
متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک پر مسلسل دوسرے روز بھی میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے ہیں، جن کا الزام ایران پر عائد کیا جا رہا ہے۔ تاہم ایران نے ان الزامات کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے حالیہ دنوں میں یو اے ای کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے مطابق اگر ایران کی جانب سے کوئی حملہ کیا جاتا تو اس کا واضح اعلان کیا جاتا، لہٰذا اماراتی وزارتِ دفاع کے دعوے بے بنیاد ہیں۔دوسری جانب اماراتی حکام کا کہنا ہے کہ منگل کو ہونے والے حملے سے ایک روز قبل بھی حملوں میں کم از کم تین افراد زخمی ہوئے تھے، جبکہ فجیرہ کے اہم آئل تنصیب میں ڈرون حملے کے باعث آگ بھڑک اٹھی تھی۔ تازہ حملے کے نقصانات کی مکمل تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آ سکیں۔یہ کشیدگی ایسے وقت میں بڑھ رہی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کمزور پڑتی دکھائی دے رہی ہے۔ امریکا نے حال ہی میں "پروجیکٹ فریڈم” کے تحت آبنائے ہرمز میں پھنسی ہوئی تجارتی جہازوں کو نکالنے کے لیے آپریشن شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔



