ایغور مسلمانوں کو مذہبی آزادی کی بدترین پامالی کا سامنا ہے، امریکہ

318

امریکی محکمہ خارجہ نے اپنی رپورٹ میں مذہبی آزادی کی خلاف ورزیوں کے معاملے پر چین، ایران اور نائجیریا کو تقنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ 2019 کے دوران بین الاقوامی سطح پر مذہبی آزادی کے بارے میں جاری کی گئی رپورٹ میں، امریکہ نے چین کے علاقے سینکیانگ میں ویغور مسلمانوں کو وسیع پیمانے پر حراست میں لیے جانے پر اسے کڑی نکتہ چینی کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ چین مذہبی آزادی کی خلاف ورزی کرنے والوں میں بدترین ملک ہے۔

امریکہ کے وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے بدھ کے دن مذہبی آزادی کی خلاف ورزیوں پر چین، ایران، نائجیریا اور بعض دوسرے ملکوں کو تنقید کا ہدف بناتے ہوئے کہا ہے کہ چین میں ریاست کی سرپرستی میں تمام مذاہب کے خلاف جبر و استبداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ چینی کمیونسٹ پارٹی اب تمام مذہبی گروپوں کے لئے احکامات جاری کر رہی ہے کہ وہ کمیونسٹ پارٹی کی اطاعت کریں اور اپنی تعلیمات میں کمیونسٹ نظریے کو جگہ دیں۔ صرف یہی نہیں بلکہ اس کا دائرہ اپنے عقائد کی پیروی تک بڑھا دیں۔

انھوں نے اس جانب توجہ دلائی کہ سینکیانگ میں ویغور مسلمانوں کو وسیع پیمانے پر حراست میں لینے کا سلسلہ جاری ہے۔ اسی طرح تبتیوں اور بودھ مذہب کے پیروکاروں، فالون گوم اور عیسائیوں پر بھی جبر جاری ہے۔

تاہم چین نے ویغور مسلمانوں کی حراست پر تنقید کو یہ کہتے ہوئے رد کر دیا ہے کہ یہ اس کے اندرونی معاملات میں مداخلت ہے۔ اس کی دلیل ہے کہ سنکیانگ میں حراستی مراکز کے وسیع نیٹ ورک کو پیشہ ورانہ تربیت کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ چین میں ویغور مسلمانوں کو ان کے عقیدہ کی بنیاد پر لاکھوں کی تعداد میں حراستی مراکز میں رکھا جا رہا ہے۔

یہ بات دلچسپی سے خالی نہیں ہو گی کہ مذہبی آزادی کے بارے میں محکمہ خارجہ کی رپورٹ ایک ایسے وقت میں آئی ہے جب پورے امریکہ میں نسل پرستی اور پولیس کی مبینہ زیاتیوں کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہروں کا دنیا میں مشاہدہ کیا جارہا ہے۔

جب امریکی وزیر خارجہ سے پوچھا گیا کہ دوسرے ملکوں کے بارے میں ایسی رائے دینے کا امریکہ کے پاس کیا اخلاقی جواز ہے تو انھوں نے یہ کہا کہ امریکہ، ناانصافی کے خلاف براہ راست اقدام کرتا ہے جب کہ چین میں ایسا نہیں ہے۔

مائیک پومپیو مزید کہتے ہیں کہ جب کوئی ایسا المناک واقعہ جیسا کہ جارج فلائیڈ کے ساتھ پیش آیا، سامنے آتا ہے تو حکومت فوری ردعمل ظاہر کرتی ہے۔ ان کے بقول موجودہ حالات میں بھی ہم نے اس بات کا مشاہدہ کیا کہ قانون نافذ کرنے والے مقامی اداروں اور محکمہ انصاف نے اس مخصوص صورت حال سے نمٹنے کے لئے تیزی سے اقدامات کئے۔