دہشت گرد کس نے بنائے ؟ حیرت انگیز انکشافات

ہمارے بھولے بھالے پاکستانی سمجھتے ہیں کہ اب بہت ہو چکا۔ اب تو عمران خان کو رہا ہو جانا چاہیئے۔ جی۔ اس ظلم کی دنیا میں کوئی انتہا نہیں۔اگر ظلم کی انتہا ہوتی تو مصر میں فوجی حکومت کبھی کی ختم ہو گئی ہوتی۔پاکستان اس مثال کو اپنے لیے مشعل راہ بنائے بیٹھا ہے۔دنیا میں کئی مثالیںہیں جہاں فوجی حکومتیں دہایوں تک چلی جاتی ہیں اور ان کو ہٹانا نا ممکن ہو جاتا ہے۔جیل میں سیاسی رہبروں کی قید میں سال ہا سال گذر جاتے ہیں۔ جنوبی افریقہ میں نیلسن منڈیلہ کو27سال قید رکھا گیا۔اس کی قوم اس کو رہا نہیں کروا سکی۔اس کی وجہ کچھ بھی ہو سکتی ہے لیکن اکثر حکمرانوں کا خوف ہوتا ہے کہ اگر رہا کیا تو پھر سے حکومت بنا لے گا اور پھر اپنے پکڑنے والوں کو انتقام کا نشانہ بنائے گا۔دوسری وجہ بیرونی طاقتیں بھی ہو سکتی ہیں جو اس لیڈر سے ڈرتی ہیں۔جہاں تک عمران خان کاتعلق ہے، یہاں دونوں عناصر کار فرماں نظر آتے ہیں۔
یہ راز کچھ قومیں جانتی ہیں جن میںایک قوم مشرق وسطیٰ کی ہے۔ جو خدا جانے کیوں مسلمانوں کی دشمن ہے۔ پینتیس چالیس سال پہلے، نیتین یاہو نے امریکہ کے صدر کو ایک فہرست دی تھی جس میں چھ ملکوں کے نام تھے۔اور اس صدر کوکہا گیا تھا تمہارا کام ہے کہ ان چھ ملکوں کو تباہ برباد کر دو۔یہ ملک تھے عراق، شام، لیبیا، ایران، صومالیہ اور سوڈان۔یہ بات پروفیسر جیفری سیکس نے بتائی تھی۔امریکن صدور نے یکے بعد دیگرے ان چھ میں سے پانچ ملکوں کی تباہی پھیر دی۔ ایران بچا ہوا تھا۔ان ملکوں میں کیا قدر مشترک تھی؟ یہ سب مسلمان ملک تھے۔اور غالباً ان کی سرحدیں عظیم تر اسرائیل سے ملتی تھیں یا یہ کہ ان کے حکمرانوں نےاسرائیل کے خلاف بیان دئیے تھے؟۔ لیبیا کے کرنل قذافی بہت مقبول تھے اور اسلامی دنیا کی قیادت لے سکتے تھے۔ اسی طرح عراق کے حافظ اسد۔ لگتا ہے کہ اسرائیل کو ایران سے خدا واسطے کا بیر تھا۔وہ اس کے نیوکلیر پروگرام سے خوفزدہ تھا۔ اور اسے اس بات کا شدید خطرہ تھا کہ ایک دن ایران ایٹم بم بنا لے گا اور اسےاسرائیل پر داغ دے گا۔حالانکہ کوئی بھی ملک جسے پاس ایٹم بم ہو ، وہ کسی ایسے ملک پر وہ بم نہیں پھینکتا جو اس کا جواب ایٹم بم سے دے سکتا ہو۔اسے MAD کہا جاتا ہے یعنی Mutually Assured Destruction جسے اُردو میں ہم کہیں گے، آپس کی یقینی تباہی۔ایران اگر ایٹم بم بنا بھی لے تو بھی وہ اسرائیل پر نہیں پھینکے گا کیو نکہ اس کے جواب میںاسر ائیل ایران پر ایٹمی دھماکوں کی برسات کر دے گا۔لیکن کہتے ہیں کہ اسرائیل اتنا خطرہ بھی مول نہیں لینا چاہتا۔یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ صرف ایران کو تباہ کرنے کا ایک بہانہ ہے، اصل مقصد مسلمانوں کی نسل کشی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب اور ایران میں مخاصمت کی کوششیں کی جاتی ہیں۔کہ مسلمان آپس میں لڑ کر ہلاک ہوں۔ ایک اہم نقطہ یاد رکھیں کہ اسرا ئیل ہمیشہ امریکہ اور دوسروں کو لڑواتا ہے اور اس کے اپنے فوجی با حفاظت رہتے ہیں۔مسلمانوں کو بھی ختم کرنے کے لیے وہ امریکنوں کو یا مسلمانوں کو ہی استعمال کرے گا۔ کیا مسلمان کبھی ان ہتھ کنڈوں کو پہچان سکیں گے؟ اور اپنے خلاف سازشوں کو پہچان کر ختم کر سکیں گے؟اب ذرا مندرجہ ذیل خبر کو پڑھیے اور سر دھنیے:
سوشل میڈیا بھی کیا قیامت ہے؟ ایک وڈیو دیکھی جس میں ایک سابق سی آئی اے تجزیہ کار نے یہ جواب اس وقت دیا جب اس سے ایک ٹی وی کی تبصرہ کار خاتون نے پوچھا کہ ایسا کیا ہو کہ اسرائیل کہے کہ اب میرے سارے مقاصد پورے ہو گئے ہیں، اب ہم بس کرتے ہیں ۔ جواب ملا ۔’’ اسرائیل چاہتا ہے کہ تمام عرب اور مسلمان مر جائیں۔‘‘ تب ہی اس کا کلیجہ ٹھنڈا ہو گا۔اسرائیل صرف اپنی حفاظت نہیں چاہتا، وہ اس صہیونی خرافات پر ایمان رکھتے ہیں، کہ انکی سلطنت نیل سے لیکردریائے فرات تک کی سر زمین تک پھیلی ہوئی ہے۔انہوں نے واضح کر دیا کہ ایران کے بعد وہ ترکی کا رخ کریں گے۔اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہ کھلم کھلا ایک نسل پرست فسطائی ریاست ہے۔وہ کہتے ہیں کہ کہ وہ یہودی ہیں اس لیے وہ باقی سب سے بہتر ہیں۔اور یہ بات صہونیوں کی کتاب میں لکھی ہوئی ہے۔ اس بات میں طنز یہ ہے کہ بہت سے صہیونیوں کے باپ دادا کہتے ہیں کہ کوئی خدانہیںمگر خدانے کہا کہ یہ زمین ہماری ہے۔اس سے ظاہر ہوا کہ وہ خدا پر ایمان نہیں رکھتے لیکن اس زمین کو حاصل کرنے کے لیے اس کا نام استعمال کرتے ہیں۔اس لیے یہ کوئی نارمل ، جھگڑا نہیں ہے۔ یہ وہ جھگڑا ہے جس کی بنیاد مذہبی جنون ہے۔ جس کی وجہ سے دوسرے لوگوں کو تو انسان سے بھی کمتر جانتے ہیں۔‘‘
سوشل میڈیا پر ایک وڈیو آئی ہے، جس میں ہوش ربا انکشافات کیے گئے ہیں۔ ان میں جو امریکہ کے کارنامے ہیں دنیا میں تباہی لانے کے، ان پر روشنی ڈالی گئی ہے۔نا قابل یقین واقعات۔ فلم کا عنوان ہے، ’’ریاستہائے متحدہ امریکہ اور دہشت گردی لازم و ملزوم ہیں‘‘۔ ’’کئی دہائیوں سے، یہ تنزل پذیرامریکن راجدھانی، اور اس کی سراغرسانی کے اداروں نے،ان جنگوں کے لا متناہی عرصہ میں، ان دہشت گرد گروہوں کی پرورش کی جن سے وہ لڑتے رہے ہیں۔ہے نہ کتنی مزے کی یہ بات؟ سب سے اچھا یہ ہے کہ ہم ان کے بنانے والوں کی زبان سے یہ سنیں۔
جیسے ہیلری کلنٹن ، سابق وزیر خارجہ، امریکہ نے کہا، کو جن لوگوں سے ہم آج لڑ رہے ہیں ان کو ہم نے ہی بیس سال پہلے مالی امداد دی تھی ۔ پالولیمز، سابق سی آئی اے دہشت گردی کے خلاف ماہر نے کہا، ہم نے ISIS کو بنایا تھا۔’’میرا مطلب ہے کہ آئی ایس آئی ان لوگوں سے کم نہیںجو اسلا م آباد میں بیٹھے ہیں۔نہ ہی فتح اللہ گولن سے کم ہیں۔یہ سی آئی اے کی پیدا کی ہوئی جماعت ہے۔خدا کے لیے، جان میکینISIS کے عہدیداروں سے مل رہے تھے۔ہم نے انہیں بنایا۔ وہ النصرہ اتحاد سے تھے۔جو شام میں جنگ آزادی لڑ رہا تھا۔پھر یہ دونوں گروہ آپس میں مل گئے۔اور آئی سس عالم وجود میںآیا۔اسے ہم نے بنایا۔اور ہم ہی اس کی نگہداشت کرتے ہیں۔نوٹ فرمائیے: جب آئیسس کے لڑاکے زخمی ہوتے ہیں توانہیں کہاں لے جایا جاتا ہے؟ انہیں، خدا کے واسطے،اسرائیل میں لے جایا جاتا ہے۔ ان کا علاج اسرائیلی ہسپتالوںمیںکیا جاتا ہے اور اسکے بعد انہیں جنگ میں واپس بھیج دیا جاتا ہے۔‘‘ امریکن فوج کے ریٹائرڈ کرنل، رچرڈ بلیک نے بتایا کہ جب امریکہ کے سی آئی اے کے جاسوسوں نے القائدہ اور دوسرے دہشت گرد گروہوں سے رابطہ بڑھایا، تو القائدہ کے لیے، جنگ شروع ہونے سے قبل، ہماری حمایت غیر متزلزل تھی۔ہم آج بھی القائدہ کے حمائیتی ہیں، جب کہ وہ ادلب کے صوبہ میں محصور ہیں۔اور سی آئی اے انہیںخفیہ ذرائع سے ٹمبر سیکمور پروگرام کے تحت، امداد دیتا تھا۔(یہ پروگرام سن 2012 میں یا 2013کے اوائل میں شروع کی گیا تھا، جو سی آئی اے وغیرہ کے دوسرے پروگراموں کی مانند، ہتھیار پہنچاتے اور تربیت دیتے تھے۔ ان کا بنیادی مقصد غیر ملکی لڑاکا گروہوں کی امداد تھا۔) ہم نے ان کو تمام اینٹی ٹینک ہتھیار دئیے۔اور وہ سب اینٹی میزائیل ہتھیار۔ اور سچ تو یہ ہے کہ القائدہ، ہمیشہ زمین پر ہماری اتحادی قوت رہی۔وہ اور آئیسس ملکر امریکی اہداف حاصل کرتے تھے۔ان کے ساتھ اور بے شمار گروہ تھے جن کو مرضی کے ساتھ ادلا بدلا جا سکتا تھا۔مثلاً فری سیرین آرمی، جس میں سپاہی القائدہ سے جا کر شامل ہو جاتے تھے۔ قصہ مختصر، ریاستہائے امریکہ کی یہ حکمت عملی رہی ہے کہ ایسے گروہوں کو اس قسم کی جنگوں میں استعمال کرے جو ان کا کام کریں۔ شام میں ہمارا مطمع نظر تھا کہ وہاں کی قانونی حکومت کو بدل دیں۔یہ کرنے کے لیے، ہم نے وہ بھاڑے کی سپاہی استعمال کیے جو دہشت گردوں میںسب سے زیادہ خونی اور بھیڑیئے تھے۔‘‘
13 فروری 2025کے اجلاس میں، امریکی کانگریس کے رکن، سکاٹ پیری نے بیان دیا کہ’’ آپ کا پیسہ 697ملین ڈالر سالانہ، اور اسکے علاوہ وہ نقد رقم جو مدارس کوارسال کی جاتی تھی،آئیسس، القائدہ اور بوکا حرام، اور آئیسس کورازان، دہشت گروں کے تربیتی کیمپوں کے لیے،یہ امداد دی جاتی تھی۔اور یہ اوپر بتائی گئی رقومات جن کا ذکر کیا گیا ہے، انکے علاوہ مزید چالیس سے اسی ملین ڈالر جو ہر دس روز کے بعد بھیجے جاتے تھے۔‘‘۔ اس پر کانگریس کے رکن ٹم برسیٹ نے مسٹر رومن سے پوچھا کہ کیا آپ جانتے ہیں کہ ہم ہر ہفتہ چالیس ملین ڈالر طالبان کو بھیج رہے ہیں؟ جواب ملا کہ جی ہاں۔کیا آپ بیرونی علاقوں میںامداد کی ایسی اور مثالیں دے سکتے ہیں جن میں ہم نے دہشت گردی کے گروہوں کو ایسی امداد دی ہو؟جی ہم نے صومالیہ کے الشباب اوحمزی نیٹ ورک سوڈان کو بھی امداد دی ہے۔اسلامک جہاد، حزب اللہ، کتائب حزب اللہ، حیات تحریر ال شام، اور ان کے علاوہ بالواسطہ درجنوں اداروں کو امریکی بیرونی امدادد دی ہے۔‘‘
امریکن سیاسیات کے پروفیسر جون میرشائمر نے، 5مارچ، 2022 میں کہا کہ ہم لازماً ایک انتہائی شرمناک اور ظالم ملک ہیں۔ دنیا میںجس قدر انسانی ہلاکتیں اور قتل و غارت ہم نے کروایا، نا قابل یقین ہے۔غور فرمائیے کہ میں، چند روز پہلے، ایک تحقیقی مقالہ دیکھ رہا تھا، جو Lancet ایک سائینٹفک مجلہ ہے،اس میں ایک سائینٹفک تحقیق پر مضمون ہے، جسے انٹر نیٹ پر دیکھا جا سکتا ہے، یہ نومبر2025میں شائع ہوا۔ اس مضمون میں 1971 to 2021 میںامریکہ کی لگائی گئی دنیا کے ملکوں پر پابندیوں کے اثرات کا مطالعہ کیا گیا۔ پتہ چلا کہ ہم نے 38 ملین انسانوں کا قتل کروایا۔حالیہ برسوں میں، یہ ہولناک سے بھی بد تر ہے۔آپ اگر سوچیں کہ ہماری حکمت عملی کے تباہ کن نتائج کیا ہیں؟ وینزویلا، کیوبا اور ایران تو ابھی کے واقعات ہیں، آپ سمجھتے ہیں نا؟ ہم اپنی بے پناہ اقتصادی قوت کو بنیادی طور پر لوگوں کو بھوک اور افلاس سے مار رہے ہیں۔اور ان غریبوں پر انتہائی شدید سزائیں مسلط کر رہے ہیں۔ان کی اپنی زبان سے سنئیے۔ میں امریکہ کے رویہ پر بات کرنا بہت اذیت ناک سمجھتا ہوں۔اور یہ کہنا کہ ریاستہائے متحدہ امریکہ ایک باوقار ملک ہے۔ میں نہیں سوچتا کہ ہم منفرد طور پر اچھے لوگ ہیں۔جب ہم خارجی حکمت عملی کی بات کرتے ہیں۔‘‘
ہلیری کلنٹن ایک بے باک سیاستدان ہے جو بے دھڑک کھری کھری سنا دیتی ہے۔ اب تازہ ترین بیان اتنا کھرا ہے کہ اس میں اختلاف کی کوئی گنجائش نہیں۔محترمہ نے کہا، ’’ہم پاکستان کو اس کے جرنیلوں کے ذریعے کنٹرول کرتے ہیں، کیونکہ وہاں کی سویلین حکومت اور عدالتی مشینری فوج کی طاقت کے سامنے بے بس ہوتی ہے۔‘‘
پاکستانی فوج تو 75 سال سے ان کی غلامی میں ہے۔ اس طرح،پاکستان میں جو ہوتا ہے وہ انہی جرنیلوں کے ذریعے ہی ہوتا ہے۔ اور وہ امریکہ کی خواہشات کے مطابق ہی ہوتا ہے۔اب کے حالات کونسا مختلف ہیں۔ عمران خان اور ا س کی پارٹی کو زیر عتاب لانے میں کس کا ہاتھ تھا؟ صاف ظاہر ہے کہ امریکہ کا ہمارے جرنیلوں کے ذریعے۔ صرف فرق یہ ہے کہ پینتیس سال سے امریکہ خود کسی اور کے اشاروں پر ناچتا ہے۔ اور پاکستان کے حالات بھی وہی ملک متعین کرتا ہے۔ اس لیے مستقبل قریب میں تو یہ حالات بدلتے نظر نہیں آتے۔



