بازار کھل گئے، عیدالفطر کی شاپنگ شروع

راولپنڈی میں بینک روڈ اورصدرکے علاقوں میں کھلی مارکیٹیں بند کرانے پر تاجروں نے احتجاج کیا۔وہیں صوبہ سندھ میں آج اور کل کاروباربند رہے گا جبکہ پیر سے کاروبار کھولا جائے گا
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک + خبر ایجنسیاں) وزیراعظم عمران خان کے اعلان پرلاک ڈاﺅن میں نرمی کردی گئی ہے جس کے بعد مختلف شہروں میں بازار کھل گئے ہیں۔گزشتہ دنوں وزیراعظم کی جانب سے 9 مئی سے ملک میں جاری لاک ڈاﺅن میں نرمی کا اعلان کیا گیا تھا جس کے بعد آج اسلام آباد، راولپنڈی، کوئٹہ اور پشاورمیں بازار کھل گئے ہیں۔بازار کھلتے ہی عوام نے عید کی شاپنگ شروع کردی ہے اور بازاروں میں رش بڑھنے سے طے کردہ ضابطہ کار بھی نظرانداز کردیے گئے ہیں۔
دوسری جانب راولپنڈی میں بینک روڈ اورصدرکے علاقوں میں کھلی مارکیٹیں بند کرانے پر تاجروں نے احتجاج کیا۔وہیں صوبہ سندھ میں آج اور کل کاروباربند رہے گا جبکہ پیر سے کاروبار کھولا جائے گا۔خیال رہے کہ ملک میں کورونا وائرس کا پھیلا ﺅ تیزی سے جاری ہے اور اب تک 641 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں جبکہ متاثرہ مریضوں کی تعداد ساڑھے 28 ہزار سے زائد ہے۔پنجاب میں ہفتے میں 3 دن اور سندھ میں 2 دن مکمل لاک ڈاﺅن کا اعلان کیا گیا ہے جبکہ بلوچستان میں لاک ڈان کو اسمارٹ لاک ڈان میں تبدیل کردیا گیا ہے۔
ملک کے بیشتر علاقوں میں آج سے کاروبار شروع ہوگیا اور دکانیں کھل گئیں تاہم کراچی میں کاروبار بدستور بند ہے۔وزیراعظم عمران خان کی جانب سے کورونا وائرس کے باعث 45 روز سے نافذ لاک ڈان میں نرمی کے بعد آج سے مختلف علاقوں میں کاروبار زندگی بحال ہونا شروع ہوگیا تاہم پبلک ٹرانسپورٹ بند ہے جس کے باعث لوگوں کو آمد و رفت میں مشکلات کا سامنا ہے۔دن کے آغاز پر بازار اور دکانیں کھل گئیں تاہم بڑے شاپنگ مالز، بڑی مارکیٹیں اور پلازے بند رہے۔ تمام کاروبار فجر سے شام 5 بجے تک کھولے جائیں گے۔
اسپتالوں میں او پی ڈیز، نادرا دفاتر سمیت ضروری خدمات کے ادارے بھی کھلے ہیں اور شاہراہوں پر ٹریفک میں بھی اضافہ ہوگیا۔ انتظامیہ دکانوں اور مارکیٹوں میں ایس او پیز پر عملدرآمد کے لیے پر عزم ہے جبکہ کاروباری مراکز میں کورونا سے بچا کی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے میں شہریوں کا ملا جلا ردعمل ہے۔ اہم شاہراہوں پر پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے جوان تعینات ہیں جبکہ گشت بھی جاری ہے۔ طویل عرصے بعد کاروبار بحال ہونے پر تاجر تو خوش ہیں لیکن ساتھ میں عوام بھی سکھ کا سانس لے رہے ہیں کیونکہ ڈیڑھ ماہ کی بندش سے ضروریات زندگی کا سامان خریدنے میں مشکلات کا سامنا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے