
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش کا ذمہ دار ایران نہیں بلکہ خطے میں کشیدگی پیدا کرنے والے عناصر ہیں، جبکہ سمندری گزرگاہ صرف اُن ممالک اور قوتوں کے لیے بند ہے جو ایران کے خلاف جنگ میں شامل ہیں۔ایرانی وزیر خارجہ نے اپنے تازہ بیانات میں کہا کہ ایران سفارتکاری اور مذاکرات کا حامی ہے، لیکن مذاکرات صرف اسی صورت ممکن ہیں جب امریکا سنجیدگی اور باہمی احترام کا مظاہرہ کرے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران کسی بھی دباؤ، دھمکی یا فوجی کارروائی کو مسترد کرتا ہے۔عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ ایران برسوں سے امریکی پابندیوں کا سامنا کر رہا ہے اور 2015 میں ہونے والے جوہری معاہدے پر مکمل عمل بھی کر رہا تھا، تاہم امریکا پر اب بھی اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔انہوں نے کہا کہ ایران کا ایٹمی پروگرام مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے ہے اور تہران کبھی بھی جوہری ہتھیار بنانا نہیں چاہتا تھا۔ ان کے مطابق جوہری افزودگی سے متعلق معاملات پر آئندہ مذاکرات کے مرحلے میں بات کی جائے گی۔



