بدترین اینیمیٹڈ فلم نے ’اسپائیڈر مین‘ اور ’دی اوڈیسی‘ کو پیچھے چھوڑ دیا؟

چین کے باکس آفس پر ایک ایسی فلم نے سب کو حیران کردیا ہے جسے کبھی ناقص اینیمیشن اور عجیب و غریب کہانی کے باعث مذاق کا نشانہ بنایا جا رہا تھا۔ انتہائی کم بجٹ میں بننے والی چینی اینیمیٹڈ فلم ’نیو لائی‘ (Niu Lai) نے سوشل میڈیا پر ہونے والی تنقید کو اپنی طاقت بناتے ہوئے ایسی مقبولیت حاصل کی کہ روزانہ کی ٹکٹ فروخت میں ہالی ووڈ کی بڑی فلموں ’اسپائیڈر مین: برانڈ نیو ڈے‘ اور کرسٹوفر نولان کی ’دی اوڈیسی‘ کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ ’نیو لائی‘ کی ابتدا کسی بڑی فلم کی طرح نہیں ہوئی۔ رپورٹس کے مطابق فلم کو ماں بیٹے کی جوڑی شن یومینگ اور سن لی فانگ نے تقریباً پانچ برس میں انتہائی محدود وسائل کے ساتھ تیار کیا۔ فلم کی تشہیر کے لیے نہ کوئی بڑی مہم چلائی گئی اور نہ ہی ریلیز سے پہلے نمایاں ٹریلر سامنے آیا۔5 اگست کو چین میں ریلیز ہونے کے بعد پہلے 10 دنوں میں فلم نے صرف 7700 یوآن کمائے اور 300 سے بھی کم ٹکٹ فروخت ہوئے۔ یوں بظاہر ایسا لگ رہا تھا کہ فلم خاموشی سے باکس آفس سے اتر جائے گی۔ تاہم سوشل میڈیا پر فلم کے مناظر گردش کرنے لگے اور اس کی کم معیار اینیمیشن، عجیب آوازوں اور غیر روایتی کہانی کا مذاق بننے لگا۔فلم کے خلاف ہونے والی تنقید ہی بالآخر اس کی تشہیر بن گئی۔ سوشل میڈیا پر میمز اور تبصروں نے لوگوں میں یہ تجسس پیدا کردیا کہ آخر فلم واقعی اتنی خراب ہے یا نہیں۔ اسی تجسس نے ناظرین کو سنیما گھروں تک پہنچانا شروع کردیا اور ’نیو لائی‘ کی قسمت اچانک بدل گئی۔رپورٹس کے مطابق فلم اب 17.1 ملین یوآن (تقریباً 70 کروڑ روپے پاکستانی) سے زیادہ کما چکی ہے اور چین کے باکس آفس پر نمایاں فلموں میں شامل ہوگئی ہے۔ اس کی کامیابی نے اسے کہیں بڑے بجٹ اور بڑے ستاروں والی فلموں کے ساتھ لا کھڑا کیا ہے۔



