پنجاب کی ضلعی عدالتوں میں آرمز آرڈیننس کے 86 فیصد سے زائد زیرِ التواء مقدمات کے فیصلے، 17 اضلاع مقدمات سے کلیئر

لاہور ( آصف اقبال ) چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس عالیہ نیلم کی خصوصی ہدایات پر پنجاب کی ضلعی عدالتوں میں پاکستان آرمز آرڈیننس 1965 کے تحت زیرِ التواء مقدمات نمٹانے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ گزشتہ چھ ماہ کے دوران صوبے بھر میں ایسے 2 ہزار 934 مقدمات کے فیصلے کر دیے گئے، جو 2023 تک زیرِ التواء 3 ہزار 397 مقدمات کا 86 فیصد سے زائد بنتے ہیں۔جاری اعدادوشمار کے مطابق پنجاب کے 17 اضلاع میں آرمز آرڈیننس کے تحت 2023 تک کے تمام زیرِ التواء مقدمات نمٹا دیے گئے ہیں، جبکہ دیگر اضلاع میں اب صرف 463 مقدمات زیرِ التواء ہیں۔باقی ماندہ مقدمات میں سے بڑی تعداد قتل کے زیرِ سماعت ٹرائلز کے ساتھ منسلک ہے۔ اس سلسلے میں چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے ضلعی عدالتوں کو ہدایت کی ہے کہ قتل کے مقدمات کے ٹرائلز جلد مکمل کیے جائیں تاکہ آرمز آرڈیننس کے تحت باقی مقدمات کے فیصلوں میں بھی تیزی لائی جا سکے۔چیف جسٹس کی خصوصی ہدایات کا مقصد زیرِ التواء مقدمات کو جلد نمٹانا اور ضلعی عدالتی نظام میں مقدمات کے بروقت فیصلوں کے عمل کو تیز کرنا ہے۔



