پاکستان کا وفاقی بجٹ 2026-27: عوام کی پریشانیاں بڑھ گئیں

لاہور(اعجاز احمد فاروقی)وفاقی حکومت نے 12 جون 2026 کو اگلے مالی سال کا بجٹ پیش کر دیا۔ تقریباً 17.5 سے 18 ٹریلین روپے کے اس بجٹ میں ٹیکسوں کی نئی لہر، مہنگائی کے دباؤ اور عوامی ریلیف کی کمی نے عام شہریوں میں شدید پریشانی پیدا کر دی ہے۔وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بجٹ پیش کرتے ہوئے تنخواہوں اور پنشن میں 10 فیصد اضافے کا اعلان کیا، جبکہ درمیانہ طبقے کے لیے کچھ ٹیکس ریلیف بھی دیا گیا۔ تاہم نئے ٹیکسز، پیٹرولیم لیوی میں اضافہ اور اشرافیہ کو فائدے پہنچانے والے اقدامات نے عوام کو مایوس کر دیا۔ معاشی سروے کے مطابق غربت میں 7 فیصد اضافہ ہوا ہے، جس سے تقریباً 27 ملین لوگ مزید مالی مشکلات کا شکار ہو گئے ہیں۔عام شہریوں کا کہنا ہے کہ بجٹ میں مہنگائی پر کوئی مؤثر کنٹرول نہیں رکھا گیا۔ بجلی، گیس اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھنے کا خدشہ ہے، جبکہ روزمرہ اشیائے ضرورت کی قیمتوں میں کوئی کمی نہیں آئی۔ تنخواہ دار طبقہ، جو سب سے زیادہ ٹیکس دیتا ہے، نئے بوجھ تلے دب گیا ہے۔ تاجر اور صنعت کار بھی نئے ٹیکسز سے پریشان ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کی شرائط کی پابندی نے حکومت کو عوامی فلاح کے لیے محدود اختیارات دیے ہیں۔ ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی اور قرضوں کی ادائیگی پر توجہ نے عوام کی امیدوں کو دھواں بنا دیا۔ مخالفین نے اسے اشرافیہ نواز بجٹ قرار دیا ہے۔عوام اب مہنگائی، بے روزگاری اور کمزور معاشی صورتحال سے نمٹنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ حکومت دعویٰ کر رہی ہے کہ یہ بجٹ معاشی استحکام لائے گا، مگر عوامی ردعمل اس کے برعکس ہے۔



