Select Language
ہفتہ وار کالمز

کیا مدرسے سے فارغ التحصیل حافظ جنرل ملک کے امور خارجہ، معاشیا ت سمیت بقیہ ایشوز پر کام کرنے کا اہل ہو سکتا ہے !

گزشتہ ہفتے بین الاقوامی خبروں میں اسلام آباد کا نام تواتر سے آتا رہا، اس کی وجہ امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرتے ہوئے اسلام آباد میں امن مذاکرات کا انعقاد تھا، ذاتی پسند اور تعلقات کی وجہ سے پوری دنیا میں تنہا رہ جانے والے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستانی بوٹ چاٹ اور خوشامدی جنرل عاصم منیر کو ڈوبتے کو تنکے کا سہارا سمجھتے ہوئے جنگ کی اس دلدل سے باہر نکلنے کیلئے بہترین موقع جانا، پوری دنیا کو معلوم ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ ایک خودپسند اور خوشامد پسند شخصیت ہیں، جو بھی شخص اگر انکی ہاں میں ہاں ملاتا رہے اور ہر غلط اور صحیح بات پر یس سر یس کہتا رہے تو پھر وہ دنیا کا بہترین فیلڈ مارشل بن جاتا ہے اور پھر جہاں اس پسندیدہ شخص نے ان کی رائے سے اختلاف کیا تو پھر اس کا حشر ایلون مسک ،رائے کوہن اور جوکینٹ جیسا ہوتا ہے، ٹرمپ کا یہ رویہ صرف امریکن شہریوں تک ہی محدود نہیں بلکہ انٹرنیشنل سطح پر بھی یہ ہی صورت حال ہے ،وہ چاہے ٹرمپ کے کل کے فرنچ صدر ایمونیل میکرون ہوں یا سعودی عرب کے کرائون پرنس محمد بن سلمان ہوں، پاکستان کے بادشاہ حافظ جنرل عاصم منیر نے بہت جلد ہی ٹرمپ کی اس عادت کا اندازہ لگا لیا اور شیشے میں اتار لیا۔ صدر ٹرمپ کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ وہ جب کسی خوشامدی کو پسند کر لیتے ہیں تو وہ اسے نوازتے بھی خوب ہیں چاہے اس کیلئے دنیا کی کتنی ہی مخالفت کا سامنا کیوں نہ کرنا پڑے۔ اقتدار میں آنے کے بعد سے ایسے ہی کچھ معاملات اور رومانس ٹرمپ اور پاکستان کے سب سے بڑے خوشامدی جنرل عاصم منیر کے درمیان بھی چل رہے ہیں، آپ کو وہ امیج یاد ہو گا جب واشنگٹن میں حافظ صاحب پاکستان کی قیمتی معدنیات کا ایک بریف کیس لیکر پرانی گاڑیوں کے سیلز مین کی طرح ٹرمپ کو پیش کر رہے ہیں اور آفر کررہے ہیں کہ جو بھی چاہیے آپ سرکار لے لیں مگر میری غیر قانونی حکومت اور پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر لب کشائی نہ کریں۔اندھا کو کیا چاہیے دو آنکھیں اور بھوکے کو دو روٹیاں، ایک طرف ٹرمپ کو بہترین چاپلوس عاصم منیر کی صورت میں مل گیا اور دوسری طرف اس کا ویک پوائنٹ بھی مل گیا، ویسے ٹرمپ کی خصوصیات میں ایک یہ بات بھی شامل ہے کہ وہ کسی کے ویک پوائنٹ اور کمزوری کو بلیک میلنگ کے ذریعے اپنے مقاصد کیلئے بھی خوب استعمال کرنا جانتے ہیں، سو اس طرح صدر ٹرمپ کو حافظ سید فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر شاہ تمغۂ امتیاز ملٹری کی شکل میں ایک بہترین آدمی مل گیا، بلکہ یوں کہیے کہ ہیرا مل گیا جبکہ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ حافظ صاحب صدر ٹرمپ کے غیر آفیشل بروکر بھی ہیں کم از کم ایران کیساتھ بات چیت میں، انڈین وزیر خارجہ تو پہلے ہی دن یہ الزام لگا چکے ہیں کہ جو کہ بہت قابل اعتراض اور قابل شرم ہے، اب دیکھتے ہیں کہ ٹرمپ اور منیر ہنی مون کب تک چل پاتا ہے۔
موجودہ صورت حال میں امریکہ، اسرائیل، ایران جنگ کی عارضی جنگ بندی اس ویک کے آخر میں ختم ہو جائے گی۔ 1965ء کی 17 روزہ لڑائی میں پاکستان کی حالت غیر ہو گئی تھی اور اس وقت کے صدر فیلڈ مارشل جنرل ایوب خان نے ماسکو جا کر جنگ بندی کا معاہدہ کیا تھا۔ امریکہ، اسرائیل، ایران کی اس چالیس روزہ جنگ میں نہ صرف ایران بلکہ اسرائیل اور امریکہ میں بھی صورت حال کچھ اچھی نہیں ہے۔ تینوں ممالک اس جنگ سے باہر نکلنے کی کوشش کررہے ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ یہ جنگ شروع ہی کیوں ہوئی کہ حافظ جی کو دلالی کا کردار ادا کرنا پڑا، ہمارا مطلب ہے ثالثی کا کردار؟ جنگ سے پہلے اگر پاکستان میں قانونی اور عوامی سویلین موجود ہوتی تو یہ نوبت کبھی نہ آتی ،یہ ہی فرق ہوتا ہے ایک مدرسے سے فارغ التحصیل حافظ میں اور ایک یونیورسٹی آف آکسفورڈ کے تعلیم یافتہ عمران خان جیسے سیاستدان میں۔
اگر یہ تینوں چاروں جنرلز مل کر عمران خان کی حکومت نہ گراتے تو آج یہ صورت حال مشرق وسطیٰ کے ممالک ایران، سعودی عربیہ، متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین، کویت،عمان اور دبئی کے درمیان نہ ہوتی اور آکسفورڈ یونیورسٹی سے بین الاقوامی سیاسیات کے تعلیم یافتہ اور سیاسی بیک گرائونڈ کے مالک عمران خان اس معاملے کو جنگ بندی،امن مذاکرات اور ثالثی کے مقام تک آنے ہی نہیں دیتے۔ عمران خان کے زمانے میں نہ دہشت گردی تھی، نہ افغانستان اور نہ ہی بلوچستان کے بی ایل اے کا ایشو اتنی بلندی پر تھا۔ حافظ جی دو خود مختار ممالک کے درمیان ثالثی کیا کرائیں گے اگر وہ اپنے ہی ملک میں بلوچستان اور افغان دہشت گردوں کو نکیل نہ ڈال سکے۔ پوری دنیا جانتی ہے کہ عاصم منیر کا کردار نیوٹرل ثالث کا نہیں بلکہ ٹرمپ کے نامہ بر کا ہے، پیغام برکا ہے، ڈاکیے کا ہے۔ اگر فیلڈ مارشل کا کوئی سیاسی پس منظر ہوتا تو پچھلے ہفتے والے امن مذاکرات ناکام نہ ہوتے، یہ ایسا ہی ہے کہ آپ ایک میڈیکل سرجن کو کہیں کہ آپ انڈیا پر ایک جنگی جہاز لے کر حملہ کر دیں، آرمی جنرلوں کا تمام کا تمام بیک گرائونڈ، تعلیمی قابلیت اور تجربہ جنگی نوعیت کا ہوتا ہے ،وہ سیاست کے معاملات کی قابلیت اور تجربہ نہیں رکھتے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ 1948ء میں قائداعظم نے ملٹری کانووکیشن میں صاف الفاظ میں کہا تھا کہ فوج کا قطعاً کوئی تعلق سیاست سے نہیں ہے اور وہ آئین و قانون کے مطابق سیاسی حکومت کے تابع ہے مگر افسوس کہ پچھلے 78سالوں میں فوجی جرنیلوں نے سویلین حکومتوں کے تختے الٹ الٹ کرقوم اور فوج کو آمنے سامنے لا کھڑا کیا ہے مگر ہمیں آج بھی اپنے سجیلے فوجی جوانوں پر فخر ہے کہ وہ ہر دم حفاظت کیلئے تیار رہتے ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button