باکسر محمد علی، چند ناقابل فراموش واقعات

21

حمد علی دنیا کے عظیم ترین باکسر تھے۔ ان جیسا کوئی باکسر پیدا ہوا اور نہ ہوگا۔ انہوں نے جب بھی رنگ میں قدم رکھا تو حریف کو چاروں شانے چت کرنے کے بعد ہی باہر نکلے۔

جب انہوں نے اسلام قبول کر لیا تو باکسنگ رنگ میں بھی کسی کی پرواہ کئے بغیر رب کریم کے سامنے سر جھکا دیتے تھے،پہلے نماز کا فرض ادا کرتے۔ محمد علی نماز کی ادائیگی کے بعد ہی رنگ میں اترتے تھے۔

وہ دیر تک اس دیوار کو چومتے رہتے، جس دیوار پر رب کریم یا حضرت محمد ﷺ کا مبارک نام لکھا ہوتا تھا۔ ایسی دیواروں کے سامنے سے بھی جھک کر گزرتے تھے۔ انہوں نے لونی علی (1986ء تا2016ء ) کو اپنی شریک حیات چنا، قبول اسلام کے بعد ان کے بچے بھی پکے مسلمان ہیں اور اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہیں۔ بچوں میں لیلیٰ علی سب سے بڑی ہیں۔ اسد امین، مریم علی، حنا علی، رشیدہ علی، جمیلہ علی، مایا علی، خلیہ علی اور محمد علی جونیئر ان سے چھوٹے ہیں۔

محمد علی کے دل میں بچپن سے ہی کچھ کرنے کی امنگ تھی ،کچھ نیا کرنے کی۔ وہ سر اٹھا کر جینا چاہتے تھے، امریکہ میں سیاہ فاموں کے لئے سر اٹھا کر جینا قدرے ناممکن تھا۔تاہم ان کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ ایک دن وہ عظیم ترین باکسر بن جائیں گے اور باکسنگ ہی ان کا ذریعہ معاش ہوگی۔دوسرے سیاہ فاموں کی طرح وہ بھی کسی اچھے بزنس کی تلاش میں تھے۔ اسی لئے بارہ برس کی عمر (1954ء میں) وہ سیاہ فاموں کو برگر، سموسے اور پاپ کارن کا بزنس سکھانے کے لئے لوئس ویل میں بلائے گئے ایک اجلاس میں شریک ہوئے ۔ سرخ اور سفید رنگ کی پسندیدہ بائیک باہر کھڑی کر کے خوداندر چلے گئے۔ واپسی پربائیک کو غائب پایا ۔کوئی چور لے اڑا تھا۔ قریبی موجود   کولمبیا جم‘‘ کے مالک جو مارٹن نے انہیں پولیس سے رجوع کرنے کا مشورہ دیا۔اپنی خود نوشت میںمحمد علی لکھتے ہیں کہ   میں بائیک کی تلاش میں ہر جگہ دوڑ رہاتھا۔وہ تو نہ ملی لیکن کہیں دور، کسی رنگ میں ہونے والے باکسنگ میچ کی آوازیں ضرور سنائی دیں ۔ دھم دھم‘گھونسے پڑ رہے تھے۔ میں باکسنگ رنگ کی جانب لپکا۔ یہ آواز میرے دل کو اس قدر بھائی کہ میں بائیک کو بھول گیا ‘‘۔ مارٹن نے اس کاکندھا تھپتھپاتے ہوئے کہا ،    کوئی بات نہیں یہاں تو روزانہ ہی باکسنگ کا میلہ لگتا ہے،ہر سوموار سے جمعہ تک، چھ سے آٹھ بجے تک متعدد باکسرز یہیں ہوتے ہیں۔ اگر آپ بھی باکسنگ کھیلنا چاہتے ہیں تو یہ رہا فارم!‘‘انہوں نے داخلہ فارم ہاتھ میں تھماتے ہوئے کہا۔ ایک مرتبہ رنگ میں داخل ہونے کے بعد محمد علی عالمی چیمپئن بن کر ہی رنگ سے باہر نکلے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.