Select Language:
Urdu / English /Spanish / Bengali / Hindi
ہفتہ وار کالمز

اندھیر نگری، چوپٹ راج!

یہ پرانے وقتوں کی ضرب المثل ہے، جو آج پاکستان پر صادق آتی ہے۔ بھلا وہ کیسے؟ وہ ایسے کہ گذشتہ عا م انتخابات میں، نون لیگ کی ملی بھگت سے، قاضی عیسیٰ اور الیکشن کمیشن نے سب قوانین کو پس پشت ڈالا اور الیکشن کے نتائج کھلم کھلا چوری کیے۔ جس کے نتیجہ میں جیتی ہوئی پارٹی پاکستان تحریک انصاف ہار گئی اور باقی سیاسی ٹولیاں ملکر حکومت بنانے میں کامیاب ہو گئیں۔نواز شریف کے غبی برادر خورد وزیر اعظم بن گئے، ان کی صاحبزادی جو پڑھائی اور لکھائی میں زیرو تھی ، اسے پنجاب کا وزیر اعلیٰ بنا دیا گیا۔ اس کٹھ پتلی حکومت کو نچانے والا کرتا دھرتا ادارہ دفاع کا تھا۔
اس صورت حال کو سمجھنے کے لیے آپ ایک ڈرامہ یاد کریں جو لاہور سٹیڈیم کے باہرسماجی تھیٹر میں دکھایا گیا تھا۔ اس کا مرکزی کردار ایک مسلح چوکیدار تھا جو ایک بڑے گھر کی چوکیداری کے لیے رکھا گیا تھا۔ اس گھر میںتین بھائی اور بہنیں رہتے تھے۔ اور جیسا کہ کئی گھروں میں ہوتا ہے، نندوں اور بھاوجوں میں اور ساس بہو میںتوتو میںمیں ہوتی تھی۔ کبھی بھائی بھی الجھ پڑتے تھے، تو چوکیدار بھائی کو یہ روز روز کی لڑائی پسند نہیں آئی اور ایک دن اس نے اپنی بندوق گھر والوں پر تان لی اور ان سے کہا اب آئیندہ کوئی لڑائی ہوئی تو وہ ان کو خود مارے گا۔کچھ دنوں بعد اسے اپنی بندوق کی طاقت کا اندازہ ہوا اور اس نے گھر والوں کو، جو اب لڑنا چھوڑ چکے تھے، کہا کہ میرا تنخواہ بڑھائو اور مجھے روزآنہ گوشت والا کھانا دیا کرو۔ اس طرح گھر والوں پرچوکیدار کے مطالبے بڑھتے گئے۔گھر والے والے اپنی لڑائیاں بھول کر چوکیدار کی فرمائشوں کو پورا کرنے میں جُت گئے۔ انہیں پولیس کے پاس جانے سے بھی روک دیا گیا تھا اور باہر سے کوئی مد دلینے سے بھی۔
اب آپ اس تمثیلچہ کو پورے پاکستان پر لاگو کریں تو کیا نظرآتا ہے؟ پاکستانی بھی اس گھر والوں کی طرح ہیں۔یہ کیسے ہوا؟ اس کی ایک بڑی وجہ جو ہماری ناقص عقل میں آتی ہے وہ بنیادی ہے۔ایک بات یاد رکھیں کہ ہماری فوج اور مذہبی برادری کا بہت پرانا ساتھ ہے۔ان دونوں نے ملکر بہت سے محاذوں پر کام کیا ہے۔ پاکستان میں جو دہشت گردی کی ابتدا ہوئی وہ بھی اس اتحاد کا نتیجہ تھی۔آمدم بر سر مطلب، پاکستان کی پیدائش کے بعد کچھ ہوش مندقائدین نے وطن پرستی کو فروغ دینے پر اشارہ دیا تو فوراً مذہبی طبقہ نے اعتراضات اٹھانے شروع کر دیئے، اور چین و عرب ہمارا قسم کی باتیں شروع کر دیں۔ کہ ہم مسلمان ہیں اور پوری دنیا کے مسلمانوں کا حصہ ہیں۔ ہم امہ کے ساتھ ہیں۔ ہماری اپنی کوئی وطنیت نہیں۔
آپ پوچھیں گے کہ پاکستان کے حالات کا وطنیت کے نظریہ سے کیا تعلق ہے؟۔ وہ تعلق یہ ہے کہ دنیا کے تقریباً سب ملکوں میں وطنیت کا جذبہ کسی نہ کسی سطح پر عوام میں پھیلایا جاتا ہے۔(کبھی کسی بھارتی مسلمان شہری سے بھارت کے خلاف کوئی بات کر کے دیکھیے)۔ اس کے فائدے پوری قوم کو ہوتے ہیں۔ وطن پرست اپنے وطن کے خلاف کوئی عمل برداشت نہیں کرتے۔چھوٹی سی مثال ہے کہ سنگا پور دنیا کا صاف ترین ملک ہے۔ اس لیے کے اس کے باشندے خود گلی یا سڑک پر کوڑا نہیں پھینکتے بلکہ انہیں اگر نظر بھی آئے تو اسے اٹھا لیتے ہیں۔ یہی حال یورپ کے ملکوں کا ہے۔ وطن پرست اور پڑھے لکھے لوگ کوئی ایسا کام نہیں کرتے جس سے ان کے ملک کی سا لمیت اور خو داری پر حرف آتا ہو۔لیکن پاکستان کی بد قسمتی سے وطن پرستی کو یہاں ممنوع قرار دے دیا گیا اس لیے پاکستان کے مفادات، اس کی سلامتی، اس کے اثاثے، کھلی لوٹ مار کا نشانہ بن گئے۔ہر طبقہ اور ادارہ اس لوٹ مار میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے لگا۔نچلی سطح پر مالک مکان گھر کے دروازے کے باہر ایک لمبی سیمنٹ کی ڈھلوان بنا لیتے ہیں تا کہ گھر میں ان کی کار آ سکے۔ یہ آسانی تو ہے لیکن جس جگہ یہ گذر گاہ بنائی جاتی ہے وہ سرکاری ہوتی ہے یعنی سڑک۔نئی آبادیوں میں جہاں ہر کوئی عام گذر گاہ پر ایسی پہاڑیاں بن لیتا ہے تو وہاں سڑک غائب ہو جاتی ہے اور نہ کوئی سواری ادھر سے گذر سکتی ہے ۔اگر کسی مریض کو تانگہ یا ٹیکسی میں جانا ہو تو اسے اٹھا کر باہر بڑی سڑک تک لے جا ناپڑتا ہے۔پاکستانی ، سرکاری زمین کو اپنی ملکیت سمجھتے ہیں ، اس لیے انہیں روکا نہیں جا سکتا۔ اگر وطن پرستی ہوتی تو وہ سرکاری زمین کو اپنی نہ سمجھتے۔اپنے وطن کی سمجھتے اور اس پر قبضہ نہ جماتے۔ یہ رویہ سارے پاکستان کو کھا گیا۔ کیونکہ جب سرکاری اہلکار اپنے فرائض منصبی ادا کرنے میں اوپر کی آمدنی لیتے ہیں تو وہ وطن پرستی کے خلاف کام کرتے ہیں۔ انہیں کوئی روکتا بھی نہیں۔ اب سوچیں کہ اگر رشوت لینا وطن پرستی کے حق میں ہوتا تو اور بات تھی۔ لیکن رشوت لینا یادینا کیااپنے ہم وطنوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف ہے کہ نہیں؟کیا یہ وطن کے خلاف کھلا جرم ہے کہ نہیں؟ لیکن چونکہ پاکستانی وطن پرست نہیں ، وہ بلا تکلف رشوت لیتے ہیں اور اس کو اوپر کی آمدنی کہتے ہیں۔
پاکستانی نہ وطن پرست ہیں اور نہ اسلام کے احکامات پر عمل کرتے ہیں۔ مثلاً اسلام کے حلال اور حرام رزق پر صریح احکامات ہیں۔ لیکن اوپر کی آمدنی والے اول تو ہر اوپر کی آمدنی کو اپنی حلال آمدنی کے ساتھ ملا لیتے ہیں۔ کچھ زیادہ مذہبی لوگ کہتے ہیں جی ہم صرف حلال کی آمدنی سے کھانا پینا کرتے ہیں اور دوسری آمدنی سے اشیائے تعیش جیسے کاریں، فرج، ایر کنڈیشنر، موٹر سائیکل وغیرہ لیتے ہیں۔ بندہ بھی خوش اور اللہ بھی خوش۔سبحان اللہ۔
اب رشوت لینا دینا ہماری نسوں میں بس چکا ہے۔ نہ لینے والے کو کوئی پریشانی ہے اور نہ دینے والوں کو۔ انہیں پتہ کے کہ حکومت سے کوئی کام نکلوانا ہو تو رشوت تو دینی پڑے گی۔دنیا کے دوسرے ملکوں میں بھی تھوڑی بہت رشوت چلتی ہے، اگرچہ وہ ایسے معاملات میں جہاں سرکاری اداروں سے معاملات ہوں ، رشوت دینا جرم سمجھا جاتا ہے۔ آپ امریکہ یا یوروپ کے کسی ملک میں کسی پولیس والے کو رشوت دیکر چالان سے بچنے کی کوشش کریں تو وہ ایک اور جرم بن جاتا ہے۔ان ملکوں میں سرکاری ٹھیکوں سے کمیشن لینا بھی جرم ہے، جسے پاکستان اور کئی غریب ممالک میںاہلکار اپنا حق سمجھتے ہیں۔
پاکستان کے سرکاری اداروں میں کرپشن یا بد عنوانی عام ہے اور اس کی کئی قسمیں ہیں۔ ان اداروں میں ہمارا محکمہ دفاع بھی ہے، جو ہماری تمثیل کے چوکیدار کی طرح، اوپر کی آمدنی کو بذریعہ طاقت بھی لیتا ہے۔ لیکن موجودہ قیادت نے ایک انوکھا راستہ اختیار کیا۔ انہوں نے بجائے ایک آدھ محکمہ کو ماتحت کرنے کے پوری حکومت ہی لوٹ لی۔وہ ایسے کہ گذشتہ عام انتخابات میں جو پارٹیاں انتخاب ہار گئیں تھیں، ان کو حکومت ایسے دلوا دی کہ جب چاہیں اسے گروا سکتی ہیں۔صرف کسی عدالت میں جا کر فارم 47کو نامنظور کروا کر۔جعلی حکومتیں یہ جانتی ہیں، اس لیے بلیک میل ہوتی رہتی یں۔ محکمہ دفاع کو بندوق دکھانے کی ضرورت ہی نہیں۔ فوج بھی جی بھر کر اس سہولت کا فائدہ اٹھا رہی ہے۔ فوج نے پہلے ہی سے ایک صنعتی راجدھانی بنائی ہوئی ہے جس میںکھربوں کی جائدادیں، فیکٹریاں اور اثاثے ہیں۔ اس راجدھانی کو بے دردی سے پاکستان سے لیکر وسیع تر کررہی ہے۔ اگر وطن پرستی ہوتی تو کبھی ایسا کام نہ ہوتا کیونکہ ایسا کر کے پاکستان کو مالی نقصان ہوتا ہے، جو دنیا کے دوسرے ملکوں کی فوجیں نہیں کرتیں۔ کیونکہ کوئی پوچھنے والا نہیں، حکمران اور سیاستدان بھی ان کی مرضی کے ہیں، عدالتیں ان کی مرضی کے خلاف فیصلہ نہیں کرتیں، اس لیے چاندی ہی چاندی ہے۔ جتنا لوٹ سکتے ہیں لوٹ لیں۔ اب انتہا ہو چلی ہے۔ اس لیے اب عمران خان کوآزاد بھی کر دیں تو وہ کیا کر لے گا؟۔ وہی ایک وطن پرست، ان سب کی راہ کا پتھر ہے۔ اس لیے تمام بد عنوان اہل کار، جو عوامی پیسے پر پل رہے ہیں، وہ اپنے جیسے بد عنوان سیاسست دانوں سے مل کر عمران خان اور اس کی جماعت کے خلاف کھڑے ہیں اور اس کی آزادی کی راہ میں رکاوٹ۔ اگر ہم عزر ائیل یا امریکہ کو قصور وار ٹھہرانا چاہیں تو غلط تو نہیں ہو گا لیکن جب ہمارے اپنے ہی ہمارے خلاف ہوں تو کسی کا کیا قصور۔ ابھی پاکستانی فوج نے پی آئی اے کو اونے پونے داموں خریدا، اب پتہ چلا ہے کہ اس کی 14ارب روپے کی جائداد الگ ہے۔ جہاز وغیرہ اس کے علاوہ۔ ذرہ غور کریں۔
اور اب اسلام آباد کے قریبی پہاڑی علاقہ میں مونال نامی ریسٹورانٹ پر ان کی نظریں پڑی ہیں۔ اس خبر پر ڈاکٹر شہباز گل ِنے تفصیل سے بات کی ۔ یہ ریسٹورانٹ مارگلہ کی پہاڑی پر پُرفضا مقام ہے جس پر ایک مونال نامی ریسٹورانٹ تعمیر کیا گیا، نہایت منافع خیز جگہ ہے۔شہباز صاحب کا کہنا ہے کہ یہ مقام صدر مشرف کو بھی بہت پسند تھا کیونکہ یہاں سے پورا اسلام آباد نظر آتا ہے۔کچھ عرصہ پہلے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی عدالت نے اس ریسٹورانٹ کو نیشنل پارک پر بنانے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ، گرانے کا حکم دے دیا تھا۔ اور اب نئی آئینی عدالت نے اس فیصلہ کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔اب پاکستانی فوج نے اس پر اپنا حق جمایا یہ کہتے ہوئے کہ یہ زمین انگریز حکومت نے انہیں گدھے گھوڑے پالنے کے لیے دی تھی۔کچھ دیر پہلے۔ لیکن آئینی عدالت نے اس مطالبہ کو بھی نا منظور کر دیا۔مسئلہ یہ ہے کہ یہ رقبہ اسلام اباد میں سب سے زیادہ قیمتی ہے اور فوج اسے ہھتیانا چاہتی ہے۔
مشہور تجزیہ کار بیریسٹرشہزاد اکبر نے بھی اس مسئلہ پر روشنی ڈالی ہے۔شہزاد صاحب نے بتایا کہ ملکہ وکٹوریا جانے سے پہلے کچھ تحفے ہماری فوج کے جوانوں کودے گئی تھیں۔اور فوج اس تحفہ کو کیش کرنا چاہتی ہے۔ یہ جائداد اتنی قیمتی ہے کہ جیسے نیو یار ک میں مین ہیٹن کے وسط میں پلازہ ہوٹل۔اگر یہ سینکڑوں ایکڑوں پر محیط اراضی فوج کو مل جاتی ہے تو کیا کہنے۔ فوج کے اثاثے آسمان سے چھونے لگیں گے۔اب فوج سے کون اسےچھڑوائے گا جب کہ عدالتیں بھی انہیں کی ہیں۔
دوستوں۔ پاکستان کی امیر ترین کمپنی خاکی کمپنی ہے جواب جلد ہی دنیا کی امیر ترین کمپنیوں میں شمار ہو گی۔ یہ پاکستانیوں کے لیے قابل فخر مقام ہو گا ایسے ہی جیسے کولمبیا کا سب سے بڑا ڈرگ ڈیلر وہاں کا امیر ترین انسان ہو گا؟دولت تو ایسے ہی کمائی جاتی ہے۔ ہم صرف فوج کو کیوں قصور وار بنائیں جب کہ پاکستان کے اکثر ارب پتی جیسے نواز شریف اور شہباز شریف۔ انہوں نے بھی تو ایسے ہی طریقوں سے دولت کمائی ہے۔پاکستانیوں کو وطن پرستی کا سبق نہیں پڑھایا گیا تھا۔ اس لیے کوئی اس کی پرواہ کرے یا اس کو بیچ کھائے۔ اس کی مر ضی۔مذہبی عناصر کو اس سے غرض نہیں کہ ملک کو کوئی بیچ رہا ہے یا اس کے اثاثے بڑھا رہا ہے۔انہیں تو اپنا وظیفہ چاہیے جو پنجاب حکومت نے بڑھا دیا ہے۔عوام کو ان پڑھ رکھ کر ہم نے سب کی راہ ہموار کر دی ہے۔
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق مولانا فضل رحمان نے فوجی جرنیلوں کو کھری کھری سنا دی ہیں۔ اب کون شہید ہوتا ہے اور کون فرض منصبی ادا کرتے مارا جاتا ہے، اس کا شرعی فیصلہ تو کوئی مفتی ہی کرے گا۔اس معاملہ میں مولانا اونچے مقام پر بیٹھے ہیں۔حافظ صاحب مفتی نہیں، اس لیے کوئی حکم نہیں صادر کر سکتے۔ راقم نا سمجھ ہے۔اس لیے اپنی ہانکنے سے بھی باز نہیں آتا۔ اس کا خیال ہے کہ جرنیل صاحب اور ان کی نوازیوں سے دوستی میں دڑاڑیں آ رہی ہیں۔ یہ اس لیے قابل فہم ہے کہ جرنیلوں نے یہ سوچ کر نون لیگ سے پینگیں بڑھائی تھیں کہ نواز شریف پنجاب کے مقبول ترین لیڈر تھے۔ لیکن انتخابات نے سارا بھانڈا پھوڑ دیا۔ مولانا نواز شریف کے تابعدار ہیں۔ اور ان کے حکم پر کنویں میں چھلانگ بھی مار سکتے ہیں۔ اب آپ دو جمع دو خود ہی کر لیجئیے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button