Select Language
ہفتہ وار کالمز

ہو رہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا!

ایران امریکہ مذاکرات کامیاب ہوں گے یا نہیں؟ کبھی خبر ملتی ہے کہ سب کچھ طے پا چکا ہے،بس اب مل جل کر اعلان کرنا باقی ہے۔کبھی آواز آتی ہے کہ ،یہ باتیں جھوٹی باتیں ہیں ،یہ لوگوں نے پھیلائی ہیںکبھی گمان گزرتا ہے کہ؛ دونوں فریق دنیا سے کھیل رہے ہیں۔ معلوم حقیقت یہ ہے کہ ایران اور امریکہ ایٹمی پروگرام پر جنگ سے قبل سمجھوتے کے قریب پہنچ چکے تھے ، جبکہ آبنائے ہرمز مکمل طور پر رواں دواں تھی۔اب دونوں فریق انہی دو معاملات پر اس طرح کی بیان بازی کر رہے ہیں جیسے انہی دو معاملات کی وجہ سے یہ جنگ بَرپا ہوئی ہو ؟ یہ چالیس روزہ غیر مساوی جنگ لڑنے کے بعد دو حملہ آور ممالک کی چیخیں نکل گئی تھیں اور جنگ بندی کی اپیلیں سامنے آئیں تھیں۔اب سنتے ہیں کہ سمجھوتہ ہونے والا ہے۔ اس منظر میں ایک بد ذوقی بھی دیکھنے میں آرہی ہے ،اور وہ یہ کہ، ڈونلڈ ٹرمپ جو جنگ اپنے مہلک ہتھیاروں سے نہیں جیت پایا، وہ اپنے موذی منہ کے ذریعے جیتنا چاہتا ہے۔ ایسی صورتحال میں ٹرمپ کی مکمل زبان بندی کر کے ، اگر ٹویٹس کرنے پر مکمل پابندی لگا دی جائے ،تو فی الفور معاہدے پر انگریزی اور فارسی میں دستخط ہو سکتے ہیں۔ویسے امر متحقق تو یہی ہے کہ،دنیا میں امن اور جنگ بندی کے ایک ہزار معاہدے کر لیں،جب تک اسرائیل کو پائیدار لگام نہیں دی جائے گی اور جب تک امریکی اسلحے کا فیڈر اسرائیل کے منہ سے نہیں نکالا جائے گا ، اسرائیل غارت گر توسیع پسندی سے باز نہیں آ سکتا۔ابھی جرمنی نے بھی اسرائیل کے ساتھ اسلحہ فراہم کرنے کا معاہدہ کیا ہے۔ ایسا کرتے ہوئے جرمنی کی انسان دوستی کہاں گم ہو جاتی ہے۔یہ بات کون بتائے گا کہ ہولو کاسٹ کے افسانہ نگار یورپی ممالک غزہ اور لبنان میں بسنے والوں اور ایران میں میزائل حملے میں شہید ہونے والی ننھی طالبات کو انسانوں کی بجائے کیڑے مکوڑے کیوں سمجھتے ہیں؟ بہرصورت اس چالیس روزہ جنگ میں ایران کو فتح کامل کی مبارک باد دینی لازم ہے ۔ایران نے دو ایٹمی ممالک کو میدان جنگ میں عبرتناک شکست سے دوچار کر کے نئی تاریخ رقم کر دی ہے۔ ایران کے حوالے سے اگر کسی بھی قسم کے فرقہ وارانہ تعصبات کو بالائے طاق رکھتے ہوے دیکھا جائے تو کھلے گا کہ اس جنگ میں ایک غیر ایٹمی ملک نے دو ایٹمی اسلحے سے لیس ممالک کو میدان جنگ میں عبرتناک شکست سے دوچار کیا ہے۔جہاں تک اٹامک انریچمنٹ محدود کرنے اور آبنائے ہرمز کھولنے کی بات ہے تو اس جنگ سے پہلے آبنائے ہرمز کھلی ہوئی تھی اور ایٹمی تحدید پر ایران اور امریکہ کے مذاکرات کامیاب ہو چکے تھے کہ،اسرائیل نے امریکہ کو اُکسا کر ایران پر حملہ کروا دیا۔جنگ بندی کی درخواست بھی ڈونلڈ ٹرمپ نے کی تھی۔ مجھے یقین ہے کہ ایران کی بے مثال فتح کی تفصیلات مستقبل کےجنگی نصابات کا نیا اور حیرت افزاء حصہ ضرور بنیں گی۔ اس جنگ کو "جنگِ مکاری و عیاری” بھی کہا جا سکتا ہے ۔امریکہ نے دوسری بار ایران کو ایٹمی پروگرام کے حوالے سے مذاکرات میں الجھا کر اور اپنی طرف سے غافل کر کے اچانک اسرائیل کی قیادت میں حملہ کردیا۔اس سے پہلے کہ دنیا اور اہل ایران اس اچانک حملہ آوری کو سمجھ سکتے، ایران کی اعلی قیادت کو شہید کر دیا گیا تھا۔امریکہ اور اسرائیل کو یقین تھا کہ جونہی ایران کی اعلی قیادت منظر سے ہٹے گی ، ایرانی عوام بغاوت کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئیں گے اور یوں ایران میں رجیم چینج ہو جائے گا۔اس رجیم چینج کے بعد ایران کی حکومت امریکہ کے تیار کردہ مرغانِ دست آموز کے ہاتھ آ جائے گی ،اور یوں وینزویلا کے بعد ایران میں رجیم چینج کا تمغہ ڈونلڈ ٹرمپ کے سینے پر سج جائے گا ۔پر یوں نہ ہوا۔اور جو کچھ ہوا وہ امریکہ اور اسرائیل کے لیے حیران کن تھا، ایران میں اعلی قیادت کی شہادت نے پوری ایرانی قوم نے ،اپنے باہمی سیاسی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ایسے بے مثال اتحاد اور یک جہتی کا مظاہرہ کیا کہ جس کی نظیر بہت کم دکھائی دیتی ہے ۔ایران نے چالیس روزہ جنگ میں دشمن کی طرف سے پہنچائے گئے بدترین نقصانات کے باوجود امریکہ ، اس کے علاقائی اتحادیوں اور اسرائیل کو ایسا تباہ کن اور عبرتناک جواب دیا کہ جس میں ایران کے پیہم میزائل حملوں اور بے مثال و باکمال ڈرونز کی مسلسل یلغار نے دشمن ممالک امریکہ ، اسرائیل اور متحدہ عرب امارات میں واقع امریکی فوجی اڈوں اور اثاثوں کی کمر اور ٹانگیں توڑ کر رکھ دیں۔اس کے ساتھ ہی ایران نے آبنائے ہرمز کی بندش کو جس ذہانت اور مہارت سے ایک فیصلہ کن جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا، اس کی مثال نہیں ملتی۔ اور پھر چشم فلک نے دیکھا کہ امریکہ جیسا جارح اور بدقماش ملک جنگ بندی کے مطالبات کرنے لگا ۔عارضی جنگ بندی ہو گئی ،پھر اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے باہم برابری کی سطح کے مذاکرات بھی شروع ہو گئے۔دوسری طرف بحرین اور عرب امارات ،جو حقیقتاً خطے میں اسرائیل کی پراکسیز تھیں ، ان کا حال اب ان بیسواؤں جیسا ہو چکا ہے ، جو بازار حسن مسمار کر دیئے جانے کے بعد شہر کی نواحی بستیوں کا رخ کر لیتی ہیں۔اس جنگ نے ایران کے ایک دوست نما دشمن کو بھی بے نقاب کر کے رکھ دیا ہے ۔ایران نے اپنے اس "دوست” کو کئی بار پاکستان پر ترجیح بھی دی۔پھر اسی دوست ملک کا وزیر اعظم اسرائیل جاکر اس صیہونی ملک کو اپنا فادر لینڈ قرار دے کر جیسے ہی واپس اپنے ملک پہنچتا ہے ،اس کے دو روز بعد انڈیا کا فادر لینڈ یعنی اسرائیل امریکہ کے ساتھ مل کر ایران پر حملہ کر دیتا ہے۔ ایران اور بھارت کے "مضبوط تعلقات ” کی سب سے بڑی نشانی تو یہ ہے کہ؛جنگ شروع ہونے کے چند روز بعد ہی بھارت نے اپنے مہمان اور نہتے ایرانی بحری جہاز کی لوکیشن اور دیگر مکمل معلومات اسرائیل کو فراہم کیں اور اسرائیل/امریکہ نے اس ایرانی بحری جہاز کو تارپیڈو مار کر تباہ کر دیا تھا۔عملے کے چند اراکان کو سری لنکا نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر بچانے کی کوشش کی ،جبکہ بقیہ اللہ کو پیارے ہوگئے تھے۔ان قریبی دوستانہ تعلقات کی ایک نشانی گزشتہ بارہ روزہ ایران اسرائیل جنگ میں ایران میں موجود اور متحرک بھارتی نژاد جاسوسوں کی کارروائیاں تھیں، جن میں سے بعض کو ایران نے گرفتار بھی کیا تھا۔اور تیسری سب سے بڑی نشانی یہ ہے کہ بھارت اسرائیل کا نہایت قریبی دوست اور معاون ملک ہے اور ایران پر موجودہ تباہ کن حملوں کے آغاز سے پہلے بھارتی وزیراعظم نے اسرائیل کا دورہ کر کے اپنے مکمل تعاون اور شراکت کے معاہدے کئے تھے۔ایرانیوں کی بھارت کے ساتھ دوستی کے حوالے سے مرزا غالب کا یہ شعر ذہن میں آ رہا ہے’’یہ فتنہ آدمی کی خانہ ویرانی کو کیا کم ہے۔۔ہوئے تم دوست جس کے، دشمن اُس کا آسماں کیوں ہو‘‘انڈیا نے ایرانیوں کے ساتھ بالکل اچھا نہیں کیا۔ایرانیوں نے انڈیا والوں پر اندھا اعتماد کیا،یہاں تک کہ انڈیا کو پاکستان پر بھی ترجیح دیتا رہا۔ایران والے یہ بھول بیٹھے تھے کہ انڈیا اصل میں اسرائیل کا دوست،ہم خیال اور ہم پیشہ و ہم مشرب و ہم راز ملک ہے۔انڈیا والوں نے ایران کی جاسوسی کی،اور اسرائیل کو ایران کی اندرونی معلومات فراہم کیں۔بہرحال اگر اب بھی ایران کو سمجھ آ جائے تو اچھا ہے۔اس جاری جنگ بندی ، رواں اور منقطع مذاکرات، متوقع معاہدہ امن اور ممکنہ جنگ کے حوالے سے اپنی خوش گمانی اور امید پرستی کو قائم رکھتے ہوئے میں یہ خیال کرتا ہوں کہ چند روز کے اندر دونوں متحارب ممالک کی ہنسی نکل جائے گی اور دنیا معاہدہ امن کی نوید سن لے گی۔اب اس پر اور کیا اور کس طرح کی توقع وابستہ کریں؟ بس ہم بھی وہی سمجھتے ہیں جو مرزا غالب بہت پہلے سے کہہ چکے ہیں، یعنی؛؎
رات دن گردش میں ہیں سات آسماں
ہو رہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا!

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button