
ناروے نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی آبادکاریوں کے ساتھ ہر قسم کی تجارتی سرگرمیوں پر پابندی عائد کرنے کے لیے نئے قانون کی تجویز پیش کر دی۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ناروے کی وزارت خارجہ نے بتایا کہ مجوزہ قانون پر عوامی مشاورت کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ عوام 19 ستمبر تک رائے دہی کرسکتے ہیں۔اس قانون کے تحت اسرائیلی آبادکاریوں میں تیار کی جانے والی مصنوعات کی درآمد پر پابندی ہوگی جبکہ ان علاقوں کو برآمدات بھی نہیں کی جا سکیں گی۔مجوزہ قانون میں یہ بھی تجویز کیا گیا ہے کہ اسرائیلی آبادکاریوں میں جائیداد کی خریداری، وہاں تعمیراتی منصوبوں یا املاک کی فروخت سے متعلق خدمات کی فراہمی اور ان علاقوں میں قائم کاروباری اداروں میں سرمایہ کاری یا ملکیت حاصل کرنے پر بھی پابندی عائد کی جائے گی۔ناروے کے وزیر خارجہ ایسپن بارتھ ایڈے نے کہا کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی آبادکاریاں بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہیں اور دو ریاستی حل کے امکانات کو مسلسل نقصان پہنچا رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی آبادکاریاں بین الاقوامی قانون کے منافی ہیں اسی لیے ہماری حکومت ان غیرقانونی آبادکاریوں کے ساتھ تجارتی تعلقات پر پابندی عائد کرنا چاہتی ہے۔



