قومی مسائل کے حل کیلئے مکالمہ، آئینی بالادستی اور پارلیمان کو بااختیار بنانا ضروری ہے: ملک محمد احمد خان

لاہور ( آصف اقبال ) گورنر ہاؤس لاہور میں ’’نیشنل ڈائیلاگ ان پاکستان اینڈ گلوبل پیس‘‘ سیمینار کا انعقاد کیا گیا جس میں سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ سیمینار میں سینیٹر بشریٰ انجم بٹ، وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر محمد علی، چیئرمین پاکستان نظریاتی کونسل علامہ ڈاکٹر راغب حسین نعیمی، چیئرمین قرآن بورڈ پنجاب حافظ زبیر حسن، ایڈووکیٹ جنرل پنجاب بیرسٹر ظفر اللہ خان، فادر جیمز چنن، ممبر مینارٹی ایڈوائزری کونسل وزیراعلیٰ پنجاب سہیل عالم، پاسٹر آصف احسان سمیت دیگر شخصیات نے شرکت کی۔سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے کہا کہ ریاست کے طور پر پاکستان کی شناخت کا تعین کرنا ہماری اپنی ترجیح اور فیصلہ ہے۔ اگر ہم خود کو جنگجو ریاست کے طور پر پیش کریں گے تو ہماری شناخت بھی اسی بنیاد پر ہوگی، جبکہ خود کو صلح جو ریاست کے طور پر پیش کرنے سے عالمی سطح پر ہماری شناخت بھی امن اور مفاہمت سے جڑے گی۔انہوں نے کہا کہ قیام پاکستان سے آج تک ریاست کے کردار اور عالمی تنازعات میں پاکستان کی شمولیت کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ یہ دیکھنا ہوگا کہ پاکستان عالمی تنازعات کا حصہ کیوں بنا اور آیا یہ تنازعات ہماری بقا کے لیے ضروری تھے یا ہماری خارجہ اور داخلی پالیسیوں کا نتیجہ تھے۔ملک محمد احمد خان نے کہا کہ پاکستان نے گزشتہ 30 سے 35 سال دہشت گردی کا مقابلہ کیا ہے۔ انہوں نے دہشت گردی کے خوف میں پرورش پانے اور خوفناک اموات و تباہی کے مناظر دیکھنے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے باعث مساجد، امام بارگاہیں، عدالتیں، ہسپتال اور اسکول متاثر ہوئے جبکہ انسانی جانوں کا بھی بڑے پیمانے پر نقصان ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کا یہ خوفناک تجربہ آج بھی معاشرے میں موجود ہے اور دہشت گردی کے خوف کو استحصال کے لیے بھی استعمال کیا گیا۔سپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف فرنٹ لائن پر لڑنے والا ملک ہے اور اس حوالے سے اس کا جائز مؤقف بھی موجود ہے۔ ماضی کے واقعات اور تاریخ کا مطالعہ موجودہ حالات کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔انہوں نے کہا کہ انصاف اور عدل ہر مذہبی صحیفے میں بنیادی اہمیت رکھتے ہیں اور انصاف کا تصور صرف مذہبی تعلیمات تک محدود نہیں بلکہ دنیاوی معاملات میں بھی بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ گاؤں کی پنچایت سے لے کر بین الاقوامی اداروں اور اقوام متحدہ تک انصاف کے قیام کی بنیاد موجود ہے، اس لیے عالمی تنازعات کو بھی انصاف اور عدل کے اصولوں کی روشنی میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ملک محمد احمد خان نے ملک کی معاشی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان معاشی بحران کا شکار ہے اور معیشت شدید دباؤ میں ہے۔ معیشت کے مختلف شعبوں کی کارکردگی اور ٹیکس نظام کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ جو شعبے ٹیکس ادا نہیں کر رہے وہ قومی معیشت پر بوجھ بن چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ملک کو 70 سے 80 سال میں درست طریقے سے نہیں چلایا گیا تو اس کی وجوہات تلاش کرنا اور ان کا حل نکالنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ سیاسی اور معاشی مسائل کے حل کے لیے خود احتسابی ضروری ہے۔ پیچیدہ مسائل کا حل اداروں کی آئینی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے میں ہے۔ آئین میں پارلیمان کے لیے جو اختیارات مقرر کیے گئے ہیں انہیں تسلیم کرنا ہوگا۔ پارلیمان کو بااختیار بنانے کے لیے آئینی اختیارات پر بلا تعطل عمل درآمد ضروری ہے۔سپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ آئین میں درج اختیارات پر مسلسل عمل درآمد کرنا ہوگا۔ سیاسی جماعتیں ملک کی وحدت اور قومی تشخص کے قیام میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔ اگر سیاسی جماعتوں کی رسائی صرف علاقائی سطح تک محدود رہے گی تو وفاقی سوچ کمزور ہوسکتی ہے۔ سیاسی جماعتوں کی چاروں صوبوں میں موجودگی اور عوامی مقبولیت قومی یکجہتی کے لیے اہم ہے۔ آئینی اصولوں پر عمل درآمد کے لیے قومی سطح پر اتفاق رائے ضروری ہے۔ملک محمد احمد خان نے کہا کہ اس نوعیت کے مذاکرے قوموں کی زندگی اور قومی ترقی کے لیے ناگزیر ہیں۔ معاشرے میں مکالمہ نہ ہو تو قومی مسائل کا حل تلاش کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔ آج کے معاشرے جنگوں کی بنیاد پر نہیں بلکہ آئینی اصولوں کے تحت تشکیل پاتے ہیں اور آئین معاشرے کی بنیادی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔چیئرمین پاکستان نظریاتی کونسل علامہ ڈاکٹر راغب حسین نعیمی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے خصوصاً گزشتہ دو برسوں کے دوران عالمی سطح پر امن کے قیام کی کوششوں میں قابلِ ذکر کردار ادا کیا ہے۔ داخلی سطح پر امن کے قیام کے لیے علماء کا کردار بھی انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2018 میں ہزاروں علماء کے دستخطوں کے ساتھ پیغام پاکستان سامنے آیا، جس کا بنیادی مقصد نفرتوں کے خاتمے اور مختلف مکاتب فکر کے افراد کے درمیان پرامن بقائے باہمی کے اصول کو اجاگر کرنا تھا۔علامہ راغب حسین نعیمی نے کہا کہ رواداری اور امن کے فروغ کے لیے مختلف مکاتب فکر کے علماء نے اپنا کردار ادا کیا ہے، تاہم معاشرے میں موجود گہری نفرتوں کے خاتمے کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔ معاشی ترقی امن کے بغیر ممکن نہیں۔ایڈووکیٹ جنرل پنجاب بیرسٹر ظفر اللہ خان نے کہا کہ معاشرے میں امن اور استحکام کے لیے رول آف لاء اور اداروں کا مضبوط ہونا ضروری ہے۔ ریاست اور شہری کے درمیان تعلق واضح ہونا چاہیے اور قانون سب سے بالاتر اور سب کے لیے یکساں ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق جب تک یہ اصول مضبوط نہیں ہوں گے، پائیدار امن کا قیام مشکل رہے گا۔مسلم لیگ ن کی رہنما اور سینیٹر بشریٰ انجم بٹ نے کہا کہ سیاستدان نوجوانوں کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال نہ کریں۔ پاکستان کسی ایک فرد یا طبقے کا نہیں بلکہ سب کا ہے، جہاں مذہبی آزادی اور اظہارِ رائے کی آزادی موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی بات ہو تو امن کا ذکر بھی ہونا چاہیے، پاکستان کو دوبارہ ترقی اور استحکام کی راہ پر آگے بڑھنے کا موقع ملا ہے۔ پاکستان ہماری پہچان ہے۔سیمینار میں وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر محمد علی، چیئرمین قرآن بورڈ پنجاب حافظ زبیر حسن، فادر جیمز چنن، ممبر مینارٹی ایڈوائزری کونسل وزیراعلیٰ پنجاب سہیل عالم، پاسٹر آصف احسان سمیت دیگر شخصیات نے بھی شرکت کی۔



