Select Language:
Urdu / English /Spanish / Bengali / Hindi
بین الاقوامی

اسمبلی کا بنیادی فریضہ معاشرے کے تمام طبقات کیلئے مؤثر قانون اور بجٹ سازی ہے:سپیکرپنجاب اسمبلی

لاہور (آصف اقبال)پنجاب اسمبلی میں اسمبلی اور بار کے عنوان سے خصوصی نشست کا انعقاد کیا گیا جس میں قانونی اصلاحات، صوبائی لاء کمیشن کے قیام اور نظام انصاف میں بہتری کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ نشست میں سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان، پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین پیر مسعود چشتی، پنجاب بار کونسل کے وائس چیئرمین خواجہ قیصر بٹ سمیت صوبے بھر کی بار ایسوسی ایشنز اور بار کونسلز کے نمائندوں نے شرکت کی۔سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسمبلی کا بنیادی فریضہ معاشرے کے تمام طبقات کے لیے مؤثر قانون سازی اور بجٹ سازی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد تعلیم، صحت اور دیگر شعبوں میں قانون سازی کی ذمہ داری صوبائی اسمبلیوں پر عائد ہوتی ہے، اس لیے پنجاب میں ایک فعال اور مؤثر صوبائی لاء کمیشن کے قیام کی ضرورت ہے تاکہ قانون سازی کے عمل کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔انہوں نے بار کونسلز اور بار ایسوسی ایشنز پر زور دیا کہ وہ مختلف شعبوں میں موجود قانونی خلا اور عوامی مسائل کے حل کے لئے باقاعدہ سفارشات مرتب کریں تاکہ اسمبلی ان تجاویز کی روشنی میں مؤثر قانون سازی کر سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ ضلعی بار ایسوسی ایشنز کی قابل عمل تجاویز کو قانون سازی کا حصہ بنانے میں خوشی ہوگی۔سپیکر پنجاب اسمبلی نے تجاوزات، شہری منصوبہ بندی اور انتظامی چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ لاہور سمیت پنجاب کے مختلف علاقوں میں تجاوزات ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے مسائل کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات، شعور اور عوامی شمولیت کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے۔پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین پیر مسعود چشتی نے نظام انصاف میں شفافیت کے فقدان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایف آئی آر کے اندراج سے لے کر مقدمات کے فیصلوں تک مختلف مراحل میں اصلاحات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے تحقیقاتی نظام، پراسیکیوشن اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے طریقہ کار کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔پنجاب بار کونسل کے وائس چیئرمین خواجہ قیصر بٹ نے قانونی تعلیم کے معیار، جعلی ڈگریوں کے خاتمے اور وکلاء کو درپیش مسائل پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ پنجاب بار کونسل قانونی تعلیم میں اصلاحات اور فارن ڈگریوں سے متعلق مسائل کے حل کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے صوبائی لاء کمیشن کے قیام کے لیے بار کونسل کی تجاویز پر عملدرآمد کا مطالبہ بھی کیا۔نشست کے دوران ماحولیاتی قوانین، زمینوں پر قبضوں، انتظامی اختیارات، ٹریفک قوانین، عوامی خدمات اور خوراک کے معیار سمیت مختلف عوامی مسائل پر بھی گفتگو کی گئی۔ شرکاء نے قانون سازی کے عمل میں وکلاء برادری کی مؤثر شمولیت کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے اس عمل کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا۔نشست کے اختتام پر اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ پنجاب اسمبلی اور وکلاء برادری کے درمیان رابطوں کو مزید مؤثر بنایا جائے گا تاکہ قانون سازی کا عمل زمینی حقائق، عوامی ضروریات اور قانونی ماہرین کی آراء کے مطابق آگے بڑھ سکے۔ شرکاء نے امید ظاہر کی کہ صوبائی لاء کمیشن کے قیام اور قانونی اصلاحات کے ذریعے انصاف کی فراہمی اور گورننس کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے گا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button