Select Language:
Urdu / English /Spanish / Bengali / Hindi
ہفتہ وار کالمز

میرا کراچی!

درویش کی کتاب ۔میرا داغستان۔ پڑھی تو ایک خیال اُبھرا کہ کوئی اپنے علاقے سے اتنی محبت کر سکتا ہے،مگر لوگ کرتے ہیں،اور بے انداز پیار کرتے ہیں صرف اس لئے کہ وہ علاقہ ان کی جائے پیدائش ہے وہاں کے لوگ،وہاں کا ماحول، زبان، رسوم و روایات،،کسی نے کہا تھا کہ جو لوگ اپنی ماں سے محبت کرتے ہیں وہ اپنے وطن سے بھی محبت کرتے ہیں،یہ کہنے والے عام سے معصوم سے لوگ ہوتے ہیںمیرا داغستان بھی ایک عام سے شخص نے لکھی،نہ کوئی فلسفہ نہ کوئی سیاسی وابستگی،بس سادہ سی باتیں،مگرکچھ سچی باتیں کچھ سچے لوگ کہہ گئے لاکھ جھوٹ پھیلے مگر سچ اپنا چہرہ اپنی ہتھیلی پر رکھے جھوٹ پر خندہ زن ہی رہتا ہے سو ہزاروں سال پہلے ارسطو نے کہا تھا کہ جس ملک سے نوجوانوں کا مستقبل اُٹھ جاتا ہے وہاں سے حب الوطنی اُٹھ جاتی ہے،پتہ نہیں ہزاروں سال پہلے جب رزق پاؤں سے لپٹا رہتا تھا زندگی آسان تھی ارسطو کے ذہن میں نوجوانوں کے مستقبل کی بات کیسے آگئی،یونان کی تاریخ بھی پڑھی ،سیاسی ابتری کے واقعات بھی پڑھے،چھوٹی موٹی بغاوتوں کی باتیں بھی کچھ ہجرتیں بھی، مگر ایسا کوئی سراغ نہیں ملا کہ یونان کا نوجوان یونان کے مستقبل سے مایوس ہو گیا ہو اور اس کی حب الوطنی میں دراڑ پڑ گئی ہو اور یہ بھی تو ہے کہ اس زمانے میںحب الوطنی کی کوئی سیاسی تعریف نہیں کی گئی،کم از کم میرے ناقص مطالعے میں ایسی کوئی بات نہیںمیرے بچپن میں ابھی کھانا اور کھیلنا ہی اہم تھا کہ ہم نے ہندوستان سے ہجرت کی،ریل کے سفر کی بہت خوشی،ٹانگہ، ریلوے اسٹیشن، دیو ہیکل ریل گاڑی ، اس کی تیز سیٹی، ریل کے چلنے کی آواز،پٹریاں،سبھی کچھ نیا تھا ،ریل کا گارڈ ہری سرخ جھنڈیاں،کوئی گاڑی اسٹیشن سے نکلتی تو گارڈ ہری جھنڈی ہلاتاتو سوچتے اس نے سرخ جھنڈی کیوں نہیں ہلائی،ریلوے اسٹیشن پر باسی کھانا بھی ایک عیاشی ہی تھی،ہاں جب ہم کسی ریلوے اسٹیشن کے waiting roomمیں ہوتے تو دروازے بند کر لئے جاتے تھے اور لوگوں کے چہروں پر گھبراہٹ،مگر گھبراہٹ سے سہم جاتے،مگر یہ سمجھ نہیں آیا کہ لوگ گھبرائے ہوئے کیوں ہیں،گھبراہٹ بھی عجیب سی تھی، کچھ کھسر پھسر ہوتی تھی اب اس گھبراہٹ کو یاد کرتے ہیں تو ہنسی آتی ہے کہ ہمارے بچپن میں لوگوں کو گھبرانا بھی نہیں آتا تھاوہ گھبراہٹ بہت مضحکہ خیز تھی، پھر ریل کے ڈبے میں بیٹھے تو اسی بات پر خوب ہنسے کہ جس میں بیٹھے ہیں وہ ڈبہ ہے ریل کا ڈبہ ،ہمارے گھر میں تو ڈبے کچھ اور ہی تھے ریل کے ڈبے میں کھڑکی سے جھانکنے کا مزا ہی الگ ہوتا ہے ہمیں یاد ہے کہ ریل کے اندر موجود کچھ ڈنڈا بردار لوگوں نے یہ حکم صادر کر دیا تھاکہ کھڑکیاں نہ کھولی جائیں،ڈبے کے اندر سارے مرد یا تو سہمے ہوئے یا گھبرائے ہوئے اور ساری عورتیں دعائیں کرتی ہوئی ،برا نہ مانیں اور مجھے کہنے دیں،کہ اس دوران مجھے اور کچھ یاد نہیںہاں اپنی ماں سے ٹافیاں مانگنا یاد ہے مجھے نہیں معلوم کہ اس ماحول میں مجھے ٹافیاں کیوں یاد آرہی تھی یہ جو یادوں کا سلسلہ چل پڑا ہے نا وہ نہ رکنے والا ہے اور میں اپنے موضوع سے ہٹ جاؤنگاتو بات ہو رہی تھی پہلی ہجرت کی،وہ ہجرت میرا آدھا بچپن کھا گئی،اور آدھا بچپن یہ سنتے گزر گیا کہ ہجرت کیوں کی کیا کھویا کیا پایا، چند سال راولپنڈی میں قیام رہا ،یہ میرا ہی چغدپن تھا کہ میں پنجابی زبان نہ سیکھ سکالہٰذا راولپنڈی کا لطف ادھورا رہ گیامگر میرے اس چغد پن نے میرا لہجہ بچا لیا،کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ راولپنڈی کے قیام کے دوران میں نے سوچنا نہیں سیکھا،یا سوچنے کاوقت نہیں ملا،یا شاید سوچنے کے لئے جن عوامل کا ہونا ضروری ہے وہ عوامل ہی متحرک نہ ہو سکے،کہا جاتا ہے کہ مسائل ہوں تو سوچا جاتا ہے اس دوران میرا سب سے بڑا مسئلہ اپنے والد گرامی کی مار سے بچنا تھااور ماشا اللہ انہوں نے ثواب کمانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا،میرا خیال ہے کہ ان کا ایمان تھا کہ بچوںکی دھنائی،کٹائی، دھلائی کر کے ثواب دارین ملتا ہے اور رزق میں فراخی ملتی ہے،اسی لئے وہ ہماری ٹھکائی کرکے بہت خشوع و خضوع کے ساتھ کھانا تناول کرتے تھے،دو ایک سال کوہاٹ میں گزارے اور پھر کراچی کا رخ کیا،گویاسترہ سال کی عمر تک میں ایک بڑی اور تین چھوٹی چھوٹی ہجرتیں کر چکا تھاکراچی آیا تو مسائل نے سر اٹھانا شروع کیا،پہلی بار مسائل سے نمٹنے کے طریقے ڈھونڈنے پڑے،تعلیم مکمل کرنا اورپیٹ پالنا اہم مسائل تھے،وہ جیسے تیسے نمٹائے جاتے رہے ،تعلیم جاری رہی کبھی پیٹ بھر کر ملا کبھی نہیں ملا،مگر اخبارات،رسائل اور کتابوں سے مضبوط رشتہ قائم ہو گیا،کراچی میں یہ سہولت بھی میسر تھی کہ ایک کپ چائے پر ایک گھنٹہ گفتگو کی جا سکتی تھی،راولپنڈی میں یہ آزادی میسر نہ تھی کتابوں پر گفتگو سے آغاز ہوااور پھر خبروں پر بات ہونے لگی ،اس ترتیب کا فائدہ ہوا کہ فضول جذباتی گفتگو کی گنجائش ہی نہ رہی،کراچی کی زندگی میں طلباء سیاست سے اجتناب کیا ہی نہیں جا سکتا،مجھے ہڑتالوں سے ہمیشہ ہی الرجی رہی،لوگ سمجھاتے تھے کہ جب تک شہر کا امن درہم برہم نہیں ہوگا حکومت مسائل پر کان نہیں دھرے گی،اور ہم کہا کرتے تھے کہ پیٹرول پمپ جلانے سے مسائل حل نہیں ہونگے،ہم نے کالج کے زمانے سے مزدورانجمنوں کے اجلاس میں جانا شروع کر دیا تھا اور حیرت ہوتی تھی کہ کراچی کے مزدور لیڈروں کا کمیونزم کا مطالعہ قابلِ رشک تھا کبھی کبھی تو ان کے سیاسی تجزئیے کالج اور جامعہ کے استادوں سے بہتر اور قابلِ عمل ہوتے تھے،سیاسی جماعتوں کے اجلاس میں بھی گئے مگر یقین ہو گیا کہ ان اجلاسوں میں سیاست دان کم اور لپاڑیئے زیادہ تھے اور زیادہ تر رجحان غنڈہ گردی کی جانب تھا،سیاسی جماعتوں میں ٹھیکیدار آنے لگے تھے،بعد میں یہ بات کھلی کہ ٹھیکیدار سیاست دان اس لئے بن جاتے ہیں کہ کرپشن چھپائی جا سکے،ہم نے دیکھا کہ جب کسی ٹھیکیدار کے ٹھیکے میں گھپلا ہوتا اور پکڑا جاتا تو دوسرے دن کے ڈی اے کے خلاف ایک بڑی خبر لگی ہوئی ہوتی تھی،گویا سیاست ٹھیکیدار کی کرپشن کی face saving تھی اور یہ سلسلہ جاری ہے ابھی تک گریجوئشن سے لاء کالج اور یونی ورسٹی تک ذاتی زندگی مسائل کا شکار رہی،مگر کراچی ہمیشہ سینے سے لگاتا،تسلی دیتا، بہلاتا رہا، اور ہم بہلتے رہے،جیب میں چند سکے ہوتے تو سنیما کا رخ کر لیتے،کوئی اچھی سی فلم،اس زمانے میں انڈین فلمیں سنیما ہاؤس میں لگتی تھیں اچھی لگتی تھیں ،وقت ملتا تو دیکھ لیتے تھے،میں نے پاکستانی فلمیں بھی دیکھیں ہیں میرا خیال ہے کہ انڈین فلموں میں سبجیکٹ کا treatment کہیں بہتر ہوتا تھا،جیب میں پیسے نہ ہوتے تو ریڈیو پاکستان کا رخ کرتے،نہ کوئی جان نہ پہچان مگر بڑے شاعروں کو دیکھ کر ہی جی خوش ہو جاتا ایک دن ریڈیو پاکستان گیا تو سلیم احمد نے پکڑ لیاسخت لہجے میں پوچھا کیوں آئے ہو،گڑبڑا گیا،ہاتھ پکڑ کر تقریباً کھینچتے ہوئے ایک کمرے میں لے گئے،سامنے دو میزیں ایک پر قمر جمیل اور دوسری پر احمد ہمدانی،سلیم احمد چائے کا آرڈر دے کر چلے گئے چند منٹ گنگ بیٹھا رہا قمر جمیل نے آہستگی سے کہا ’’کیا گونگے ہو‘‘احمد ہمدانی نے نظر ڈالی اور چائے سے شغل فرمانے لگے ْقمر جمیل نے کہا چائے پیو اور جاؤ،سو چائے پی اور نکل آیا،قمر جمیل پیچھے پیچھے آئے اور اپنی کتاب دی اور کہا کتاب ختم کر لو تو واپس آنا، مجھے ان پڑھے لکھے لوگوں سے خوف آنے لگا تھا ،اس خوف کو کم کرنے کے لئے مباحثوں اور مشاعروں میں جانا شروع کر دیا،ایک مشاعرے میں قمر جمیل سے ملاقات ہو گئی کہنے لگے کتاب پڑھ لی،میں نے کہا بہت مشکل ہے کہنے لگے کل ریڈیو پاکستان آناتم چائے بھی پلاؤگے،میں نے کہا چائے کے پیسے ہوتے تو مباحثے میں کیوں آتا، ہونق بن کر میرا منہ تکنے لگے،کہنے لگے اچھا تو پھر چائے اور زیرے والے بسکٹ میری طرف سے ،دوسرے دن ڈرتا ڈرتا پہنچا نہ چائے نہ بسکٹ ایک خط پکڑا دیا کہ یہ جنگ اخبار میں شفیع عقیل کو پہنچا دینا،پھر میں شفیع عقیل کا ہوکر رہ گیا،ہوٹلوں اور ریستورانوں میں شعراء اور ادیبوں کے غول ،باتیں سننے میں مزا آتا مگر مفت کی چائے پینا گناہ لگتا تھا،کراچی سکھاتا رہا اور ہم سیکھتے گئے،یہ تھا غریب پرور کراچی،امن کا گہوارا،کھلی سڑکیں،سماجی آزادی،بہت سی خوشیاں کم فساد،رات گئے تک نہ خوف نہ ڈر،جنرل ضیا کا دور آیا تو لگا کہ پاکستان پر عذاب نازل ہوگا، اس عذاب سے پہلے ہی ایک اور ہجرت،میں امریکہ چلا آیاخدا نے ایم کیو ایم کا دور دیکھنے سے بچا لیا،وہ تیس سال کراچی کے لئے ڈرواؤنا خواب تھے اب اٹھارہ سال سے پی پی پی،میں نے بے نظیر دور میں پی پی پی کی بہت حمائیت کی،بے نظیر سے ملا ہوں خود ساختہ جلا وطنی میں چہرے پر ہوائیاں،وہ وقت بھی آیا کہ وہ ایک ٹوٹی کرولامیں state department کے ایک جونئیر افسر سے ملنے گئیں تھیں،کراچی کو 48سال سے اس کے اپنے ڈستے رہے،اب نہ سڑکیں، نہ بجلی نہ گیس، نہ سماجی آزادی، مدرسوں میںبچوں بچیوں کے ریپ،جرائم، خوف و ہراس،بارش ہو تو گندے نالے ابل پڑیں،بے ہنگم ٹریفک،جہالت،غنڈہ گردی،آج کل تین کیس ،انمول پنکی کا جس کو عدالت نے چھوڑ دیااس کی حمایت پر چھتیس سیاست دان ہیں جو ڈرگز کے گاہک تھے،ایک میر رضا قتل کیس جس کو پولیس نے خودکشی بنانے کی کوشش کی، ایک شازیہ مری کی جعلی ڈگری کاکیس جس پر فیصلہ تیرہ سال بعد آیا،شرجیل میمن،سعید غنی اور ناصر شاہ کراچی کو کنٹرول کرتے ہیں،کراچی کو نظر اندازکرتے ہیں زخم لگاتے ہیں اور نمک چھڑکتے ہیں،کراچی کھنڈر بن چکا ہے،کراچی جس میں دبئی بننے کا potentialہے، مگر اس بارے میںکون سوچے،ایم کیو ایم سدا کی بلیک میلر ،جب پریشر ڈالنا ہوتا ہے تو حکومت سے نکلنے کی دھمکی دیتے ہیں سندھ حکومت سے مراعات چاہیئے تو کراچی صوبے کی بات کرتے ہیں،کراچی وہ نہ رہا جو روشنیوں کا شہر تھا جو ساری رات جاگتا تھا،یہ شہر پانی کے قطرے قطرے کو ترستا ہے ،روشنی مانگتا ہے، بجلی اور گیس کی بھیک مانگتا ہے،اور کوئی شنوائی نہیں۔

 

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button