
آبنائے ہرمز سے گزرنے والی تجارتی بحری آمدورفت میں دو بحری جہازوں پر حالیہ حملوں کے بعد نمایاں سست روی دیکھی جا رہی ہے، جس سے دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں سے ایک کی سلامتی کے حوالے سے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔گزشتہ ہفتے دو تجارتی بحری جہازوں کو نشانہ بنائے جانے کے بعد کئی شپنگ کمپنیوں، انشورنس اداروں اور چارٹر آپریٹرز نے اس اہم بحری راستے سے متعلق اپنے سکیورٹی خدشات کا دوبارہ جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔رپورٹس کے مطابق 25 جون کو سنگاپور میں رجسٹرڈ کنٹینر شپ ایور لوولی کو نقصان پہنچا، جبکہ 27 جون کو پاناما کے پرچم بردار آئل ٹینکر ایم/ٹی کیکو بھی حملے کا نشانہ بنا۔جہازوں کی نقل و حرکت سے متعلق دستیاب ٹریکنگ ڈیٹا سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگرچہ کچھ تجارتی جہاز اب بھی آبنائے ہرمز سے گزر رہے ہیں، تاہم مجموعی بحری ٹریفک معمول سے کم رفتار پر جاری ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ بعض شپنگ کمپنیاں اس راستے کو استعمال کرنے پر آمادہ ہیں، لیکن حالیہ حملوں کے بعد جہاز مالکان، انشورنس کمپنیوں اور چارٹر آپریٹرز کے اعتماد میں واضح فرق دیکھا جا رہا ہے، جس کے باعث تجارتی سرگرمیوں میں احتیاط بڑھ گئی ہے۔



