سابق فارمولا ون چیمپئن نے فلسطین کے حق میں ایک بار پھر دوٹوک مؤقف دہرا دیا

فارمولا ون کے سات مرتبہ عالمی چیمپئن رہنے والے برطانوی ڈرائیور لوئس ہیملٹن نے ایک بار پھر فلسطین کے حق میں دوٹوک مؤقف پیش کردیا۔امریکی گراں پری سے قبل گفتگو کرتے ہوئے ہیملٹن نے فلسطینی عوام کی حمایت کا اظہار کرتے ہوئے دنیا کے مختلف خطوں میں جاری تنازعات کے خاتمے اور امن کی امید ظاہر کی ہے۔ہیملٹن نے کہا کہ کانگو، سوڈان، شام اور فلسطین کی آزادی کے لیے آواز بلند کرنا ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ ایک دن دنیا میں پائیدار امن قائم ہوگا۔41 سالہ ہیملٹن اس سے قبل بھی غزہ میں انسانی بحران پر تشویش کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ستمبر 2025 میں انہوں نے فلسطینی عوام کی مشکلات کے پیش نظر لوگوں پر زور دیا تھا کہ وہ خاموش نہ رہیں۔انہوں نے فلسطینی ہلال احمر، ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز اور سیو دی چلڈرن برطانیہ سمیت متاثرین کی مدد کرنے والی تنظیموں کو عطیات دینے کا بھی بتایا تھا۔مئی 2024 میں بھی انہوں نے غزہ پر اسرائیلی حملے روکنے کا مطالبہ کرتے ہوئے فلسطینی بچوں کی مشکلات اجاگر کی تھیں۔ہیملٹن کا کہنا ہے کہ وہ کھیلوں میں اپنی عالمی شہرت کو انسانی حقوق اور اہم عالمی مسائل کی جانب توجہ دلانے کے لیے استعمال کرتے رہیں گے۔








