0

کب تاج اچھالے جائیں گے؟

گذشتہ جمعہ کے دن پاکستان کی قومی اسمبلی کے حکومتی ارکان نے ایک مذمتی قرارداد منظور کی ہے جس میں امریکی کانگریس کی قرارداد جس میں پاکستان میں انتخابات میں دھاندلیوں کی مذمت کی گئی تھی،پر اظہار برہمی کیا کہ امریکی کانگریس نے ایسی قرارداد پاس کر کے پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی ہے۔روزنامہ ڈان کی خبر کے مطابق، اس قرار داد میں پاکستان تحریک انصاف کے اراکین نے حصہ نہیں لیا ، کیونکہ ان کو اس قرارداد کی تیاری میں اعتماد میں نہیں لیا گیا تھا۔ انہوں نے یہ کہہ کر کہ امریکی قرارداد پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں ہے، بالواسطہ امریکی قرارداد کی حمایت بھی کی ۔
ان لوگوں سے جو جعلی فارم 47 کی مدد سے ، چوری شدہ ، جھوٹے ووٹوں سے رکن اسمبلی بنے تھے ان سے اور کیا توقع کی جا سکتی تھی۔امریکی قرارداد نے، کروڑوں پاکستانیوں کے دل کی آواز پر، انہی لوگوں کے انتخاب پر تفتیش کروانے کا مطالبہ کیا ہے۔
قارئین کو یاد ہو گا کہ پاکستان کے عام انتخابات جو 8فروری کو کروائے گئے، اس میں پاکستان تحریک انصاف کو کس کس طرح شرکت سے روکا گیا۔ایسے طریقے دنیا کے کسی ملک میں کسی بھی سیاسی پارٹی کے خلاف استعمال نہیں ہوتے۔سب سے پہلے تو اپریل 2022 میں پاکستانی جرنیل باجوہ، نواز شریف فیملی، اور دیگر سیاستدانوں کی ملی بھگت سے ایک سازش تیار کی ،جس میںامریکی محکمہ خارجہ کے ایک افسر سے پیغام بھجوایا گیا کہ اگر پاکستان نے عمران خان کی حکومت کا تختہ نہیں الٹا تو اس کے ساتھ بہت بری ہو گی۔اس حکم نامے پر جسے پاکستانی سفیر اسد مجید نے ایک خفیہ دستاویز کے طور پاکستان بھجوایا، جسے سائیفر کہتے ہیں،تو فوج اور مخالف سیاستدانوں کے گٹھ جوڑ سے قومی اسمبلی میں عمران خان کی حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی قرارداد پیش کی گئی اور خان کی حکومت ختم کر دی گئی۔یہ سارا کھیل کیوں رچایا گیا؟ اس لیے کہ خان کرپشن کا خاتمہ چاہتا تھا اور مخالفین کو ڈر تھا کہ ان کے کڑوڑوں اربوں کے اثاثے لے لیے جائیں گے۔اور جو گروہ شد و مد کے ساتھ لوٹ مار اور وطن عزیز کی زمینیں اور اثاثے قبض کر رہے تھے، وہ ہر گز ایسا نہیں چاہتے تھے۔امریکنوں نے اپنی وجوہات کی بنا پر اس ٹولے کا ساتھ دیا۔ ان میں خان کا امریکہ کو پاکستان میں اڈے دینے سے انکار، روس سے تعلقات میں بہتری، اور چین کے ساتھ اہم منصوبے، کے علاوہ پاکستان کا یوکرائن پر جنگ میں روس کے خلاف نہ ہونا، شامل تھے۔ان میں سب سے بڑی وجہ اسرائیل کا دبائو تھا کہ عمران خان چونکہ اسلامی دنیا میں مقبول ہو رہا تھا، وہ کبھی اسلامی ممالک کو اسرائیل کے خلاف کھڑا کر سکتا تھا۔اس کی حکومت گرانی لازمی تھی۔
خان کی حکومت گرانے کے بعد ایک عبوری حکومت بنائی گئی ۔اور ایک اور سازش کے نتیجہ میں باجوہ کے جا نشین کا فیصلہ ہوا اور نواز شریف کو پاکستان واپس لانے کے انتظامات کیے گئے۔نون لیگ اور فوج کے تعاون سے عبوری حکومت کے عہدوں کی بند ربانٹ کی گئی۔اس حکومت نے نون لیگ اور پی پی پی کے علاوہ، وردی والوں کی خواہشات کا خاص خیال رکھا گیا ۔عبوری حکومت نے جو مکملاًطاقتور حلقوں کے زیر اثر تھی صرف ایک بڑا مقصد سامنے رکھا اور وہ تھا تحریک کے کارکنوں، قایدین اور حامیوں کو ڈرانا، دھمکانا، گرفتار کرنا، جیلوں میں ڈالنا اور ہر وہ کام جس سے تحریک کے تتر بتر ہونے کے امکانات بڑھ جائیں۔ ،تحریک کے قائدین کو انتخابی مہم چلانے سے روک دیاگیا۔ انہیں کہیں بھی جلسہ کرنے اور جلوس نکالنے کی اجازت نہیں دی گئی۔تحریک کے قائد عمران خان کو جھوٹے مقدمے بنا کر قید کر دیا گیا اور اس کی تصویر لگانا اور نام لینا تک منع کر دیا گیا۔فوجی تنصیبات پر جعلی حملے کروا کر تحریک کے ہزاروں کارکنوں اور قائدین کو گرفتار کیا گیا اور ان پر دہشتگردی کے الزام لگا کر فوجی عدالتوں میںبرُی سے برُی سزائیں دلوانے کا منصوبہ بنایا گیا۔ یہ سب کافی نہیں تھا۔ تحریک انصاف کو اس کے انتخابی نشان سے محروم کردیا گیا۔ اس ناپاک حرکت میں الیکشن کمیشن اور چیف جسٹس قاضی عیسیٰ نے پوری ڈھٹائی سے عمل کروایا۔یہ سب کچھ کافی نہیں تھا۔تحریک کو اپنی انتخابی مہم چلانے سے روک دیا گیا۔
ان تمام مشکلات کے باوجود، جب 8فروری 2024کو عام انتخابات ہوئے تو عوام کی اکثریت نے تحریک کے نمائندوں کو جو آزاد امیدوار بن کر سامنے آئے تھے، ان کو ووٹ دیئے۔جب الیکشن کمیشن اور عبوری حکومت کو اور دوسری پارٹیوں کو پتہ چلا تو پلان بی پر عملدرآمد کیا گیا۔ اس پلان کے مطابق، فارم 45کے اندراجات کی سمری فارم47پر کی جاتی تھی ان میں ریٹرننگ آفیسرز کو ہدایات دی گئیں کہ اعداد و شمار تبدیل کر کے نون لیگ، پی پی پی اور ایم کیو ایم کے ہارے ہوئے امیدواروں کو جتوایا جائے۔ اس حرکت کا انکشاف راولپنڈی کے کمشنر نے ایک واضح اعلا ن میں کر دیا۔ تحریک کے امیدواروں کو تو پتہ تھا کہ ان کے ووٹ ان جعلی جیتنے والوں سے زیادہ تھے۔لیکن ہمارے الیکشن کمیشن نے متواتر عبوری حکومت کے احکام مانے۔اس طرح عمران خان جو دو تہائی کی اکثریت کے ساتھ وزیر اعظم کی کرسی لینے والا تھا، جیل کی کوٹھری میں بند کا بند رہ گیا۔
پاکستان میں انتخابات میں اتنی کھلم کھلا اور نا قابل تردید بے ضابطگیاں کی گئیں کہ ان کی آواز پوری دنیا میں پھیل گئی۔ پاکستان میں مکین خبر رساں ایجنسیوں کے نمائندے، سفارت خانے، اور بیرون ملک رہنے والے پاکستانیوں نے اپنے اپنے طریقے سے دنیا کو پاکستانیوں کی کرتوتوں سے آگاہ کرنا شروع کر دیا اورپاکستانیوں نے احتجاج کر نے شروع کر دیئے۔ادھر امریکہ میں یہ خبر پھیل چکی تھی کہ پاکستان کی حکومت بدلنے میں امریکہ کا ہاتھ تھا۔ اس سے پاکستانیوں میں امریکہ کے خلاف جذبات بھڑک رہے تھے جو امریکہ کی مرضی کے مطابق نہیں تھا۔ امریکہ پاکستان کو جنوبی ایشیا کی علاقائی سلامتی کے لیے ضروری سمجھتا ہے اور خصوصاً ایک اسلامی ایٹمی طاقت کو روس اور چین کے حوالے نہیں کرنا چاہتا۔ اس لیے ضروری تھا کہ امریکہ کوئی ایسا کام کرے جس سے پاکستانی خوش ہو جائیں۔
پاکستان کے حالات دیکھ کرکہ وہاں کیسے تحریک کے کارکنوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے جا رہے تھے امریکہ میں مقیم پاکستانی کمیونٹی متحر ک ہو گئی، اور انہوں نے یکسوئی کے ساتھ امریکی کانگریس کے نمائندوں میں پاکستانی الیکشنز کی دھاندلیوں پر آگاہی پھیلائی۔ اس کے ثبوت ہر جگہ سے مل رہے تھے۔ پاکستانی اور بین الاقوامی مبصرین نے ان بے قاعدگیوں کی تصدیق کی۔اس بات میں رتی برابر شبہ نہیں تھا کہ پاکستانی حکومت اور فوج نے عوامی اکثریت جو ووٹ کے ذریعے اپنی رائے کا اظہار کر چکی تھی اسے دبایا۔ اس حد تک کہ اس کا وجود ہی نظر نہیں آتا۔لیکن امریکی کانگریس نے ایک بڑی اکثریت کے ساتھ جو قرارداد پاس کی اس نے پاکستانی جعل سازوں کے سارے خواب بکھیر دیئے۔یہ امریکہ میں مقیم پاکستانیوں کی انتھک محنت کا نتیجہ تھا۔ ان میں سر فہرست PAKPAC اور اسد ملک کا نام آتا ہے۔ ایک صاحب جو پورے واقعہ سے واقف ہیں ان کا کہنا ہے کہ ملک صاحب پر پاکستان اور جو بائیڈن دونوں کی طرف سے بے تحاشا دبائو ڈالا گیا کہ وہ اس کام سے پیچھے ہٹ جائیں۔ لیکن وہ ڈٹے رہے۔ایسے ہی لوگ ہوتے ہیں جو تاریخ رقم کر جاتے ہیں۔اس کاوش میں اور بھی بہت سے نام ہیں جو قارئین کو معلوم ہوتے رہیں گے۔یہاں ہم اس قرار داد کے متن سے اقتسابات پیش کریں گے جو پاکستانی حکومتی ارکان اور اسٹیبلشمنٹ کو پسند نہیں آئیں گے۔
ــ’’ جب کہ پاکستان ریاستہائے متحدہ کے لیے ایک اہم اورقابل قدر شراکت دار ہے۔۔۔ وزارت خارجہ نے سن 2022 میں انسانی حقوق پر ہونے والے سنگین مظالم کا ذکر کیا ہے، جن میں غیر قانونی حراستیں، اور ماروائے قانون قتل، جبری گمشدگیاں، اور ریاست اور اس کے گماشتوں کا لوگوں کو اغوا کر لینا، سیاسی قیدی بنانا، میڈیا پر آزادی رائے اور حق ِتقریر پربے پناہ پابندیاں، اور پُر امن اجتماع اور آزادی اجتماعیت پر سخت قدغنیں ہیں؛
جب کہ پاکستان کے انسانی حقوق کے ادارے نے رپورٹ کیا پولیس نے پاکستانی شہریوں پر، کم از کم بیس موقعوں پر بے اندازہ طاقت استعمال کی، جس کے نتیجے میںکم از کم چار احتجاجی ہلاک ہوئے۔ اور کئی زیادہ زخمی ہوئے۔؛
جب کہ 3 اپریل 2022ء کو وزیر اعظم عمران خان کی ہدایت پر قومی اسمبلی کو توڑ دیا، لیکن سپریم کورٹ کے حکم پر اس حکم پر عمل درآمد روک دیا گیا؛
جب کہ9 اپریل 2022ء کو قومی اسمبلی میں عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کا ووٹ پڑا جس سے خان کی حکومت ختم ہو گئی؛
جب کہ 11 اپریل 2022ء کو قومی اسمبلی نے شہباز شریف کو وزیر اعظم منتخب کر لیاکیونکہ تحریک انصاف نے اسمبلی کا بائیکاٹ کیا اور اسمبلی سے نکل گئے۔
جب کہ پاکستان کا آئین کہتا ہے کہ جب اسمبلی ٹوٹے تو اس کے 90 دن کے اندر انتخابات کروانے چاہیئں، لیکن الیکشن کمیشن نے مردم شماری اور نئی حلقہ بندیوں کا بہانہ بنا کر انتخابات کو ملتوی کر دیا ؛
جب کہ اگست 10،2023 کو وزیر اعظم شہباز شریف کی درخواست پر صدر نے قومی اسمبلی تحلیل کر دی۔
جب کہ آئین پاکستان کے مطابق، وفاقی حکومت کے پاس دفاعی افواج پر تمام اختیارات ہوں گے، اور افواج نے قسم اٹھائی ہے کہ وہ آئین کی پاسداری کریں گے اور سیاست میں مداخلت نہیں کریں گے؛ کہ ایوان نمائیندگان نے یہ فیصلہ کیا ہے ، کہ وہ پاکستان میں جمہوریت اور آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کی حمایت کرتے ہیںجو عوام کی مرضی کے مطابق ہوں۔
وہ صدر امریکہ اور وزیر خارجہ سے چاہتے ہیں کہ وہ حکومت پاکستان کے ساتھ ملکر یقینی بنائیں کہ ملک میں جمہوریت، انسانی حقوق، اور قانون کی عملداری قائم ہو،
وہ پاکستان کی حکومت پر جمہوری اقدار اور اداروںکی پاسداری، اور قانون کی عملداری، اور قانون، آزادی صحافت، اجتماع کی بنیادی آزادی، اور عوام کی آزادی تقریر کے بنیادی تحفطات کو یقینی بنائے، وہ پاکستانی عوام پرجمہوریت میں شرکت پر پابندیاں لگانا، جن میںہراسیمگی، ڈرانا دھمکانا، بلا جواز گرفتاریاں اور حراست، اور ان کے انسانی ، شہری اور سیاسی حقوق کی خلاف ورزیاں،اور کسی بھی سیاسی عمل، انتخابی یا عدالتی عمل کو روکنے کی شدید مذمت کرتے ہیں۔‘‘
یہ ہے وہ قرارداد جو پاکستانی چوروں، جعلی سیاست دانوں اور فصلی بٹیروں کو پسند نہیں آئی، کیونکہ سچ کڑوا ہوتا ہے۔لیکن یاد رہے اس قرار دادکی وجہ سے ہر امریکی ادارہ اور اس کی پاکستان سے متعلق حکمت عملی پر نمایاں فرق پڑے گا۔اور اس کی باز گشت دیر تک اور دور دور تک سنائی دے گی۔کل کو فوج جب امریکہ سے امداد لینے جائے گی تو انہیں وہ پذیرائی نہیں ملے گی جو پہلے ملتی تھی۔بہتر یہی ہو گا کہ کہ سب ادارے اپنی اصلاح کریں اور نمایاں تبدیلیاں لائیں تا کہ کانگریس کو مطمئن کیا جا سکے۔اور کل کلاں جب پاکستان کو امریکی حمایت کی ضرورت پڑے تو وہ مل سکے۔دریا میں رہ کر مگر مچھ سے تو بیر نہیں کیا جاتا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں