اے ا برِکرم………

22

کیا شہر تھا وہ کراچی جو ہمارے شعور میں اپنے بچپن، لڑکپن اور جوانی کی ان گنت یادوں کے
ساتھ بسا ہوا ہے اور زندگی کی آخری سانس تک آباد رہے گا !
تو پھر یہ سوچنے والی بات ہے کہ کس بلا کا ستم بلکہ ظلم ہے ہم پر اور ہماری نسل والوں پرجنہوں نے روشنیوں کے اس شہر میں آنکھ کھولی تھی جس میں بارش ہوتی تھی تو بچے اور جوان باہر گلیوں میں نکل آتے تھے تاکہ بارش میں چھپا چھپ نہائیں۔ نہ اس شہر میں گلیوں میں پانی جمع ہوتا تھا نہ سڑکیں پانی میں ڈوب کر ندی نالوں کا روپ دھار لیتی تھیں اسلئے کہ شہر میں بارش کے پانی کی نکاسی کیلئے جو نالے بنے ہوئے تھے وہ صاف رہتے تھے اور بارش کے بعد منٹوں میں گلیوں اور سڑکوں کا پانی سارے کا سارا ان نالوں کے ذریعہ بہہ جاتا تھا اور جاکے بحیرۂ عرب میںمل جاتا تھا!
آج رونا آگیا جب ایک دوست نے انٹرنیٹ پر ایک خاتون کے گھر کی ویڈیو بھیجی جسمیں وہ شریف خاتون اپنے بیڈ روم میں اس حالت میں اسیر بیٹھی تھیں کہ پورے کمرے میں گھٹنوں گھٹنوں پانی بھرا ہوا تھا اور نکاسی کا کوئی انتظام نہ تھا۔ وہ شریف خاتون انتہائی درد اور بیکسی کے عالم میں سوال کررہی تھیں کہ بارش جو ابرِ رحمت اور ابرِ کرم ہوتی ہے اس بدنصیب شہر کے باسیوں کیلئے زحمت کیوں بن جاتی ہے ؟
ان نیک خاتون کے سوال کا جواب ہمارے پاس ہے لیکن اس کا منہ بولتا جواب تو ہمیں اور دنیا بھر کو ان مناظر سے ملتا رہا جو پاکستان کی نجی ٹی وی چیلنز دن بھر دکھاتی رہیں اور ان مناظر کو دیکھ دیکھ کر ہم جیسے کراچی کے سحر میں مبتلا انگاروں پر لوٹتے رہے۔ صرف دو گھنٹے بارش ہوئی تھی شہر میں لیکن سڑکوں اور محلوں میں پانی کی جیسے ندیاں بہہ رہی تھیں لیکن لعنت ہے سندھ کی وڈیرہ شاہی کی بے حسی پر کہ جو گورنر ہائوس کے باہر کی شاہراہ کو گھٹنے گھٹنے پانی میں ڈوبا دیکھ کر بھی ہمیشہ کی طرح بے حسی کا شکار رہی۔! یہ بدبخت وڈیرہ شاہی کھا گئی کراچی کو لیکن اربابِ اقتدار کی اپنی بے حسی کا بھی جواب نہیں ہے کہ جو آنکھیں بند کئے ہوئے ان لٹیروں کو کراچی کو جی بھر کے لوٹنے کی ہر ممکن سہولت فراہم کررہے ہیں۔
سبب کیا ہے اس کا کہ شہر میں دو چار چھینٹے پڑتے ہیں، چھٹانک بھر بارش ہوتی ہے لیکن شہر میں ندی نالے بہہ نکلتے ہیں ؟ جواب اس کا یہ ہے کہ گذشتہ بارہ تیرہ برس میں شہر جو مسلسل پاکستان پیپلز پارٹی کے اقتدار یا عذاب کا رہین رہا ہے یہ سب اس کا شاخسانہ ہے۔ صحت اور صفائی کے نام پر بجٹ کا ایک ایک دھیلا وڈیرہ شاہی کے پیٹ میں اتر جاتا ہے۔ شہر کے وہ نالے جو بارش کے پانی کی نکاسی کیلئے بنے تھے اور ان چوروں کے اقتدار میں آنے تک ٹھیک ٹھاک کام کرتے رہے تھے اب ان کچی آبادیوں میں بدل چکے ہیں جو ان ڈاکو ؤں نے رشوت کھا کھا کے بسائی ہیں اور جو نالے اس کالے دھندے کی زد میں آنے سے بچ گئے ان کا حال یہ ہے کہ وہ کوڑے کچرے کے پہاڑوں کے نیچے دب چکے ہیں۔ تو پھر بارش کا پانی نکلے تو کیسے؟
وڈیرہ شاہی چوروں اور لٹیروں کا ڈیرہ ہے، زرداری اور اس کے سینکڑوںسوروں کے منہ کو لہو کی وہ پیاس لگی ہے جو کسی طرح سے نہیں بجھتی۔ یہ سب اپنی جگہ لیکن سوال تو یہ ہے کہ وہ مرکزی یا وفاقی حکومت کیا اندھی اور بہری ہے جس نے اپنا گورنر بٹھایا ہوا ہے لیکن گورنر لاٹ صاحب کے ساتھ ساتھ اسلام آباد میں حکومت کے زعمأ اور کارندے سب ہی کراچی کی طرف سے مجرمانہ غفلت اور لاپرواہی کیوں برت رہے ہیں؟
اس سوال کا جواب صرف اور صرف ایک ہے، اور وہ ہے کراچی دشمنی ! بلکہ اب تو بلا خوف و خطر، بلا خوفِ تردید یہ کہا جاسکتا ہے کہ کراچی دشمنی سے زیادہ یہ مہاجر دشمنی کا کرشمہ ہے ! کراچی پاکستان کی کل معیشت کا بیس فیصد سے زیادہ حصہ اپنے زورِ بازو اور اپنے محنت کشوں کے خون پسینے کی جفاکشی سے ادا کرتا ہے اور یہی وہ شہر ہے جو پاکستان میں جمع کئے جانے والے ٹیکسوں اور درآمدی محصولات کا ۵۶ فیصد سرکاری خزانے میں جمع کرواتا ہے لیکن اس کے جواب میں اس شہر کو ملتا کیا ہیِ سوائے حکومتی اور سرکاری غفلت کے سوا اور کچھ زیادہ نہیں ملتا۔
دنیا کے بڑے بڑے مہذب اور ترقی یافتہ ملکوں کو تو جانے دیجئے کہ جنہیں اپنے بڑے شہروں پر ناز ہے۔ کیا کوئی انگلستان کو تصور کرسکتا ہے لندن کے بغیر؟ کیا امریکہ کا جب نام لیا جاتا ہے تو سب سے پہلے نیویارک کا خیال نہیں آتا؟ کیا فرانس کی بات کبھی پیرس کے بغیرہوتی ہے؟ کیا اٹلی کا نام لیتے ہی روم یاد نہیں آتا، وہ روم جسے دیکھ کر ہمارے حکیم الامت کو دلی کی یاد نے تڑپایاتھا ؟
لیکن وہ ممالک بھی جو ترقی کی دوڑ میں فی الوقت مغرب سے پیچھے ہیں وہ بھی اپنے بڑے شہروں پر فخر کرتے ہیں۔ کسی مصری باشندے کے سامنے ذرا قاہرہ کو برا کہنے کی جسارت تو کیجئے وہ مرنے مارنے پر اتر آئے گا۔ بقول شخصے آپ کا ٹیٹوا چبانے کی دھمکی دے گا۔ اور دور کی بات تو جانے دیجئے، کسی بنگالی کے سامنے ڈھاکہ کو برا کہہ کے تو دیکھئے وہ آپ کی حجامت بنادے گا۔ اور تو اور دلی، میری دلی، میری جنم بھومی جو آج بھارت جیسے متعصب ملک کی راجدھانی ہے اور جس کی اکثریت وہ ہے جس کے اجداد کا تعلق دلی سے نہیں ہے بلکہ وہ باہر سے آکے دلی میں آباد ہوگئے ہیں، اس کے باسی بھی اپنے شہر پر ایسے فدا ہیں کہ دلی کے نام کی قسمیں کھاتے ہیں لیکن ایک کراچی ہے جو اپنی آبادی کے اعتبار سے دنیا کے پانچ بڑے شہروں میں شمار ہوتا ہے لیکن پاکستان کے حکمراں ، وہ چاہے کسی سیاسی پارٹی سے تعلق رکھتے ہوں،انہیں کراچی کا نام لیتے ہوئے شرم آتی ہے !
کراچی غنیمت تھا جب تک پاکستانی جمہوریت پر ایوب خان نے شبخون نہیں مارا تھا اس کے بعد تو جو سریر آرائے سلطنت ہوا اس نے کراچی دشمنی کو اپنی ترجیحات میں سرِ فہرست رکھا۔ سوائے ایک مختصر عرصے کیلئے جب پرویز مشرف حکمراں تھے کراچی پر سرکارِ مدار کی کچھ نظرِ کرم رہی اور چند ایک قابلِ تعریف ترقیاتی منصوبے پورے ہوئے جن کا فیض آج بھی شہر میں دکھائی دیتا ہے ورنہ تو ہر حکومت نے کراچی دشمنی میں ایک دوسرے پر سبقت لیجانے میں ہی اپنی توانائیاں صرف کیں۔ بغضِ معاویہ مشہور ہے لیکن بغضِ کراچی اسے بہت پیچھے چھوڑ گیا ہے، کم از کم پاکستان کی حد تک !کراچی سے بے اعتنائی کی سب سے بڑی وجہ مہاجر دشمنی ہے جبکہ گذشتہ تیس چالیس برس میں کراچی کی مہاجر اکثریت ختم ہوچکی ہے اور یہ باقاعدہ منصوبہ کے تحت ہوا ہے۔ ایوب کے دور سے کراچی میں پختون نفری بڑھنی شروع ہوئی اور آج حالت یہ ہے کہ خیبر پختونخواہ سے زیادہ پختون کراچی میں آباد ہیں۔ ڈاکو زرداری نے بھی یہی کیا کہ چند سال پہلے سندھ میں جب سیلاب آیا تو جتنے بے گھر اندرونِ سندھ سے سیلاب سے بچنے کیلئے کراچی آئے انہیں کچی آبادیاں بساکرآباد کیا گیا تاکہ وڈیروں کیلئے ووٹ کراچی سے بھی حاصل کئے جاسکیں!
کراچی والوں نے عمران خان پر تکیہ کیا اور ایم کیو ایم کے بجائے عمران کی تحریکِ انصاف کو کامیابی دیکر اسمبلیوں میں بھیجا لیکن عمران کراچی دشمنی نہ سہی کراچی سے بے تعلقی اور بے اعتنائی میں ہر سابق حکمراں کو پیچھے چھوڑ چکا ہے۔ کراچی اور اس کے باسیوں سے کھلی دشمنی کا اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہوگا کہ سندھ کی وڈیرہ شاہی کو اسلام آباد کی طرف سے کھلی اجازت ہے کہ وہ شہر کا جو چاہے حال کرے اس سے نہ کوئی باز پرس ہوگی نہ اس کی کھلی بدمعاشیوں پر کوئی مواخذہ ہوگا۔ کتنے ہی مواقع آئے جب سندھ حکومت کو برطرف کرنے اور صوبہ پر گورنر راج، آئینِ پاکستان کے تحت، نافذ کرنے کا ہر قانونی اور اخلاقی جواز موجود تھا لیکن کپتان کا رویہ وہ رہا جسے پنجابی زبان کا یہ جملہ کما حقہ ادا کرتا ہے، سانوں کی !
زرداری اور اس کے گماشتے جو سندھ حکومت میں کے گماشتے ہیں وہ سب گدھ ہیں اور گدھوں کی طرح کراچی کو نوچ نوچ کر کھا رہے ہیں اور وہ شہر جو کبھی اپنی روشنیوں میں نہایا رہتا تھا آج گندگی سے اٹے ہوئے نالوں، ٹوٹی پھوٹی سڑکوں، ابلتے ہوئے گٹروں اور بڑی سے بڑی سڑکوں کے کناروں پر کوڑے اور کچرے کے ڈھیروں کے سبب دنیا کے گندے ترین شہروں میں شمار ہونے لگا ہے۔!
کراچی دنیا کا واحد بڑا شہر ہے جسمیں پبلک ٹرانسپورٹ کا کوئی نظام نہیں ہے۔ کراچی دنیا کا واحد بڑا شہر ہے جسمیں بسوں کا کوئی مرکزی ڈپو نہیں ہے، کراچی دنیا کا واحد بڑا شہر ہے جس میں نلکوں میں پانی نہیں آتا بلکہ شہری پانی جیسی بنیادی سہولت کیلئے چوروں اور لٹیروں کی مافیا کے ہاتھوں یرغمالی بنے رہتے ہیں۔ کراچی میں کوڑا نہیں اٹھتا بلکہ وزیر اعلیٰ اور شہر کا میئر جو خود بھی بڑا چور اور ڈان الطاف جیسے غدارِ وطن کا گماشتہ ہے اس موضوع پر سوائے بیان بازی کے اور کچھ نہیں کرتے۔ کوڑا اٹھانے کے ٹرک پرزوں کی چوری کے باعث ناکارہ کھڑے ہوئے ہیں اور اس مد کا بجٹ میئر اور وزیر اعلیٰ کی جیبوں میں جاتا ہے۔
کراچی کے شہری بارہ بارہ گھنٹے بجلی سے محروم گرمی سے پریشان جہنم میں بھنتے رہتے ہیں لیکن کے الیکٹرک، جو نواز شریف کو کڑوڑوں رشوت دیکر اس بنیادی سہولت پر قبضہ کرکے بیٹھی ہوئی ہے وہ شہریوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کیلئے ہزاروں لاکھوں روپے کے بل بھیجنے میں دیر نہیں لگاتی !
وزیر اعظم عمران خان کے پاس ہر مرض ، ہر مصیبت کا ایک ہی علاج ہے۔ وہی گھسا پٹا ہوا ایک جملہ جسے سن سن کے کراچی والے تنگ آچکے ہیںِ آپ نے گھبرانا نہیں ہے! کوئی وزیر اعظم کو بتلائے کہ میاں یہ حکومت کا کاروبار ہے کوئی کرکٹ کا میدان نہیں ہے جہاں آپ اپنے کھلاڑیوں کو یہ تلقین کرکے ان کا حوصلہ بڑھائیں کہ گھبرائو نہیں، ابھی بہت وقت ہے، بہت سے اور بچے ہوئے ہیں ہم مخالف ٹیم کا صفایا کردینگے۔ میاں، یہاں زرداری اور اس کے چور کراچی کا صفایا کئے دے رہے ہیں اور کے الیکٹرک ان کے زخمی سینوں پر مونگ دل رہی ہے اور قدرت تمہارے ساتھ ساتھ ان بیگناہوں کا بھی امتحان لے رہی ہے اپنے ابر کو برسا کے ! دنیا میں بارش ہوتی ہے تو لوگ شکر ادا کرتے ہیں، ابر کرم کہہ کر بادلوں کا استقبال کرتے ہیں، ہم بھی یہی کیا کرتے تھے جب کراچی شہر تھا، عروس البلاد تھا، لیکن اب وہ شہر اس بستی کا نمونہ پیش کرتا ہے جس پر کوئی خونخوار غنیم حملہ آور ہوا ہو اور اس کا سب کچھ لوٹ کر چلاگیا ہو
اسے یتیم اور بے سہارا چھوڑ کر۔ ابرِ کرم کراچی والوں کیلئے سراپا زحمت کا سامان بنا دیا گیا ہے۔ کوئی ہے جو اس شہر ناپرساں اور اس کے بے بس باسیوں کیلئے نجات دہندہ بن سکے؟ کوئی ہے پاکستان کی حکمراں اشرافیہ میں جسے اس شہر سے واقعی ہمدردی ہے؟ کوئی ہے جو اس کے آنسو پونچھے؟

Leave A Reply

Your email address will not be published.