مریخ پر نمودار ہونے والے پُراسرار بادل سے متعلق انکشاف!

مریخ پر ہر موسمِ گرما میں روزانہ نمودار ہونے والے ایک غیر معمولی سفید بادل نے سائنس دانوں کی توجہ حاصل کر لی ہے۔نئی تحقیق کے مطابق یہ بادل ممکنہ طور پر فضا میں موجود مادّے کے اچانک منجمد ہونے کے نتیجے میں بنتا ہے، جسے سائنسی اصطلاح میں ہوموجینیئس نیوکلی ایشن کہا جاتا ہے۔تحقیقاتی جریدے نیچر جیو سائنس میں شائع ہونے والی اس تحقیق کی قیادت سوربون یونیورسٹی سے وابستہ ڈاکٹر جارجے ہرنانڈیز برنال نے کی۔ محققین کے مطابق یہ مظہر اس بات کی پہلی حقیقی اور دستاویزی مثال ہو سکتا ہے کہ فضا میں بادل بننے کا عمل روایتی طریقۂ کار سے ہٹ کر بھی رونما ہو سکتا ہے۔تحقیق میں زیرِ بحث بادل کو آرسیا مونس ایلونگیٹڈ کلاؤڈ کا نام دیا گیا ہے۔ یہ تقریباً 1800 کلومیٹر طویل اور انتہائی باریک سفید بادل ہے، جو مریخ کے آتش فشاں آرسیا مونس کے مغرب میں نمودار ہوتا ہے۔ آرسیا مونس تقریباً 20 کلومیٹر بلند ایک غیر فعال ڈھال نما آتش فشاں ہے۔سائنس دان کئی دہائیوں سے اس بادل کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ یہ مریخ کے موسمِ گرما کے دوران روزانہ نمودار ہوتا ہے، چند گھنٹوں تک فضا میں موجود رہتا ہے اور پھر غائب ہو جاتا ہے۔ حیرت انگیز طور پر اگلی صبح یہ دوبارہ اسی علاقے میں دکھائی دیتا ہے۔ اس کے باوجود روایتی فضائی ماڈلز اب تک اس کی تشکیل کے عمل کی تسلی بخش وضاحت نہیں کر سکے۔



