خان دشمنی میں اندھے نادان سیاستدان کی آخری حد کیا ہے؟

26

بعض اوقات ہمارے ملک کے سیاستدان اپنی سیاسی وابستگیوں اور ذاتی دشمنیوں میں اتنے آگے بڑھ جاتے ہیں کہ پاکستان کی اساس اور ریاست کے مفاد کو بھی نقصان پہنچانے سے گریز نہیں کرتے۔ اس حوالے سے آج کل ایک مرتبہ پھر عمران خان کے معاون خصوصی برائے اوورسیز پاکستانی زلفی بخاری کو نشانہ ہدف بنایا جارہاہے اپوزیشن کی طرف سے اس قسم کے ہدف میں اگر مخالف پر کوئی بس نہ چلے تو پھر اس کے قریبی دوست یا رشتے دار کو مشق ستم بنایا جاتا ہے تاکہ اس مخالف کو ذہنی اذیت اور نفسیاتی دبائو ڈال کر تنگ کیا جائے ۔ اس سلسلے میںخود ہماری مثال موجود ہے بات کوسمجھنے کے لئے ہیوسٹن میں ایک بہت معروف شخصیت،کامیاب بزنس مین اورسماجی ایکٹویسٹ غلام بومبے والا ہیں جنہیں نہ صرف ہیوسٹن کے پاکستانی بلکہ امریکہ اور پاکستان کامیڈیا بھی بہت اچھی طرح سے جانتا ہے اوپرا ونڈفرے سمیت انہیں مختلف امریکن شوز میں مہمان کی حیثیت سے بلایا جاتا رہاہے۔ انھوں نے شہر میں پاکستان،پاکستانیات کے حوالے سے بہت بڑے بڑے کام کئے ہیں۔
انہوں نے امریکہ کی تاریخ کا پہلا پاکستان سینٹر ،ہیوسٹن میں قائم کیا تھا جس کی حسب معمول پاکستانی مخصوص ذہنیت کے حوالے سے کچھ لوگوں نے کافی مخالفت کی تھی اور اس کی راہ میںروڑے اٹکائے تھے مگر بندہ چونکہ بہت چست اور اسمارٹ تھا لہٰذا اتنا بڑا ٹارگٹ انجام کو پہنچ گیا ، اسی پاکستانی سینٹر کے حوالے سے ایک جاہل سفارتی اور کوٹہ سسٹم والے سندھی پاکستانی کا ان کے ساتھ اختلاف ہوا تو اس نے غلام بوبے والا کے خلاف مہم شروع کردی۔ ہماری چونکہ غلام کے ساتھ بہت دوستی تھی اور تمام صورتحال سے بھی واقفیت تھی لہٰذا ہم انہیں اپنے ریڈیو پروگرام’’ینگ ترنگ‘‘ میں بلا کر اپنانقطہ نظر اہالیان ہیوسٹن کے سامنے بیان کرنے کا موقع فراہم کرتے تھے ۔ یہ بات غلام کے اس مخالفین کو بہت کھل گئی اور صرف اس وجہ سے کہ ہمارے اور بومبے والا فیملی کے بہت قریبی تعلقات تھے اس نے غلام کو ذہنی اذیت دینے کے لئے ہمیں اور ہماری فیملی کو نشانہ بنانا شروع کردیا اورہر قسم کے رذیل اور رکیک حملے ہمارے خلاف کرنا شروع کردیئے ۔ اسی دوران ایک ملاقات میں اس شخص نے ہمیں آفر کیا کہ اگر تم غلام کی حمایت کرنا بند کردو اور اسے اپنے ریڈیو پر نہ بلائو تو میں تمہارے خلاف بولنا بند کردوں گا کیونکہ اس تمام معاملے سے میرے اور تمہارے درمیان تو کوئی اختلاف ہی نہیں ہے ، میری تو غلام سے دشمنی ہے تم سے تو نہیں ہے۔ مگر چونکہ سیدزادہ بھی اپنے قول و فعل کا پکا اور حق کا حامی تھا لہٰذا اسے صاف منع کردیا کہ ایسا نہیں ہوسکتا۔ وہ شخص ہمارے جواب سے پاگل پن کی حد تک کو چھو گیا اور باقاعدہ ہمارے اور غلام اوردیگر ساتھیوں کے خلاف ہرزہ سرائی جاری رکھی ۔ ہماری اور دیگر ہمنوا دوستوں کی ثابت قدمی اپنا رنگ لائی اور وہ ذلیل و خوار ہو کر بھونک بھونک کر ہانپ ہانپ کر خاموش ہو کربیٹھ گیا ۔ اس واقعے کو یہاں بیان کرنے کامقصد یہ ہے کہ آج کل کچھ لوگ عمران خان کے ساتھ بھی اسی لائحہ عمل پر کار فرما ہیں چونکہ زلفی بخاری عمران خان کے بہت قریبی دوست اور ساتھی ہیں لہٰذا جب ان کا عمران خان پر بس نہیں چلتا تو وہ اس بے چارے لندن میں پیدا ہونے والے عمران خان کے اس دوست کے خلاف آئے دن کچھ نہ کچھ اچھالتے رہتے ہیں تاکہ انہیں تنگ کیا جاسکے بالکل اسی طرح سے جب عمران کی سابقہ اہلیہ جمائما خان کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے تھے ۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ خواجہ آصف جیسا شخص جوبدقسمتی سے وزیر خارجہ کے عہدے پر بھی فائز رہا تھا جبکہ پنجاب کے بعد اسے کوئی دوسری زبان کی سمجھ بوجھ تو نہیں تھی اور ملک کا وزیر خارجہ ہوتے ہوئے وہ دبئی کے اقامے کا یعنی گرین کارڈ ہولڈر تھا ، وہ زلفی بخاری کی دہری شہریت کے ایشو کو اچھال رہا ہے جو اتنہا ئی قابل مذمت ہے۔ زلفی بخاری کو اسی جاہل آدمی نے اس سے پیشتر ایران سے پاکستان آنیوالے زائرین کی آمد اورملک میں زائرین کی واپسی پر کورونا پھیلنے کاالزام لگایا تھا ، صرف اسی وجہ سے کہ زلفی بخاری کا تعلق اہل تشیع سے تھا اور وہ عمران کے قریبی ساتھیوں میں سے ہیں ۔ انہیں اتنا بھی خیال نہیں آیا کہ شیعہ زائرین پر کورونا پھیلانے کاالزام لگانے اورزلفی بخاری کو مورد الزام بنانے کے چکر میں نہ صرف ملک میں فرقہ واریت کوہوا دے رہے ہیں بلکہ قریبی پڑوسی ملک ایران سے تعلقات کو بھی تباہ کر رہے ہیں۔ اب وہ اسی خا ن دشمنی میں اربوں ڈ الرز کا زرمبادلہ بھیجنے والے بیرون ملک پاکستانیوں کو بھی اس قسم کے گھٹیا حملوں اورحربوں سے بدظن اورسبوتاژ کررہے ہیں تاکہ وہ پھر سے نیڈی کو استعمال کرناشروع کردیں۔ پتہ نہیں گھٹیا ذہنیت اور کمی سوچ رکھنے والے چند ذہنی طورپر معذور ان پاکستانیوں کو عقل آئے گی جو ہیوسٹن سے لیکر اسلام آباد تک پھیلے ہوئے ہیں ۔ آخرکار تنگ آ کر زلفی بخاری نے یہاں تک کہہ دیا ہے کہ اگر عمران خان نے کہا تو وہ اپنی دہری شہریت بھی چھوڑ دیں گے مگر سوال یہ ہے کہ زلفی کی دہری شہریت چھوڑ دینے سے کیا پاکستان کے سارے مسائل حل ہوجائیں گے؟ یہاں ہم بتاتے چلیں کہ بیرون ملک مقیم دہری شہریت یا گرین کارڈ یا پی آر کارڈ ہولڈرز پاکستانی خواجہ آصف جیسے دوٹکے کے لوگوں سے کہیں زیادہ محب وطن ملک کے ہمدرد اور غم خوار شہری ہیں۔ اور تمام تر دل آزاریوں کے باوجود لوٹ کرپاکستان آتے ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.