یہ عید بھی کیا ہے!

11

عجیب عید آئی ہے یہ بھی۔ ہم نے تو اپنی زندگی میں پہلے کبھی ایسی عید نہیں منائی تھی۔ کرونانادیدہ کا عذاب کیا کم تھا جو مرے پر سو درّے کے مصداق وہ سانحہ ہوگیا، پی آئی کی کراچی کیلئے پرواز کا، جس نے ایک پل میں کتنے گھروں کے چراغ گل کردئیے! اس عید کی خوشی ویسے ہی نہ ہونے کے برابر تھی۔ وہ عید کیسی جس میں نہ عید گاہ میں نماز ہو نہ دوستوں اور دلاروں سے گلے ملنا نصیب ہو۔ عید تو ساعتِ سعید لاتی ہے جس میں ان سے بھی گلے ملنے کا موقع مل جاتا ہے جن سے بغلگیر ہونے کو سال بھر ترستے ہوں لیکن اس عید پر تو یہ رسمِ دنیا بھی پابندِ سلاسل ہے۔ حکمِ حاکم ہے کہ نہ عید کی نماز کے اجتماعات ہونگے نہ لوگوں سے گلے ملنے کی اجازت ہے کیونکہ ماہرین اور بقراطوں نے فتویٰ دے دیا ہے کہ گلے ملنے سے جراثیم پھیل سکتے ہیں۔ ہائے ری مجبوری اور حیف یہ بندشیں اور پابندیاں جو گلے کے طوق اور پائوں کی بیڑیاں بن گئی ہیں۔! یہ پابندیاں کئی مہینوں سے بہ حالتِ مجبوری قبول رہی ہیں بلکہ اب تو، بقول شخصے ان کی ایسی عادت ہوگئی ہے کہ پابندیاں اٹھ بھی گئیں اور بیڑیاں کھل بھی گئیں تو بقولِ شاعر
اتنے مانوس صیاد سے ہوگئے
اب رہائی ملے گی تو مرجائیں گے
لیکن مشیت کو اس سے سوا بھی کچھ اور صبر کی آزمائش منظور تھی تووہ اس فضائی حادثہ کی شکل میں سامنے آگئی۔ سانحہ بھی ایسا کہ کلیجہ نکال کے لے گیا۔ منزل سے ایک دو منٹ کی دوری تھی کہ جہاز کی قوت جواب دے گئی اور بجائے رن وے پر اترنے کے وہ گر گیا ایک بھری پری بستی پر اور اس گرنے نے کتنے ہی گھروں کو ناگہانی نقصان پہنچایا ایسے وقت میں جب گھر والے عید کی تیاریاں کررہے تھے۔! یہ تو غنیمت ہے کہ کراچی کے ہوائی اڈے کے قریب آباد اس بستی، ماڈل ٹاوٗن، کے تباہ ہونے والے مکانوں کے مکین جان سے محفوظ رہے لیکن ہمارے ذہن میں سب سے پہلا سوال یہی آیا کہ ہوائی اڈے سے اتنے قریب بستی بسائی کیوں گئی تھی؟ لیکن اس سوال کا جواب اتنا مشکل نہیں ہے۔ یہ ایک بستی کیا نہ جانے کتنی اور ایسی بستیاں ہیں شہر کراچی میں جو غیر قانونی ہیں لیکن پاکستان کے مہا چور زرداری کی سرپرستی میں چلنے والی سندھ حکومت، جسے سندھ پر راج کرتے ہوئے بارہ تیرہ برس ہوگئے، نے اپنے دورِ اقتدار میں سوائے لینڈ مافیا کی سرپرستی کے اور کیا کیا ہے!
وڈیرہ شاہی کے چوپٹ راج میں لینڈ مافیا کے سرغنوں نے کراچی میں جہاں زمین خالی پائی وہاں نئی بستیاں بسادیں۔ کسی سے پوچھنے کی ضرورت ہی نہیں تھی کیونکہ سیاں بھئے کوتوال تھے۔ زرداری کو اس کی پتی دے کر جو چاہو کرلو کوئی پوچھنے والا نہیں تھا اور کس کی مجال تھی کہ وہ قائدے قانون کی بات کرتا یا کسی سوال کی جسارت کرتا۔ سندھ سیکرٹیریٹ میں تو ویسے بھی اوپر سے نیچے تک صرف وہ بابو بھرے ہوئے ہیں جنہیں زرداری اور اس کے وڈیروں نے پر وانۂ ملازمت عطا کیا ہو۔ قا عدہ قانون کے الفاظ ان با بؤں کی لغت میں ہیں ہی نہیں۔ لوگوں کو اس سانحہ کے ہونے کے بعد اچانک یہ احساس ہوا ہے کہ کراچی کا ہوائی اڈہ اب بیچ شہر میں ہے۔ نہیں، ہوائی اڈہ بیچ شہر میں
باقی نہیں ہے بلکہ یوں ہوا ہے کہ شہر پھیلتے پھیلتے ہوائی اڈے تک آگیا ہے۔ کراچی کوئی انوکھا ہوائی اڈہ نہیں جس کے ارد گرد آبادی ہو۔ ہمارے شہر ٹورنٹو میں ہی ایر پورٹ کے قرب و جوار میں خوب آبادی ہے لیکن پھر بھی ایسا نہیں ہے کہ بستیاں ہوائی اڈے کی رن وے سے جڑی ہوئی ہوں۔ کراچی میں تو ہوس گزیدہ اندھوں نے انتہا کردی۔ ان کا بس چلتا تو وہ رن وے پر بھی پلاٹ نکال کر بیچ دیتے آخر کو چائنا کٹنگ کے ماہر ہیں! زرداری اور اس کی مافیا نے یہی نہیں کیا کہ غیر قانونی بستیاں بسائیں اور اربوں کھربوں سے اپنی تجوریاں بھریں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ پی آئی اے کو اپنا یرغمالی بناکر اس میں اندھا دھند اپنے لوگوں کو بھرا، ہزاروں کو بھرا اور اگر ان کو رکھا ہوتا جو ان آسامیوں کے قابل تھے جن پر انہیں بھرتی کیا گیا تو صبر بھی آجاتا لیکن اس دشمنِ پاکستان نے تو ایک سے ایک بڑے نالائق کو پی آئی اے میں بڑی بڑی ذمہ داریاں سونپیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ایک طرف تو پی آئی اے پر ناکارہ لوگوں کا ایسا بوجھ پڑا کہ ان کی تنخواہیں اور انکی مراعات دینے میں کمپنی کی مالی کمر ٹوٹ گئی۔ لیکن اس سے بڑھکر دوسرا بڑا نقصان یہ ہوا کہ کمپنی کی کارکردگی کا جنازہ نکل گیا اور وہ فضائی کمپنی جو کبھی پاکستان کا سرمایہٗ افتخار تھی، جس نے اپنی مہارت سے دوسرے ممالک کی ان فضائی کمپنیوں کو کھڑا کیا تھا جن کا شمار آج دنیا کی بہترین فضائی کمپنیوں میں ہوتا ہے، جیسے امیریٹس اور سنگا پور ایر لائینز وغیرہ، وہ ایسے زوال کا شکار ہوئی کہ دنیا میں اس کا نام مذاق بن گیا اور پاکستان کی ساکھ کا درد اپنے سینوں میں رکھنے والوں کے سر شرم سے جھک جھک گئے، تو یہ کہنا مبالغہ نہیں ہوگا کہ یہ جو کراچی میں جہاز کا سانحہ ہوا ہے اس پر زرداری کی نحوست اور اس کی ڈاکہ زنی کی بہت گہری چھاپ ہے۔ اب حکومت تحقیقات کرتی رہے لیکن جو نقصان ہونا تھا وہ تو ہوگیا اور جن گھروں کے چراغ عید سے دو روز پہلے گل ہوگئے ان میں بچھی ماتمی صفیں اُچھل اُچھل کر کہہ رہی ہیں کہ خدا کرے کہ ایسا کوئی حادثہ آئندہ نہ ہو لیکن پاکستان کی زمین میں زرداری اور نواز جیسے چوروں نے جس زہر کا بیج بویا ہے اس کی فصل آگے چل کر کاٹنے کے امکانات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ اور یہ نہیں ہے کہ زرداری اور اس کے قبیلے کے دوسرے چور اور پاکستان دشمن آرام سے بیٹھے ہوئے ہیں یا اب وہ اپنا شر نہیں پھیلا رہے۔ بالکل نہیں۔ نہ وہ آرام سے بیٹھے ہوئے ہیں نہ ہی ان کی شر پسندی میں کوئی کمی آئی ہے۔ ابھی حال ہی میں عمران کی حکومت نے دیمر بھاشا ڈیم کی تعمیر کا ٹھیکہ ایک چینی تعمیراتی کمپنی کو سونپا ہے۔ یہ منصوبہ برسوں سے سرد خانے میں پڑا ہوا تھا اس کے باوجود کہ پاکستان میں ہر سال سیلاب آتے ہیں جو ہزاروں ایکڑ زمینوں کو برباد کر جاتے ہیں اور ملک میں بجلی کی کمی کا مسئلہ جوں کا توں برقرار ہے بلکہ اس میں وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ اضافہ ہی ہورہا ہے۔ دیمر بھاشا ڈیم کا منصوبہ ان دونوں مسائل کا حل ہے اور انشا اللہ جب یہ ڈیم تکمیل کو پہنچ جائے گا تو پاکستان کے یہ دونوں بڑے مسائل بڑی حد تک حل ہوجائینگے لیکن معاہدہ کی سیاہی خشک نہیں ہوئی تھی کہ سندھی وڈیروں نے واویلا شروع کردیا۔ من و عن یہ واویلا اس احتجاج کی صدائے بازگشت ہے جو اسی وڈیرہ شاہی کی مخالفت اور ہنگامہ آرائی نے برسوں پہلے مرحوم صدر ضیا الحق کے دور میں بپا کیا تھا جب حکومتِ وقت نے کالا باغ ڈیم کا منصوبہ شروع کرنا چاہا تھا۔ آنے والا مورخ شاید ضیا الحق کو اس کمزوری کیلئے معاف نہیں کریگا جو وڈیرہ شاہی کے احتجاج کے جواب میں ان سے سرزد ہوئی اور جس کا نتیجہ یہ ہے کہ کالاباغ ڈیم کا منصوبہ آجتک سرد خانے میں ہے اور اسے تعمیر کا سورج دیکھنا نصیب نہیں ہوا۔ وہ ڈیم اگر بن گیا ہوتا تو آج پاکستان میں نہ سیلاب کی تباہ کاریاں سالانہ قہر بن کر ٹوٹتیں اور نہ ہی بجلی کی وہ قلت ہوتی جس نے پاکستانی صنعتوں کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے! ہمیں امید ہے کہ عمران خان پاکستان کے مفاد پر اس طرح کا کوئی سمجھوتہ یا سودا نہیں کرے گا جس نے ضیا الحق کی مصلحت کوشی پر کالا باغ ڈیم کو قربان کردیا۔ زرداری اور اس کے ساتھی وڈیرے ڈاکو تو ہیں لیکن اس سے بڑھ کر ان کے جرائم میں پاکستان دشمنی سرِ فہرست ہے اور دیمر بھاشا ڈیم منصوبے پر صدائے احتجاج اس مفاد پرست ٹولے کی پاکستان دشمنی کا کھلا ثبوت ہے۔ عمران کو چاہئے کہ ان شرپسندوں کی سرکوبی کو یقینی بنائے تاکہ انہیں اپنا زہر پھیلانے کا موقع نہ ملے۔ سندھ کے مبینہ نقصان کا نعرہ کھوکھلا اور گمراہ کن ہے اور اسکے فوری سدّباب کی ضرورت ہے! گربہ کشتن روزِ ا وّل کل بھی صحیح تھا اور آج بھی ہے۔ کراچی کا یہ اندوہناک سانحہ عمران حکومت کیلئے بیداری کا پیغام ہوسکتا ہے بشرطیکہ اس سے وہ نتائج اخذ کئے جائیں جو اس میں مضمر ہیں۔ پہلا سبق اس سے یہ ملتا ہے کہ قومی سلامتی کے امور پر کسی طرح کی مصلحت بڑے نقصان کا پیش خیمہ ہوسکتی ہے۔ دیمر بھاشا ڈیم ملکی سلامتی کیلئے خاص اہمیت کا منصوبہ ہے جسے نہ التواء میں چھوڑا جاسکتا ہے اور تلف کرنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا! اسی طرح پی آئی اے محض ایک تجارتی ادارہ نہیں ہے بلکہ قومی سلامتی کے زمرہ میں بھی آتا ہے۔ اسکی کارکردگی اور فنی صلاحیتوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہئے اور یہ حادثہ اس عزم کو پختہ کرنے کیلئے مددگار ہوسکتا ہے کہ موجودہ حکومت زرداری اور نواز ادوارِ حکومت کی غلطیوں کا اعادہ نہیں کریگی اور اس قسم کے دل دہلادینے والے سانحے ممکنہ حد تک آئندہ کبھی رونما ہونے نہیں دئیے جائینگے! دوسرا اہم سبق یہ ہے کہ اس مقصد کے حصول میں اولین ضرورت ان کالی بھیڑوں کا قلع قمع کرنے کی ہے جن کے حوصلے اور چیرہ دستیاں اندھیر نگری اور چوپٹ راج میں اس حد تک بڑھ گئے تھے کہ ان کی ہوسِ زر نے قومی سلامتی کے اداروں کو بیدریغ اور بری طرح سے پامال کیا اور جو تباہی اس کے نتیجہ میں ہوئی اس نے پاکستان کی ساکھ کو جگ ہنسائی کا ہدف بنادیا۔ پی آئی اے کی تعمیرِ نو کیلئے اس سانحہ سے صحیح سبق لینا ناگزیر ضرورت ہے! آئندہ جو ہونا چاہئے اور جو کرنا ہے اس کا لائحہ عمل آج سے ہی طے ہوجانا چاہئے۔ سو کے قریب قیمتی انسانوں کا زیاں آنکھیں کھولنے کیلئے بہت ہے اور ہماری دعا یہی ہے کہ عمران خان اور ان کے ساتھی اور رفقائے کار ان جانوں کی قربانی کو نظر انداز نہ کرتے ہوئے مثبت تعمیری کام عیدکے فوری بعد شروع کردینگے۔! لیکن یہ عید تو بلا شبہ کرونا کی وبا اور اس اندوہناک سانحہ کی نذر ہوگئی ہے۔ ہماری کتاب میں تو کم از کم اس عید پر خوشیاں منانے کی ذرّہ برابر بھی گنجائش نہیں بچی ہے۔ ہمارے دل کی اس عید بے کیف اور بے مسر ت پر کیا کیفیت ہے اس کا نچوڑ یہ دو متفرق اشعار ہیں جو ہمارے قلم سے سرزد ہوئے انہیں ہم نے اپنے فیس بک کے صفحے پر تو اپنے دوستوں کی خوشہ چینی کیلئے لگا دیا تھا لیکن یہاں اپنے قارئین کی نذر کر رہے ہیں اس دعا کے ساتھ کہ انہیں ان اشعار کا پیغام غور و فکر کرنے کی ترغیب دلاسکے گا:
ہلالِ عید ہے پرکیفیت محرّم کی
یہ میٹھی عید بڑی تلخیوں میں آئی ہے
یہ عید ہے یا خوں بہا ان خستہ تنوں کا
وہ متیں جن کی ہیںابھی تشنۂ تدفین!!!
کرامت غوری

Leave A Reply

Your email address will not be published.