Select Language:
Urdu / English /Spanish / Bengali / Hindi
بین الاقوامی

پاکستان نے جنگ نہیں، امن اور مکالمے کا راستہ اپنایا:وزیراعظم کا اقوام متحدہ جنرل اسمبلی سے خطاب

نیویارک ( آصف اقبال: اردو ٹائمز یو ایس اے) وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان نے محاذ آرائی کے بجائے مکالمے، جبر کے بجائے تعاون اور جنگ کے بجائے امن کا انتخاب کیا ہے، جبکہ عالمی امن اور اعتماد کی بحالی کے لیے کشمیر، فلسطین اور مشرق وسطیٰ سمیت تمام تنازعات کا منصفانہ اور پائیدار حل ناگزیر ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ موجودہ خطرناک عالمی صورتحال میں میزائلوں، ڈرونز اور بندوقوں کی گھن گرج کے درمیان سفارت کاری کی آواز مزید بلند ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ بعض اوقات بڑی بہادری جنگ شروع کرنے میں نہیں بلکہ اسے روکنے میں ہوتی ہے اور پاکستان نے اپنا انتخاب کر لیا ہے۔انہوں نے قرآن کریم کی سورۃ الانفال کی آیت 61 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امن کا حصول انسانی کوششوں کے عظیم ترین مقاصد میں شامل ہے۔ وزیراعظم نے قائداعظم محمد علی جناحؒ کے اقوام متحدہ کے منشور اور عالمی امن و خوشحالی کے عزم کو بھی پاکستان کی خارجہ پالیسی کی رہنمائی قرار دیا۔بھارت کے ساتھ حالیہ کشیدگی کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے اقوام متحدہ کے منشور کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنے حق دفاع کا استعمال کیا اور مسلح افواج نے پیشہ ورانہ انداز میں جارحیت کا جواب دیا۔ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بروقت مداخلت کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ اس سے جنوبی ایشیا میں وسیع جنگ کے خطرے کو کم کرنے میں مدد ملی۔وزیراعظم نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں مستقل امن کے لیے مسئلہ جموں و کشمیر کا منصفانہ حل ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کئی دہائیوں سے اپنے حق خودارادیت کے وعدے کی تکمیل کے منتظر ہیں اور پاکستان کشمیریوں کی سفارتی، سیاسی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا کہ پانی کو ہتھیار نہیں بنایا جانا چاہیے۔ پاکستان کے حصے کے پانی کو روکنے، اس میں رکاوٹ ڈالنے یا اس کا رخ موڑنے کی کسی بھی کوشش کو پاکستان جنگی اقدام تصور کرے گا۔مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے واشنگٹن اور تہران کو اسلام آباد میں مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے عملی سفارتی کوششیں کیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ کشیدگی کے دوران بھی مذاکرات اور سفارت کاری کا راستہ کھلا رہنا چاہیے۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے خلاف حوثیوں کے حملوں اور مکہ مکرمہ پر ڈرون حملے کی کوشش کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حرمین شریفین کی سلامتی اور تقدس ریڈ لائن ہے۔ انہوں نے سعودی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔فلسطین کے بارے میں وزیراعظم نے کہا کہ فلسطینی عوام کئی نسلوں سے قبضے، بے دخلی، تشدد اور انسانی المیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے ہند رجب اور آٹھ سالہ وفا عقیلہ کے سانحات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ غزہ کے بچے بھی دنیا کے دوسرے بچوں کی طرح زندگی، مستقبل اور خواب دیکھنے کا حق رکھتے ہیں۔شہباز شریف نے آزاد، خودمختار، قابلِ عمل اور جغرافیائی طور پر متصل فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ یہ ریاست 1967 سے پہلے کی سرحدوں کی بنیاد پر اور القدس الشریف کو دارالحکومت بنا کر قائم ہونی چاہیے۔ انہوں نے لبنان اور شام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو بھی روکنے کا مطالبہ کیا۔دہشت گردی کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تقریباً ایک لاکھ جانوں کی قربانی دی اور 150 ارب ڈالر سے زائد کے معاشی نقصانات برداشت کیے۔ انہوں نے افغان حکام پر زور دیا کہ افغان سرزمین کو پاکستان یا کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال ہونے سے روکنے کے لیے قابلِ تصدیق اور فیصلہ کن اقدامات کیے جائیں۔وزیراعظم نے اسلاموفوبیا میں اضافے، مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر، امتیازی سلوک، مساجد پر حملوں اور قرآن کریم کی بے حرمتی پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور مذہبی نفرت کے خاتمے پر زور دیا۔پاکستان کی معیشت کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت معاشی استحکام، ساختی اصلاحات، مالیاتی نظم و ضبط، زراعت و صنعت کی جدید کاری، معدنی وسائل کے فروغ، ڈیجیٹل معیشت اور نوجوانوں کو مصنوعی ذہانت و آئی ٹی کی مہارتوں سے آراستہ کرنے پر توجہ دے رہی ہے۔ انہوں نے سی پیک سمیت علاقائی روابط کے فروغ کو بھی اہم قرار دیا۔موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان عالمی کاربن اخراج میں ایک فیصد سے بھی کم حصہ ڈالتا ہے لیکن موسمیاتی تبدیلی کے تباہ کن اثرات کا بار بار سامنا کرتا ہے۔ انہوں نے ترقی یافتہ ممالک سے موسمیاتی مالی معاونت کے وعدے پورے کرنے اور متاثرہ ممالک کی مدد کرنے کا مطالبہ کیا۔وزیراعظم نے اقوام متحدہ میں اصلاحات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سلامتی کونسل زیادہ نمائندہ، جمہوری اور جوابدہ ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اصلاحات کسی مخصوص گروہ کے مفادات یا خصوصی استحقاق کے بجائے رکن ممالک کی اکثریت کی امنگوں کی عکاس ہونی چاہئیں۔انہوں نے جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر خلیل الرحمٰن کو مبارکباد دی اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کی عالمی جنوب کے لیے آواز بلند کرنے پر بھی خراج تحسین پیش کیا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button