
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایک بیان سوشل میڈیا اور بین الاقوامی میڈیا میں توجہ کا مرکز بن گیا ہے، جس میں انہوں نے متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان کے بارے میں ایک غیر معمولی دعویٰ کیا۔ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ’محمد (امیر متحدہ عرب امارات) ایک ناقابلِ یقین جنگجو ہیں۔ گزشتہ ہفتے وہ بمباری کر رہے تھے۔ میں نے پوچھا کہ آخر اتنے بم کون گرا رہا ہے؟ تو جواب ملا کہ یہ یو اے ای ہے۔ وہ ایک اچھے فائٹر ہیں۔‘ٹرمپ کے اس بیان کے بعد مختلف حلقوں میں چہ مگوئیاں شروع ہوگئی ہیں، تاہم فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ امریکی صدر کا اشارہ کسی مخصوص فوجی کارروائی کی جانب تھا یا انہوں نے یہ بات علامتی انداز میں کہی۔تاحال متحدہ عرب امارات کی حکومت کی جانب سے اس بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ اسی طرح ایران کے خلاف کسی حالیہ اماراتی فضائی کارروائی کی بھی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر اس بیان کی مزید وضاحت سامنے آتی ہے تو یہ مشرق وسطیٰ کی حالیہ کشیدگی اور علاقائی اتحادوں کے بارے میں اہم سوالات کو جنم دے سکتی ہے۔واضح رہے کہ حالیہ مہینوں میں ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی عالمی سیاست کا اہم موضوع رہی ہے، جبکہ خلیجی ممالک بھی خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔



