Select Language:
Urdu / English /Spanish / Bengali / Hindi
بین الاقوامی
Trending

نیویارک سٹی کے مکان مالکان کاظہران ممدانی کے ’’پائیڈ آ ٹیئر‘‘ ٹیکس کے نفاذ کے خلاف مقدمہ

نیویارک: نیویارک سٹی کے تین مکان مالکان نے میئرظہران ممدانی اور محکمہ خزانہ کے ڈائریکٹر کے خلاف مقدمہ دائر کرتے ہوئے شہر میں نئے ’’پائیڈ آ ٹیئر‘‘ ٹیکس کے نفاذ کے طریقہ کار کو چیلنج کردیا ہے۔مقدمہ دائر کرنے والے تین افراد سائمن ہیڈلی، ریچل اوبرائن اور کارمین مورانو ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ شہر کی انتظامیہ نے ان کے گھروں کو غلط طور پر ان جائیدادوں کی فہرست میں شامل کیا جن پر ممکنہ طور پر اضافی ٹیکس عائد کیا جاسکتا ہے، حالانکہ یہ تمام گھر ان کی بنیادی اور مستقل رہائش گاہیں ہیں۔مقدمہ دائر کرنے والوں کے مطابق، شہر نے ایک ایسی ٹیکس فہرست جاری کی جس میں نیویارک سٹی کے 9 لاکھ سے زائد مکان مالکان کے نام اور پتے شامل تھے، حالانکہ ان میں سے بڑی تعداد ایسے لوگوں کی تھی جن پر یہ ٹیکس لاگو ہی نہیں ہوتا۔ مقدمے میں شہر کی جانب سے بعض رہائشیوں کو بھیجے گئے نوٹسز پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔تاہم اس مقدمے میں خود ’’پائیڈ آ ٹیئر‘‘ سرچارج یا اضافی ٹیکس کی قانونی حیثیت کو چیلنج نہیں کیا گیا، بلکہ بنیادی اعتراض اس بات پر ہے کہ شہر نے ٹیکس رول جاری کرتے وقت شہریوں کے نام اور پتے کس انداز میں شائع کیے اور ان لوگوں کو بھی ممکنہ ٹیکس دہندگان کی فہرست میں شامل کردیا جو اس ٹیکس کے دائرے میں نہیں آتے۔نیویارک سٹی کے محکمہ خزانہ کے مطابق اس فہرست میں انفرادی خاندانی مکانات کے علاوہ کوآپریٹو اور کنڈومینیم یونٹس بھی شامل ہیں۔ تاہم محکمہ خزانہ کا کہنا ہے کہ فہرست میں شامل املاک اور یونٹس کی بہت بڑی اکثریت پر یہ سرچارج عائد نہیں ہوگا۔شہر کے مطابق تقریباً 17 ہزار جائیداد مالکان کو ایسے خطوط بھیجے گئے ہیں جن میں انہیں آگاہ کیا گیا کہ ممکنہ طور پر ان کی جائیداد نئے ٹیکس کے دائرے میں آسکتی ہے۔مقدمہ دائر کرنے والی ریچل اوبرائن کا کہنا ہے کہ ان کا نام بھی غلط طور پر اس فہرست میں شامل کیا گیا۔ریچل اوبرائن نے ایک بیان میں کہا، ’’یہ بات بالکل مضحکہ خیز ہے کہ شہر نے ہمارے گھر کو ممکنہ دوسری رہائش گاہ کے طور پر عوام کے سامنے پیش کیا، حالانکہ میں اور میرے شوہر یہیں رہتے ہیں، یہیں اپنے بچوں کی پرورش کر رہے ہیں اور یہ ہمارا مستقل گھر ہے۔‘‘انہوں نے کہا کہ شہر کے پاس پہلے سے ایسے سرکاری ریکارڈ موجود تھے جن کی مدد سے یہ تصدیق کی جاسکتی تھی کہ ان کا گھر ان کی بنیادی رہائش گاہ ہے، لیکن اس کے باوجود ان کا نام اور پتہ شائع کردیا گیا۔اوبرائن نے مزید کہا، ’’خاندانوں کو حکومت کی غلطیوں کو درست کرنے پر مجبور نہیں کیا جانا چاہیے، صرف اس لیے کہ انتظامیہ نے سیاسی طور پر آسان راستہ اختیار کرتے ہوئے اس پروگرام کو عجلت میں نافذ کردیا۔‘‘یہ مقدمہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب نیویارک سٹی انتظامیہ کی جانب سے غیر بنیادی یا دوسری رہائش گاہوں پر اضافی ٹیکس کے نفاذ کے حوالے سے بحث جاری ہے۔ مقدمہ دائر کرنے والے مکان مالکان کا کہنا ہے کہ ٹیکس کے نفاذ سے پہلے جائیدادوں اور مالکان کی معلومات کی درست جانچ پڑتال ضروری تھی تاکہ بے قصور شہریوں کے نام اور ذاتی معلومات غیر ضروری طور پر عوام کے سامنے نہ آئیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button