لیتھیم اخذ کرنے کے لیے نئی ٹیکنالوجی تیار

الیکٹرک گاڑیوں کی پیداوار میں تیزی اور ونڈ اور سولر پاور کے لیے بڑے بیٹری سسٹمز کی تعمیر کے باعث لیتھیم کی مانگ آسمان کو چھو رہی ہے۔ مگر لیتھیم تیار کرنا اب بھی ایک سست، مہنگا اور ماحول کے لیے نقصان دہ عمل سمجھا جاتا ہے۔اب کولمبیا یونیورسٹی اسکول آف انجینئرنگ اینڈ سائنسز کے محققین نے لیتھیم نکالنے کی ایک نئی ٹیکنالوجی تیار کی ہے جو پیداوار کو تیز، آلودگی کو کم، اور ایسے ذخائر تک رسائی ممکن بنا سکتی ہے جہاں موجودہ ٹیکنالوجی ناکام رہتی ہے۔جرنل جول میں شائع ہونے والی تحقیق میں وضع کیا گیا نیا طریقہ ’سوئچ ایبل سالوینٹ سلیکٹو ایکسٹریکشن‘ یعنی S3E (ایس تھری ای) تفصیل بیان کیا گیا ہے۔یہ جدید طریقہ ایک خاص درجہ حرارت پر ردِعمل دینے والے سالوینٹ کا استعمال کرتا ہے، جو زیرِ زمین نمکین پانی سے براہِ راست لیتھیم کو الگ کر لیتا ہے حتیٰ کہ ایسی صورت میں بھی جب لیتھیم کی مقدار بہت کم ہو یا دوسرے معدنیات کے ساتھ ملی ہوئی ہو، جنہیں الگ کرنا عام طور پر انتہائی مشکل ہوتا ہے۔



