شمالی آئرلینڈ میں ہنگامے انگریز نسل پرستوں کےغیرملکیوں پر حملے، ہنگامے پھوٹ پڑے

بیلفاسٹ: شمالی آئرلینڈ میں ایک خوفناک چاقو زنی کے واقعے کے بعد شروع ہونے والے ہنگامے دوسرے روز بھی جاری رہے، جہاں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں متعدد افراد زخمی ہوئے جبکہ 16 افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔شمالی آئرلینڈ کے دارالحکومت بیلفاسٹ میں پیر کی شب ہونے والے ایک سفاکانہ چاقو حملے کے بعد کشیدگی میں اضافہ ہوا۔ اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد مختلف علاقوں میں احتجاجی مظاہرے شروع ہوگئے جو بعد میں پرتشدد شکل اختیار کر گئے۔پولیس کے مطابق چاقو حملے کے الزام میں ایک 30 سالہ سوڈانی شہری کو اقدام قتل کے الزام میں عدالت میں پیش کیا گیا، جس کے بعد مشتعل افراد سڑکوں پر نکل آئے۔ بدھ کی رات متعدد مقامات پر نقاب پوش افراد نے پولیس پر پیٹرول بم، اینٹیں اور دیگر اشیا پھینکیں جبکہ گاڑیوں اور املاک کو بھی آگ لگا دی گئی۔شمالی آئرلینڈ کے وزیر ہلیری بین نے ہنگاموں کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ’نسل پرستانہ غنڈہ گردی‘ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کو صرف ان کی جلد کے رنگ کی بنیاد پر خوفزدہ کرنا اور گھروں سے بے دخل کرنا ناقابل قبول ہے۔پولیس کے مطابق تازہ جھڑپوں میں کم از کم 12 پولیس اہلکار زخمی ہوئے جبکہ دو مزید افراد پر ہنگاموں میں ملوث ہونے کے الزام میں فرد جرم عائد کی گئی ہے۔



