Select Language:
Urdu / English /Spanish / Bengali / Hindi
بین الاقوامی

جی سی یو لاہور میں قیادت، پائیدار جمہوریت اور قومی یکجہتی پر کانفرنس، سپیکر پنجاب اسمبلی کا خطاب

لاہور(آصف اقبال) گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور میں ’’قیادت، پائیدار جمہوریت اور قومی یکجہتی‘‘ کے موضوع پر بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس میں سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے بطور مہمان خصوصی شرکت اور خطاب کیا۔اپنے خطاب میں سپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ قیادت کی اصل کامیابی صرف اقتدار حاصل کرنا نہیں بلکہ مضبوط، قابلِ اعتماد اور عوامی خدمت کے ادارے قائم کرنا ہے۔ پائیدار جمہوریت محض انتخابات کے انعقاد سے قائم نہیں ہوتی بلکہ اس کے لیے آئینی حکمرانی، نمائندہ اداروں، قانون کی بالادستی اور مؤثر احتساب ضروری ہے۔ملک محمد احمد خان نے کہا کہ جمہوریت اختلافِ رائے کو آئینی راستہ فراہم کرتی ہے، اس لیے اختلافات کو اداروں اور قانون کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔ اختلافِ رائے کو تقسیم کا سبب نہیں بننا چاہیے بلکہ ایک دوسرے کی بات سننا اور برداشت کرنا جمہوریت کا حسن ہے۔ انہوں نے کہا کہ نظام قانون کے مطابق چلنا چاہیے اور ہر شہری کو اپنے حقوق، عزت، مساوی مواقع اور آئینی نظام میں بامعنی آواز ملنی چاہیے۔سپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ پاکستان کا تنوع ہماری کمزوری نہیں بلکہ وفاقی قوت بن سکتا ہے۔ قومی یکجہتی کا مطلب یکسانیت نہیں، پاکستان کی مختلف زبانیں، ثقافتیں اور برادریاں وفاق کی طاقت ہیں۔ وفاقیت اور قومی اتحاد ایک دوسرے کے معاون ہیں جبکہ مضبوط صوبائی ادارے جمہوری آواز کو مزید مؤثر بناتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ پنجاب اسمبلی نے اقلیتوں کی شمولیت کے لیے پارلیمانی اقلیتی کاکس قائم کیا ہے، جو اقلیتی برادریوں کی پارلیمانی شرکت اور ان کے آئینی حقوق کے تحفظ کی جانب اہم قدم ہے۔ انہوں نے کہا کہ مضبوط ادارے ہی شہریوں کے اعتماد اور پائیدار جمہوریت کی بنیاد بنتے ہیں۔ملک محمد احمد خان نے نوجوانوں کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی تقریباً دو تہائی آبادی 30 سال سے کم عمر ہے، اس لیے نوجوان قومی اور جمہوری زندگی کا انتہائی اہم حصہ ہیں۔ نوجوان صرف مستقبل نہیں بلکہ آج ہی پاکستان کے قومی اور جمہوری مستقبل کی تشکیل کر رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ جامعات کو نوجوانوں میں مکالمے، تحقیق، فکری آزادی اور مثبت اختلافِ رائے کو فروغ دینا چاہیے۔ طلبہ سوال اٹھائیں، شواہد کی بنیاد پر بحث کریں اور دوسروں کی رائے سننے کا حوصلہ پیدا کریں۔ اختلافِ رائے کو برداشت کرنا ایک جمہوری معاشرے کی بنیادی ضرورت ہے۔سپیکر پنجاب اسمبلی نے جنوبی ایشیا کے تنوع پر تقابلی تحقیق کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ نمائندگی اور جمہوری تسلسل کو سمجھنے کے لیے جامعات میں سنجیدہ علمی و تحقیقی کام ضروری ہے۔ جامعات اور قانون ساز اداروں کے درمیان مضبوط روابط وقت کی اہم ضرورت ہیں، جبکہ تحقیق، شواہد اور نوجوان ذہنوں کو قانون سازی سے جوڑنا جامعات کا اہم کردار ہے۔ملک محمد احمد خان نے کہا کہ ایوان میں بیٹھے منتخب نمائندے عوام کے مسائل اور ان کی آواز اسمبلی تک پہنچاتے ہیں، جہاں حکومتی اور اپوزیشن ارکان ان معاملات پر بحث کرتے ہیں۔ انہوں نے جی سی یونیورسٹی کے طلبہ کو پنجاب اسمبلی آنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ وہ پارلیمانی کارروائی کا مشاہدہ کریں اور جمہوری عمل کو قریب سے سمجھیں۔سپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ جی سی یو واپس آنا بطور سپیکر پنجاب اسمبلی اور اولڈ راوین ان کے لیے خصوصی اعزاز ہے۔ جی سی یونیورسٹی نے ان کی فکری اور علمی زندگی کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔انہوں نے طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ بڑے بڑے خواب دیکھیں۔ ہمارا مستقبل نوجوانوں کے خوابوں کے ساتھ جڑا ہے۔ آج کے نوجوان کی آنکھ میں جو خواب ہیں، وہ دنیا کو فتح کرنے کے ہونے چاہئیں، اور ان کی دعا ہے کہ نوجوانوں کے یہ خواب حقیقت کا روپ دھاریں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button