Select Language:
Urdu / English /Spanish / Bengali / Hindi
بین الاقوامی

مریم اورنگزیب سے ورلڈ فوڈ پروگرام کی کنٹری ڈائریکٹر کی ملاقات، نیوٹریشن اور سموگ کنٹرول اقدامات پر تبادلہ خیال

لاہور ( آصف اقبال :اردو ٹائمز یو ایس اے) سینئر وزیر پنجاب مریم اورنگزیب سے ورلڈ فوڈ پروگرام کی کنٹری ڈائریکٹر انیتا ہرش کی قیادت میں وفد نے ملاقات کی، جس میں پنجاب حکومت کی اصلاحات، بچوں کی غذائیت، سکول نیوٹریشن پروگرام، ماحولیاتی آلودگی اور سموگ کنٹرول کے اقدامات سمیت مختلف شعبوں میں تعاون پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔مریم اورنگزیب نے ورلڈ فوڈ پروگرام کے وفد کو پنجاب حکومت کی اصلاحات اور فلاحی اقدامات کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صوبے کے 13 اضلاع میں سکول نیوٹریشن پروگرام کا آغاز کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہاولنگر، بھکر، چنیوٹ، ڈیرہ غازی خان، کوٹ ادو، لیہ، لودھراں، میانوالی، مظفرگڑھ، رحیم یار خان، راجن پور، تونسہ اور وہاڑی میں یہ پروگرام جاری ہے۔سینئر وزیر نے بتایا کہ وزیراعلیٰ پنجاب نیوٹریشن پروگرام کے تحت متعلقہ اضلاع کے سکولوں میں 56 ہزار سے زائد بچوں کی انرولمنٹ ہوئی ہے اور پروگرام کے نتیجے میں بچوں کی غذائیت میں بہتری کے ساتھ سکولوں میں داخلوں میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف خود اس منصوبے کی نگرانی کر رہی ہیں۔ورلڈ فوڈ پروگرام کے وفد نے وزیراعلیٰ پنجاب نیوٹریشن پروگرام کو سراہتے ہوئے پنجاب حکومت کے اقدامات کی تعریف کی۔ مریم اورنگزیب نے کہا کہ حکومت پنجاب کا وژن بچوں کو غذائیت سے بھرپور نشوونما کے مواقع فراہم کرنا ہے اور نیوٹریشن کے شعبے میں ورلڈ فوڈ پروگرام کے ساتھ مزید تعاون کے امکانات پر غور کیا جا رہا ہے۔مریم اورنگزیب نے وفد کو پنجاب میں سموگ اور فضائی آلودگی کے تدارک کے لیے کیے گئے اقدامات سے بھی آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے پہلی مرتبہ صوبے بھر کے لیے سموگ کنٹرول پروگرام متعارف کرایا اور گزشتہ دو برس کے دوران سموگ کی روک تھام کے لیے متعدد اقدامات کیے گئے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ شارٹ، میڈیم اور لانگ ٹرم پلاننگ کے تحت سموگ کے تدارک کی پالیسیز پر عملدرآمد کیا جا رہا ہے جبکہ اینٹی سموگ انڈسٹری سکواڈ، وہیکل انڈسٹری ایمیشن، فصلوں کی باقیات جلانے اور بھٹوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں کی گئی ہیں۔سینئر وزیر پنجاب کے مطابق صوبے بھر میں فضائی آلودگی کی روک تھام کے لیے ہیوی وہیکلز اور دیگر گاڑیوں کے اخراج کی ٹیسٹنگ جاری ہے جبکہ کلائمیٹ مانیٹرنگ واچ کے ذریعے پنجاب کی صنعتوں اور بھٹوں کو ڈیجیٹل طور پر مانیٹر کیا جا رہا ہے۔ پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی بھی سموگ کا باعث بننے والی گاڑیوں کی نگرانی یقینی بنا رہی ہے۔مریم اورنگزیب نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے ایگری میکانائزیشن وژن کے باعث گزشتہ سال فصلوں کی باقیات جلانے کے واقعات میں 40 فیصد کمی ہوئی۔ ورلڈ فوڈ پروگرام کی کنٹری ڈائریکٹر نے حکومت پنجاب کی جانب سے سموگ کے تدارک کے لیے کیے گئے اقدامات کو بھی سراہا۔انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے تمام فلاحی پروگراموں کو حکومتی نظام کے تحت مربوط انداز میں چلایا جا رہا ہے اور ضلعی سطح پر ڈپٹی کمشنر دفاتر کے ذریعے مضبوط رابطہ کاری کا نظام قائم کیا گیا ہے۔ پنجاب حکومت اپنی کامیابیاں، حاصل شدہ اسباق اور درپیش چیلنجز تمام سٹیک ہولڈرز کے ساتھ شیئر کرنے کے لیے تیار ہے۔مریم اورنگزیب نے کہا کہ پنجاب کی 64 فیصد آبادی سوشل میڈیا استعمال کرتی ہے، اس لیے مقامی ذرائع اور سوشل میڈیا کو مؤثر ابلاغ کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ صحت سے متعلق پیغامات کو مقامی زبانوں میں ترجمہ کرکے گھر گھر پہنچایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے وژن کے تحت ہر ہیلتھ سینٹر، بنیادی صحت مرکز (BHU) اور کلینک پر مقامی زبان میں معلومات کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔ پنجاب حکومت لوکلائزیشن اور زراعت کے شعبوں میں ہر قسم کی پارٹنرشپ کے لیے تیار ہے

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button