Select Language:
Urdu / English /Spanish / Bengali / Hindi
ہفتہ وار کالمز

کیا مکہ کا دفاعی معاہدہ اچھی خبر ہے؟

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے معاہدہ کر لیا ہے کہ کسی ایک پر حملہ ان تینوں پر حملہ تصور کیا جائے گالیکن اس معاہدہ میں کوئی وضاحت کے ساتھ کھل کر بات نہیں کی گئی ہے کہ کب اور کیسے؟روئیٹر نے جنوری میں اس معاہدے کا ذکر کیا تھا کہ ایک سال سے اس پر بات چیت چل رہی تھی۔7اگست 2026 کو مکہ میں ترکیہ،پاکستان اور سعودی عرب نے ایک مشترکہ دفاعی معاہدہ پر دستخط کئے۔اس معاہدہ نے تین سنی مسلمان ملکوں کو، جو امریکہ کے اتحادی بھی ہیں، اکٹھا کر دیا۔یہ اس لیے ہوا کہ گلف کے تیل کی برآمدات کرنے والے ملک، ایران کی میزائل کے حملوں کی زد میں آگئے تھے۔ایسا معاہدہ کوئی اچنبے کی بات نہیں۔ جب سے ایران، عزرائیل اور امریکہ کی جنگ شروع ہوئی ہے، ان کے ہمسایہ ملکوں کو فکر پڑ گئی ہے کہ اب ان پر میزائل گرے ۔ ایران دراصل اپنے ہمسایہ ملکوں کے خلاف نہیں ہے ۔ وہ ان ملکوں میں امریکی فوجی اڈوں کے خلاف ہے۔ یہ تو سیدھی سی منطق ہے کہ اگر امریکہ ایران پر حملے کرے گا تو ایران اس کے اڈوں پر حملے کرے گا۔ایران نے اگر سعودی عرب پر حملہ کیا تو وہ سعودیہ کے مفادات پر نہیں امریکی سفارت خانے پر تھا۔اسی طرح ایران کے سب حملے امریکی اڈوں پر تھے جو گلف کے ممالک نے بنوا رکھے تھے۔البتہ متحدہ امارات کی نوعیت دوسری ہے۔ وہ ملک عزرائیل کا قریبی دوست ہے اور عزرائیل کے مفادات اور اس کے مفادات ایک ہیں۔ایسا سمجھنا چاہیے کہ یو اے ای عزرائیل کی ایک ذیلی ریاست ہے۔اس لیے اگر عزرائیل نے یو اے ای پر کچھ میزائل داغے تو تھے مگر وہ تو امریکی اڈوں پر تھے لیکن اس کا نقصا ن عزرائیل کو بھی ہوتا ہو گا۔یو اے ای کو اپنا حلیف بنا کر عزرائیل نے عرب مسلمانوں کی پیٹھ میں چھرا گھونپ دیا ہے۔یہ ایک دن میں نہیں ہوا۔ اس پر کئی سال کی محنت نظر آتی ہے۔ راقم کی نظر میں اس میں کوئی شک نہیں کہ عزرائیل کے نیتن یاہو نے اعلان کر دیا تھا کہ وہ اب ترکی کو اپنا بڑا دشمن سمجھتے ہیں اور ترکی پر حملہ کریں گے، اس معاہدے کے محرکات میں اسے ایک اہم محرک سمجھا جا سکتا ہے۔ ترکی اگرچہ نیٹو کا رکن ہے لیکن اگر عزرائیل نے اس پر حملہ کیا تو نیٹو ممالک اس کی مدد پر نہیں آئیں گے، کسی بھی حیلے بہانے سے۔عزرائیل بھی یہ جانتا ہے۔اگر نیٹو کا آنا بنتا بھی ہو گا تو عزرائیل اپنے پہلے حملوں میں ہی اتنا نقصان کر دے گا کہ ترکیہ جواب دینے کی قابل ہی نہیں رہے گا۔ خدا نہ کرے۔لیکن اب اس معاہدے کے بعد عزرائیل کو دو دفعہ سوچنا پڑے گا کہ اگر اس نے ترکی پر حملہ کیا تو اس پر پاکستان، سعودیہ اور ترکی تینوں حملہ کرسکیں گے۔اس وجہ سے وہ حملہ کرنے سے باز رہ سکتا ہے۔ اور یہی اس معاہدہ کا مقصد ہے۔سوال یہ ہے کہ پاکستان کس خوشی میںاس معاہدے میں شامل ہو گیا ہے؟ وہ تو ان میں سے کسی کا ہمسایہ بھی نہیں ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ یہ دونوں ملک پاکستان کے خیر خواہ ہیں۔سعودی عرب کا کردار پاکستان کے حق میں انتہائی اہم ہے۔ پاکستان کو انتہائی مشکل وقت میں، سعودیہ نے قرضہ دیا۔ وہ اسے کم قیمت پر یا مفت تیل بھی دیتا رہا ہے۔ پاکستان سعودیہ کو فوجی امداد دیتا ہے، جو مفت نہیں ہوتی۔اب بھی غالباً پاکستان جو فوجی کمک دے گا، وہ اسی خیال سے کہ سعودی اس کی اچھی اُجرت دے گا۔پاکستان کے جو فوجی سعودیہ میں تعینات ہیں ان کی تنخواہ بھی سعودیہ کے ذمہ ہو گی۔ اس طرح پاکستانی جرنیل فوجیوں کو خوش کرتے ہیں۔ اور ان کی حمایت حاصل کرتے ہیں۔سعودیوں کو فوجی دینے کے علاوہ ہزاروں فوجی اقوام متحدہ کی امن فوج میں بھی کام کرتے ہیں۔ یہ بھی ایک انعامی پوسٹ ہوتی ہے،جس کا فائدہ جرنیل اٹھاتے ہیں۔پاکستان کے وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل نے جب ایک سال پہلے سعودیہ کے ساتھ معاہدہ کیا، تو اس کی تفصیلات نہ تو پبلک کے ساتھ اور نہ قومی اسمبلی کے ساتھ بانٹیں۔ پاکستانیوں کو نہیں پتہ کہ وہ کس قسم کی شرائط میں بندھ گئے ہیں۔اور اب بھی یہی معاملہ ہے کہ پاکستان کی مقننہ اور عوام کسی کو نہیں پتہ کہ وزیر اعظم نے پاکستانیوں کو کن حالات میں ڈال دیا ہے؟ یہ دنیا کا دستور ہے کہ جب ایسے معاہدے کئے جاتے ہیں وہ ایک مقررہ مدت میں اس ملک کی پارلیمنٹ سے منظور کروائے جاتے ہیں۔ پاکستان میں ایسا کوئی دستور نظر نہیں آتا۔ اس صورت میںپاکستان جب چاہے تو معاہدے پر سے عمل درآمدسے انکار کر سکتا ہے؟ آئیے۔ اب ذرا اے آئی سے پوچھیں کہ کیا ہوا؟
’’ایران اور اس کے حلیف سعودی عرب اور گلف کی ریاستوں پر میزائیل داغ رہے تھے۔اور ان کی تیل کی فروخت کو روک رہے تھے، ۲۸ فروری سے عزرائیل اور امریکہ نے ، برسوں کی چپقلشوں کے بعد،ایران پر تابڑ توڑ حملے کیے۔ یہ واقعہ اتفاقاً نہیں تھا بلکہ سال ہا سال سے امریکہ اور ایران میں مخاصمت چل رہی تھی۔لیکن اس کی پہل عزرائیل نے کی۔مکہ کامشترکہ دفاعی معاہدہ کا مقصد کسی بھی جارحانہ حملہ کے سد باب کے لیے یہ وعدہ کیا گیا ہے کہ ان میں سے کسی ایک پر بھی جنگ مسلط کی گئی تو وہ ان تینوں ممالک پر تصور کی جائے گی۔البتہ اس بیانیہ میں واضح تفصیلات نہیں دی گئی ہیں۔نہ ہی یہ پتہ چلتا ہے کہ اس معاہدہ کے مطابق فریقین کس حد تک جائیں گے؟ترکیہ کے نائب صدر سعادت الماز کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ کسی خاص ملک کے خلاف نہیں۔ ایک اور ترکی عہدیدار نے کہا کہ یہ معاہدہ خالصتاً دفاعی ہے اور کسی ایسے معاہدے کی نفی نہیں کرتا جو ان ممالک کا کسی اور ملک کے ساتھ ہو۔بظاہر ان تینوں ممالک کو ایران اور عزرائیل کے بڑھتی ہوئی جارحانہ فوجی کاروائیوں سے خدشات ہیں۔جب کہ ان تینوں کا دوست ملک امریکہ اس خطہ میں امن کی بحالی کے لیے کوشاں ہے۔(اگرچہ حقیقتاً امریکہ نہ صرف عزرائیل کا حمائتی ہے، اس کے ساتھ ملکر ایران پر حملہ آور بھی ہے)۔اس لیے کہ اس جنگ میں دنیا میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔اور ایک معاشی بحران پیدا ہو گیا ہے۔ سعودی تھنک ٹینک، گلف ریسرچ سینٹر کے صدر عبدالعزیز ساگر کا کہنا ہے کہ یہ معنی خیز ہے کہ دنیا کی تین اہم اسلامی ریاستیں عزرائیل اور ایران کی جنگ کے وقت اکٹھی ہو رہی ہیں۔جو اس بات کا مظہر ہے کہ خطہ کے حالات بگڑنے سے مسلم ریاستیں خاموش نہیں بیٹھیں گی۔’’ یہ سہ جہتی گروہ اتحاد ان تینوں ملکوں کی مجموعی سفارت کاری اور دفاع کو مضبوط بنائے گا۔ نیٹو میں، ترکیہ کی فوج دوسری سب سے بڑی ہے۔سعودی عرب اسلام کی مقدس ترین جگہ کا گھر ہے۔اور تیل کی برآمد کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ اور پاکستان اسلامی دنیا کی اکلوتی ایٹمی طاقت ہے۔لیکن راید کریملی، سعودی حکومت کے پبلک سفارتکاری کے نائب وزیر، نے سوشل میڈیا میں کہا کہ یہ معاہدہ نہ تو کوئی فوجی گٹھ جوڑ ہے اور نہ ہی کوئی مذہبی اتحاد۔اور نہ ہی کسی ایٹمی منصوبہ سے متعلق ہے، نا ہتھیاروں کی دوڑ کا حصہ۔‘‘اگرچہ پاکستان نے گذشتہ سال سعودی عرب سے ایک معاہدہ کیا تھا، اس نے ایران کے سعودیہ پر حملوں کا جواب نہیں دیا۔ پاکستان نے اس خیال کا بھی کوئی جواب نہیں دیاکہ اس کے ایٹمی ہتھیاردوست ممالک کے لیے بھی ہیں؟۔پاکستان اور ترکیہ دونوں نے سمندری راستوں کے دفاع کے لیے سعودی عرب کا ساتھ دینے کا کہا ہے تا کہ علاقائی جہاز رانی اور توانائی کے راستے کھلے رہیں۔ مشرق وسطیٰ تین سال سے جنگ کی آگ میں لپٹا ہوا ہے، جو غزہ میں عزرائیل نے حماس کے خلاف شروع کی۔ اس نے جنوبی لبنان پر بھی چڑھائی کی، اور شام کے علاقے بھی چھین لیے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس نے ایران پر دو دفعہ فضائی حملے کیے۔ تہران نے سعودی عرب پر بھی بمباری کی، اور کویت، بحرین، قطر، متحدہ امارات، عمان، اردن اور عزرائیل پر میزئیل داغے۔ان حالات میں ترکیہ اور پاکستان مشرق وسطیٰ کی ہمسائیگی میں رہتے ہوئے اس جنگ سے بچے رہے، لیکن دونوں ایران میں جنگ پر تشویش رکھتے ہیں کیونکہ یہ آگ ان تک بھی پہنچ سکتی ہے۔سعودی عرب کی تیل کی تجارت میں، اور اس کے ترقیاتی منصوبوں میں ان تین سالوں میںخاصا نقصان پہنچا ہے، اس کے ساتھ سعودیہ کو اپنے امریکہ کے ساتھ گہرے تعلقات کی نوعیت پر بھی اندازہ ہو گیا ہے۔ایک محقق کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ ایران کی خطہ میں برتری کو ہموار کرنے کے لیے بھی کیا گیا ہے۔اور اسرائیل کی جارحیت کو روکنے کے لیے بھی، بجائے اس کے ایران کے خلاف محاذ آرائی کی جاتی۔پاکستان نے کئی دہائیوں سے سعودیہ کی افواج کو تربیت اور ٹیکنیکل سہولیات دی ہیں۔ادھر ترکیہ اور پاکستان نے نیوی کے لڑاکا جہاز اور تربیتی جہازوں کے تبادلے کیے ہیں ۔ سعودیہ نے ترکیہ سے ڈرون خریدے ہیں۔ اب تک پاکستان نے آٹھ ہزار فوجی، لڑاکا طیارے،ڈرون، اور ہوائی حملوں سے بچائو کے نظام سعودیہ کو دیئے ہیں۔ اور کویت کے ساتھ سعودیہ کے لیے مذاکرات کئے جو توانائی میں سرمایہ کاری اور تعاون بڑھاتے ہیں۔ایک خبر کے مطابق عزرائیلی وزیر اعظم نے اس معاہدے پر اپنے تاثرات دینے سے انکار کر دیا۔بھارتی حکومتی ترجمان نے کہا کہ وہ اس صورت حال کا جائزہ لے رہے ہیں اور ایران نے فوری کوئی تاثر نہیں دیا۔ صدر ٹرمپ کو معلوم ہے کہ ایران کے پاس ایسے کوئی ہتھیار نہیں ہیں جو امریکہ کی سرزمین تک پہنچ سکیں۔وہ جو چاہے ایران پر پھینک سکتا ہے۔لیکن مسئلہ کچھ اور ہے۔ وہ گلف کی ریاستیں جہاں امریکہ نے اپنے اڈے بنا رکھے ہیں، وہ خاصی خوشحال ہیں اور انہوں نے اپنے علاقوں میں زبردست ترقی کی ہوئی ہے۔ ان کے شہر یورپ اور امریکہ کے شہروں سے کم نہیں۔ لیکن اب وہ سب ایران کی میزائیلوں کی زد میں ہیں۔ اس لیے یہ گلف کے ممالک ٹرمپ کے آگے ہاتھ جوڑتے ہیں کہ وہ ایران پر اور بم نہ برسائے کیونکہ ایران پھر ان پر بم مارے گا اور ان کا بیڑا غرق ہو جائے گا۔ سب سے زیادہ انہیں اپنے پانی صاف کرنے کے پلانٹس کی فکر ہے اگر وہ ایران نے تباہ کر دیئے تو یہ ننھے منے ملک پیاس سے مر جائیں گے۔اس لیے ٹرمپ بہادر کو ایران پر جنگ روکنی پڑتی ہے۔ورنہ تو وہ ایران کا نام نشان مٹانے کے لیے تیار تھا۔ اور یو اے ای میں تو عزرائیل کے مفادات بھی ہیں۔پاکستان بڑھ بڑھ کر سعودی عرب کے وارے نیارے جا رہا ہے۔شہباز شریف صاف نظر آتا ہے کہ بادشاہ کے سامنے بچھے جا رہے ہیں۔ لیکن بادشاہ بھی کچی گولیا ںنہیں کھیلا ہوا۔ اسے شہباز شریف کی دکھتی رگ کا بھی پتہ ہے اورخواہشات کا بھی۔ وہ بھی جب تک پاکستان کے خون کا آخر ی قطرہ نہیں نچوڑ لے گا، ایک دھیلہ نہیں دے گا۔یہ دنیا بڑی ظالم ہے۔ جب تک آپ اپنا گھر خود صاف نہیں کریں گے، باہر والے وہاں تھوکیں گے بھی نہیں۔آخر میں اس معاہدے کے ایک اچھے پہلو کی طرف آتے ہیں۔ اپنے گذشتہ کالم میں راقم نے عرض کیا تھا کہ مسلمان ملکوں کو چاہیے کہ نیٹو کے ماڈل پر مسلمان ملکوں کاایک دفاعی اتحاد بنایا جائے۔ اس دفاع کا مطلب کسی ایک مسلمان ملک پر ظالمانہ حملے روکنے کی طاقت ہونی چاہیے۔ اس کی مثال وہ ظلم ہے جو اس وقت غزہ پر ہو رہا ہے۔ اب جو مکہ میں اسلامی ملکوں کا دفاعی معاہدہ ہوا ہے، یہ اس طرف پہلا قدم ہے۔ کہتے ہیں کہ امید ہے کہ مصر بھی اس اتحاد میں شامل ہو جائے گا۔ آہستہ آہستہ اس میں دوسرے اسلامی ملکوں کی شمولیت بھی ممکن بنائی گئی ہے۔ اگر اس میں دس بارہ طاقتور ملک شامل ہو جائیں تو اسلام دشمن قوتوں کو اتحادی ملکوں پر جارحانہ حملے کرنے کی جرأت نہیں ہو گی۔ اس پہلو کو مد نظر رکھیں تو مکہ کا اتحاد ایک خوشگوار پہلا قدم ہے۔

 

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button