0

اب تو پوری دنیا کہہ رہی ہے کہ پاکستان میں فوجی آمریت اور فسطائیت کا دور دورہ ہے!

یو این یا اقوام متحدہ کو ساری دنیا کی قوموں اور ریاستوں کا گھر کہا جاتا ہے اور ان تمام ملکوں نے انسانیت، حقوق العباد، انسانی حقوق، مذہبی، آزادی، تحریر و تقریر کی آزادی، مذہبی اقدار کی آزادی اور دیگر حقوق کے حوالے اور پاسداری کے ایک چارٹر پر دستخط کئے ہیں۔ ہر ملک پراور اس کی حکومت پر لازم ہے کہ وہ ان حقوق پر عملدرآمد کرے۔ اس ہفتے اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ نے اٹھارہ صفحات کی ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں حکومت پاکستان یعنی مارشلاء ایڈمنسٹریٹر حافظ منیر سے مطالبہ کیا ہے کہ PTIکے رہنما اور سابق وزیراعظم عمران خان کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔ ان کی تحقیقات کے بعد جو حقائق سامنے آئے ہیں، رپورٹ میں ان کی مفصل تفصیلات شامل کی گئی ہیں جن کے مطابق نہ صرف پاکستان کے قوانین بلکہ انٹرنیشنل قوانین کے مطابق بھی عمران خان کی گرفتاری اور اڈیالہ جیل میں قید غیر قانونی ہے اور اس کا نہ صرف قانونی بلکہ اخلاقی جواز بھی نہیں بنتا ہے۔ یو این ورکنگ گروپ کی یہ رپورٹ دنیا بھر کے میڈیا میں شائع اور نشر کی گئی ہے۔ اسرائیل سے لیکر برازیل تک، ماسکو سے لیکر گلاسکو تک کوئی ایسا ملک یا شہر باقی نہیں بچا ہے جہاں عمران خان کی یہ خبر پاکستان کے حوالے سے نہ نشر کی گئی ہو۔ اگر اسلام آباد اربوں ڈالر بھی خرچ کر دیتا تو پاکستان کی تشہیر اس قدر نہ ہوتی مگر افسوس کہ یہ تشہیر ملک کے جنرلوں کی وجہ سے مثبت نہیں بلکہ منفی لحاظ سے ہوئی۔ اس تمام ترین بین الاقوامی کوریج سے کئی باتیں دنیا پر واضح ہو گئیں جن میں سب سے پہلے بات یہ کہ مملکت خداداد پاکستان میں اس وقت سارے بنیادی عوامی اور شہری حقوق پامال کئے جارہے ہیں کیونکہ اس یو این کی رپورٹ میں پاکستانیوں کے ان بنیادی حقوق کی معطلی کی بھی بات کی گئی ہے۔ دوسری بات یہ کہ تمام تر پابندیوں اور کردار کشی کے باوجود بھی عمران خان اس وقت نہ صرف اسلامی دنیا بلکہ بین الاقوامی دنیا میں مقبول ترین شخصیت ہیں۔ ذرا تصور کیجیے کہ جس شخص کی آواز پر، تصویر پر، ویڈیو پر بلکہ ہلکی سی پرچھائیں پر بھی پاکستانی کے آرمی کنٹرولڈ میڈیا نے پابندیاں لگائی ہوئی ہیں آج اس ایک شخص عمران خان کی تصاویر، ویڈیوز، سائونڈ بائیٹس اور پورٹریٹس دنیا کے کونے کونے میں صرف اس ایک خبر سے چھائے ہوئے ہیں۔ سوشل میڈیا کا تو ذکر ہی کیا، فائر وال کے باوجود عمران خان ہی ہر جگہ دکھائی اور سنائی دے رہا ہے۔ تیسری بات یہ کہ پاکستان کے چند ذہنی طور پر معذور جرنیلوں کی اسٹرٹیجی ایک بار پھر بہت شرمناک اور عبرتناک طریقے سے ناکام ہو گئی کہ عمران خان کو جیل میں ڈال کر تصویر اور آواز پر پابندی لگا کر اسے پاکستان سے اور دنیا کی نظروں سے اوجھل کیا جاسکتا ہے۔ عمران خان ایک برانڈ کا نام ہے جسے پاکستان کی تشہیر کے لئے استعمال کیا جا سکتا تھا مگر افسوس کہ اتنا بڑا نام، پاکستان کی تحقیر کے حوالے سے لیا جارہا ہے۔ اس ساری صورت حال کے ذمہ دار جنرل باجوہ، جنرل عاصم اور دیگر پاکستانی فوج کے اعلیٰ اہلکارہیں جنہوں نے اپنی ذاتی خواہشات کیلئے اس ملک کو ایک تماشا بنا کر رکھ دیا ہے۔ ہم یہاں پر حکومتی اہلکاروں اور عہدیداروں کا ذکر اس لئے نہیں کرینگے کیونکہ وہ سب اس فوج کے پالتو کتوں کی طرح ہیں، جب حافظ جی کہتے ہیں شو ٹونی شو اور وہ بھونکنا شروع ہو جاتے ہیں۔حافظ جی کہتے ہیں بیٹھ جائو وہ لیٹ جاتے ہیں، بچپن میں ہم اکثر پتلی تماشا دیکھتے تھے اور حیران ہوتے تھے کہ یہ بے جان پتلیاں کس طرح سے ناچتی ہیں۔ تجسس کے ہاتھوں مجبور ہو کر جب قدرے نزدیک جا کر دیکھا تو پتہ چلا کہ ہر پتلی کے ہاتھ، پائوں، منہ غرض ہر حصۂ بدن سے ایک ڈوری بندھی ہوئی تھی جن کو اوپر کھڑا ہوا شخص ہلاتا ہے۔ ہمارے پیارے ملک پاکستان میں آج وہی پتلی تماشا لگا ہوا ہے جس کی ڈوریاں حافظ منیر جیسے ضمیر فروش فوجی ہلارہے ہیں۔ اسی ہفتے امریکی کانگریس کے تین سو اڑسٹھ سینیٹرز نے ایک متفقہ قرارداد منظور کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ آٹھ فروری کو ہونے والے انتخابات میں بہت بڑے پیمانے پر دھاندلی کی گئی ہے اور نتائج کو مکمل طریقے سے تبدیل کر کے اقلیتی جماعت کو اکثریتی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے بجائے حکومت دے دی ہے چونکہ وہ الیکشنز بھی فوج کے نامزد کردہ الیکشن کمشنر اور وزیراعظم کے زیر نگرانی کرائے گئے تھے لہٰذا اس دھاندلی کی بھی براہ راست فوج ذمہ دار ہے۔ ٹائوٹ حکومتی وزراء نے امریکہ میں پاکستانی ڈاکٹروں کی تنظیم کو اس قرارداد کا براہ راست ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے سینیٹرز کو رشوت دے کر یہ قرارداد پاس کرائی ہے۔ ملا کی دوڑ مسجد تک، جس طرح ایک قصائی کا ذہن گوشت کی کٹائی تک اور نائی کی حدِ نگاہ بالوں تک ہوتی ہے اس طرح ان ٹائوٹوں کی سوچ بھی اپنے کردار یعنی رشوت اور کرپشن خوری تک رہتی ہے۔ یہ مینڈک اگر کنوئوں سے باہر آئیں تو انہیں اندازہ ہو کہ ساری دنیا کا سسٹم ان کے سسٹم کی طرح نہیں چلتا ہے۔ پہلی تویہ کہ یہ سینیٹرز اگر رشوت لیتے ہوئے پکڑے گئے تو ساری زندگی جیل میں گزرے گی۔ دوسری بات یہ کہ بقول وزیر صاحب کے تین سو اڑسٹھ سینیٹرز کو اگر ایک ایک ملین ڈالرز بھی رشوت دی گئی تو وہ بن جاتے ہیں تین سو ارسٹھ ملین ڈالرز۔ کیا اتنی بڑی اور خطیر رقم پاکستانی نژاد ڈاکٹرز اور وہ رشوت لینے و الے امریکی سینیٹرز بغیر کسی منی ٹریل کے دے سکیں گے؟ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے متعلق ان نون لیگیوں اور ان فوجیوں کے یہ وہی وہ روئیے ہیں جنہوں نے ان پاکستانیوں کو عمران خان اور اصلی پاکستانی قیادت کے نزدیک کر دیا ہے۔ امریکہ میں جو بھی پاکستانی ہو چاہے وہ گرین کارڈ ہولڈر ہو یا امریکی سٹیزن، ہرایک دل سوہنی دھرتی پاکستان کیلئے دھڑکتا ہے۔ ہم نے بے شمار پاکستانیوں کی آنکھیں سوہنی دھرتی کی محبت میں چھلکتے ہوئی دیکھی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں