکری طالع آزماؤں نے پاکستان کی سیاسی جماعتوں کو آج تک ایک پلیٹ فارم پر قدم جمانے نہیں دیا۔ہماری تاریخ کے چار مارشل ادوار میں، جنہوں نے چالیس برس سے زائد ہمارے ملک کے سیاسی اسٹیج پر کھل کھیلا اور گذشتہ تین چار برس سے پسِ پردہ کھیل کھیلتے رہے ہیں، سیاسی محاذ پر اپنی پسند کی جماعتیں بنائیں اور جن کے متعلق انہیں ذرا سا بھی شک ہوا کہ وہ عسکری ایجنڈا کے خلاف کام کر رہی تھیں، انہیں گرانے اور معدوم کرنے کیلئے ہر وہ کام کیا جس کی ایک جمہوری معاشرہ میں کوئی جگہ نہیں ہوتی۔ اور اس ناپسندیدگی کی سب سے نمایاں مثال عمران خان کی ہے جس کی حکومت گرانے کیلئے قمر باجوہ نے کھل کے سازش کی رہنمائی کی اور آج قمر باجوہ کا جانشین، عاصم منیر، عمران کی جان کا دشمن بنا ہوا ہے اور ہر طرح کوشاں ہے کہ عمران قید و بند سے رہا نہ ہونے پائے!جس طرح ایسٹ انڈیا کمپنی نے ہندوستان میں ہندو مسلم تفریق کو ہر ممکنہ طور پہ ہوا دی اسی طرح آج عاصم منیر کا گماشتہ، محسن نقوی، اپنے سرپرست کی جانب سے پاکستان میں چار صوبوں کی جگہ متعدد صوبے بنانے کا شوشہ چھوڑ کر ان سیاسی جماعتوں میں جوتیوں میں دال بٹنے کا تماشہ دیکھ رہا ہے اور دنیا کو دکھا رہا ہے کہ عاصم منیر کے مقبوضہ پاکستان میں سیاسی جماعتیں کس طرح ایک دوسرے سے نبرد آزما ہیں ایک ایسے مسئلہ پر جس کا شوشہ عسکری طالع آزما نے اپنے ہی مرغوب سیاسی گماشتوں اور کٹھ پتلیوں کو ایک دوسرے کا دشمن بنانے کیلئے چھوڑا ہے !ایسٹ انڈیا کمپنی اور فرنگی راج نے ہندو مسلم تفریق کو جیسے اپنا کلیدی ستون بنایا تھا اسی کے مصداق ہمارے عسکری طالع آزماؤں کی بائیبل یہ رہی ہے کہ پاکستان میں جمہوریت کو پروان نہ چڑھنے دیا جائے۔عسکری آمروں نے جمہوریت کو اپنا سب سے بڑا دشمن گردانا اور اس کا بیج پاکستان کی سرزمین پر کبھی پروان نہیں چڑھنے دیا ۔ جمہوریت کا مذاق بنادیا ان عسکری آمروں نے۔ ایوب خان، جو عاصم منیر کی طرح خود ساختہ فیلڈ مارشل بن گئے تھے، انہوں نے ’’بنیادی جمہوریت‘‘ کا بت تراشا جو ان کی سیاسی رحلت کے ساتھ ہی رخصت ہوگیا!ضیاء الحق، جن کی برسی 17 اگست کو ہے، انہیں جمہوریت سے وہ پرخاش تھی کہ انہوں نے اپنی سرپرستی میں جو انتخابات کروائے وہ غیر جماعتی بنیاد پر تھے۔ وہی اپنی’’ مجلسِ شوریٰ ‘‘کے موجد تھے جو ان کی فضائی حادثہ میں ناگہانی رحلت سے پہلے ہی دم توڑ چکی تھی!لیکن عسکری آمر عاصم منیر پاکستان کی سیاست پر اپنی آہنی گرفت کو نرم کرنے کیلئے کسی طور تیار نہیں ہے۔ موجودہ مخلوط سیاسی نظام کو، جسے عرفِ عام میں’’ہائبرڈ‘‘ نظام کہا جاتا ہے، وہ اب خود لپیٹنے کیلئے کمر بستہ نظر آتا ہے اور اسی کے ایماء پر اس کے گماشتہ محسن نقوی نے یہ بیان داغا ہے کہ پاکستان کا موجودہ نظام، بقول اس کے، ڈھے چکا ہے، مہندم ہوگیا ہے، اپنی آخری سانسیں لے رہا ہے !بساطِ سیاست پر یہ عسکری آمر عاصم منیر کی تازہ چال ہے۔ اس کا مقصد اس برائے نام پارلیمانی نظام کو لپیٹ کر ایوب خان والا صدارتی نظام پھر رائج کرنا مقصود ہے۔دنیا کی تاریخ میں عاصم منیر وہ پہلا سپہ سالار ہے جس نے خود کو تاحیات کسی مواخذہ اور احتساب سے استنثیٰ دے دیا ہے۔ اب تازہ ترین حربہ اور چال ملک کا تا حیات صدر بننے کیلئے چلی گئی ہے۔ پاکستان عسکری طالع آزماؤں کا مقبوضہ ملک ہے جس میں وہ اپنی انا کی تسکین کیلئے نت نئے تجربے کرتے رہتے ہیں اور پاکستانی عوام کی مثالی بے حسی سے استفادہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔پاکستان کے عوام کی بے حسی تو شاید صور پھونکنے کے بعد بھی طاری رہے گی اور یہی وہ صفت ہے جس سے ایسٹ انڈیا کمپنی کے معنوی جانشین استفادہ کرتے رہے ہیں اور کرتے رہینگے!
پاکستان نے چودہ اگست کو اپنی’’ آزادی‘‘ کی اُناسی ویں (79ویں) سالگرہ منائی ہے۔ لیکن یہ آزادی بس نام کی ہے ورنہ پاکستان فرنگی کے تسلط سے آزاد ہوا تو ایسٹ انڈیا کمپنی کے جانشینوں کی غلامی میں چلا گیا اور یہ غلامی آجتک قائم و دائم ہے۔ ایسٹ انڈیا کمپنی پاکستان کے عسکری طالع آزماؤں اور آمروں کے دم قدم سے آج بھی زندہ ہے اور نہ جانے اس کی حیات کا سلسلہ کب تک جاری رہے گا!تو یہ قطعہ پڑھئے اور اس گنہگار کو اجازت دیجئے:
یومِ آزادی تو ہے بس نام کا
ورنہ ہر آزادی پہ پہرے لگے
ہاتھ لکھ سکتے نہیں جو لب پہ ہے
اور زبانوں پر بہت تالے پڑے !



