Select Language
ہفتہ وار کالمز

صدر ٹرمپ کا بیانیہ اور زمینی حقائق

ہر پاپولسٹ لیڈر کی طرح ڈونلڈ ٹرمپ بھی دن رات ایک مضبوط بیانیہ بنانے میں مصروف رہتے ہیں۔ وہ اگر ٹیلی ویژن سکرین پر نظر نہ آئیں تو سوشل میڈیا پر بیانات دے رہے ہوتے ہیں ۔ جمعے کے دن انہوں نے اعلان کیا کہ ایران نے آبنائے ہرمز کھول دی ہے۔ عالمی معیشت سے متعلق اس اہم ترین خبر کی تصدیق ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی کر دی۔ اسکے بعد اس تاثر کو تقویت ملی کہ اسلام آباد میں بہت جلد مذاکرات کا دوسرا رائونڈ شروع ہو جائے گا۔ صدر ٹرمپ کے اس انکشاف کے بعد دنیا بھر کی سٹاک مارکیٹوں میں بہتری آ گئی اور تیل کا بیرل 105 ڈالرز سے کم ہو کر 89ڈالرز پر آ گیا۔ اسکے چند گھنٹوں بعد صدر ٹرمپ نے ایک دوسری سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا کہ کوئی امن معاہدہ ہونے تک امریکہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی جاری رکھے گا۔ جوں جوں دن گذرتا گیا صدر ٹرمپ کے نت نئے بیانات سامنے آتے رہے۔ یوں لگتا تھا کہ انہوں نے ایران کے ساتھ تمام اختلافات طے کر لیے ہیں اور اب صرف ایک معاہدے پر دستخط ہونا باقی ہیں ۔ اُس دن بلوم برگ نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران یورینیم کی افزودگی مکمل طور پر ختم کر دیگا اور اسکے عوض ہمیں اسے کچھ بھی نہیں دینا پڑے گا۔ اسکے کچھ دیر بعد انہوں نے CBS نیوز پر یہ خوشخبری سنائی کہ ایران نے انکی تمام شرائط قبول کر لی ہیںاور اب امریکہ ایران کے تعاون سے افزودہ یورینیم کو تہہ خانوں سے نکال کر لے آئے گا۔ اسکے فوراًبعد ایران کی وزارت خارجہ نے ریاستی میڈیا پر اعلان کیا کہ افزودہ یورینیم کی منتقلی کے امریکی مطالبے کو مسترد کر دیا گیا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ اِس قیمتی قومی سرمائے کی حفاظت ایران کی سرزمین کی طرح کی جائیگی۔
ایران میں 17 اپریل یوم مسلح افواج کے دن کے طور پر منایا گیا۔ اس روز ایران کے سرکردہ رہنمائوں نے اپنی مسلح افواج کو خراج تحسین پیش کرنے کے علاوہ امریکہ اور اسرائیل سے جنگ پر بھی کھل کر اظہار خیال کیا۔ ان بیانات میں امریکہ سے مزید مذاکرات پر ملا جلا رد عمل سامنے آیا ہے۔ ایران کی سلامتی کونسل کے ترجمان نے کہا ہے کہ امریکہ کی نئی تجاویز زیر غور ہیںاور ان پر قومی سلامتی کے خلاف کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ اسی روز پاسداران انقلاب نے امریکہ کی ناکہ بندی کو بحری قذاقی قرار دیتے ہوے آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کرنے کا اعلان کیا۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق اس اقدام کی وجہ امریکہ کی طرف سے جنگ بندی معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیاں ہیں۔ ایران کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے کہا کہ ایران نے آبنائے ہرمز کے لیے جو نیا بحری نظام بنایا ہے اب اس پر سختی سے عملدرآمد کیا جائیگا۔ اس نظام کے تحت صرف وہی تجارتی جہاز اس آبی راستے سے گذر سکیں گے جو مطلوبہ فیس ادا کریں گے اورجنہیں انقلابی گارڈز کی جانب سے اجازت حاصل ہو گی۔ ایرانی پارلیمان کے سپیکر باقر قالیباف نے صدر ٹرمپ کے بیانات کے بارے میں کہا کہ انہوںنے ایک گھنٹے میں سات جھوٹ بولے ہیں۔اس سے ایک روز پہلے امریکہ کے سیکرٹری آف ڈیفنس پیٹ ہیگسیتھ نے صدر ٹرمپ کی گذشتہ ہفتے کی دھمکی کو دہراتے ہوے کہا کہ انکی مسلح افواج ایران میں بجلی کے انفرا سٹرکچر کو تباہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔ امریکی وزیر دفاع نے اپنی شعلہ بیانی کو استعمال کرتے ہوے کہا کہ ” The U.S military was maximally postured to restart combat operations.”
دونوں متحارب فریقین کی اس تندو تیز بیان بازی سے یہ تاثر قائم کیا جا سکتا ہے کہ امن مذاکرات کے دوسرے دور کی امیدمعدوم ہوچکی ہے۔ یہ مؤقف اس لیے مبنی بر حقائق نہیں کہ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کے بے مثال مصالحانہ کردار نے امریکہ اور ایران دونوں کو ایک نئی تباہ کن جنگ سے نکلنے کا راستہ مہیا کیا ہوا ہے۔ امریکہ میں اس راستے کو Exit Ramp کہا جاتا ہے۔دنیا بھر میں اس بے مقصد جنگ کی مخالفت اپنی جگہ امریکہ میں اس کار لا حاصل کو ختم کرنے کے لیے صدر ٹرمپ پر اتنا دبائو ہے کہ وہ اپنے مخالفین کے ساتھ ٹیلیویژن اور سوشل میڈیا پر ایک چو مکھی جنگ لڑنے پر مجبور ہیں۔ یہ طرز عمل ایک طرف انکی ذہنی کیفیت کا آئینہ دار ہے تو دوسری طرف ان پر بڑھتے ہوے دبائو کا پتہ بھی دیتا ہے۔ اس دبائو کا اندازہ آجکل سینٹ اور ہائوس میں پیش ہونیوالی قراردادوں سے لگایا جا سکتا ہے۔ جمعرات کو ہائوس میں ڈیموکریٹس نے ایک قرارداد پیش کی جس میں صدر ٹرمپ سے اس جنگ کے خاتمے کا مطالبہ کیا گیا۔ یہ قرارداد 214کے مقابلے میں213ووٹوں سے نامنظور ہوئی۔ ڈیموکریٹس اگر ریپبلیکن پارٹی کا صرف ایک اور ووٹ حاصل کر لیتے تو صدر ٹرمپ کو ایک نا گفتہ بہ صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا۔ امریکہ میں ایران جنگ کی مخالفت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ہائوس فارن ریلیشن کمیٹی کے ریپبلیکن چیئر مین Brian Mast نے اس قرارداد کی بمشکل تمام منسوخی کے بعد کہا کہ انکی اپنی پارٹی کے اندر لوگوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا ہے اور اگر اس قرارداد کو دوبارہ پیش کیاگیا تو مختلف نتیجہ سامنے آ سکتا ہے۔ سینٹ میں بھی ریپبلیکن پارٹی بڑی مشکل سے صدر ٹرمپ کا دفاع کر رہی ہے۔
ان واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ صدر ٹرمپ ایک طویل عرصے تک حقائق کو مسخ کر کے اپنی مرضی کا جو بیانیہ تشکیل دیتے رہے ہیں اب اسکے دن پورے ہو گئے ہیں۔ ایران کو اگر چہ کہ اربوں ڈالرز کا نقصان اٹھانا پڑا ہے مگر اس نےصدر ٹرمپ کے ناقابل یقین بیانیے کا پردہ چاک کرکے انہیں ایک ایسے بحران سے دوچار کر دیا ہے جس کا سامنا انہیں اس سے پہلے نہیں کرنا پڑا تھا۔
نوٹ۔ یہ کالم 18 اپریل کولکھا گیاتھا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button