Select Language:
Urdu / English /Spanish / Bengali / Hindi
بین الاقوامی
Trending

اوبامہ نے ٹرمپ کی پالیسیوں کو ناکام قرار دے دیا

واشنگٹن : سابق امریکی صدر بارک اوباما نے کہا ہے کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے فروری میں ایران کے خلاف جنگ شروع کیے جانے سے پہلے امریکا جس صورت حال میں تھا، ملک یا تو دوبارہ اُسی مقام پر آ گیا ہے یا شاید اب اس سے بھی بدتر حالت میں ہے۔انہوں نے صدرٹرمپ کی حالیہ پالیسیوں کو ناکام قراردے دیا۔اوباما نے کہا ’’ہم نے ایک جنگ لڑی، اربوں ڈالر خرچ کیے، اپنی فوج پر غیر معمولی دباؤ ڈالا، بہت سے لوگ جان سے گئے، اور اب محسوس ہوتا ہے کہ ہم وہیں واپس آ گئے ہیں جہاں جنگ شروع کرنے سے پہلے تھے، بلکہ شاید کچھ زیادہ خراب حالت میں۔‘‘انھوں نے امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کے بارے میں ردعمل میں کہا ’’مجھے جنگ بندی دیکھ کر بہت خوشی ہوئی ہے اور مجھے امید ہے کہ یہ برقرار رہے گی۔‘‘سابق صدر نے ایران کے خلاف جنگ کی وجوہ پر بھی سوال اٹھایا۔ اوباما نے یاد دلایا کہ ان کے دورِ حکومت میں طے پانے والے ایران جوہری معاہدے کے تحت ’’ایران نے جوہری ہتھیار تیار نہ کرنے پر اتفاق کیا تھا۔‘‘انھوں نے کہا ’’اس انتظامیہ، یا اس انتظامیہ کی سابق شکل، نے اس معاہدے سے علیحدگی اختیار کر لی، جس کے نتیجے میں ایران نے اپنی جوہری صلاحیت میں مزید اضافہ کر لیا۔‘‘واضح رہے کہ صدر ٹرمپ نے اپنے پہلے دورِ صدارت میں 2018 میں 2015 کے ایران جوہری معاہدے سے دست برداری اختیار کی تھی۔ اس معاہدے میں 25 سال سے زائد مدت کے دوران تہران کے لیے تفصیلی اقدامات طے کیے گئے تھے، تاکہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے یا تیار کرنے سے روکا جا سکے۔ موجودہ مفاہمتی یادداشت میں ایران کے جوہری پروگرام کے مستقبل کے بارے میں مکمل وضاحت موجود نہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button