
فرانس میں ہائی اسکول کے طلبہ کے ملک گیر احتجاج نے پرتشدد شکل اختیار کرلی اور کئی مقامات پر مظاہرے پولیس کے ساتھ جھڑپوں اور تشدد میں تبدیل ہوگئے۔طلبہ کا بنیادی احتجاج کلاس رومز میں گنجائش سے زیادہ طلبہ، اساتذہ کی کمی، اسکولوں کی خستہ حال عمارتوں اور تعلیمی سہولیات کے لیے ناکافی فنڈنگ کے خلاف ہے۔صورتحال کے باعث 400 سے زائد اسکول/تعلیمی ادارے بند کیے گئے ہیں اور کئی جگہوں پر تدریس آن لائن منتقل کی گئی ہے۔پیرس، اسٹراسبرگ، مارسیے اور رین سمیت مختلف شہروں میں پولیس اور طلبہ کے درمیان جھڑپیں ہوئیں؛ بعض مقامات پر آنسو گیس، آتش بازی، جلتے ہوئے کچرے کے ڈبے اور توڑ پھوڑ کے واقعات رپورٹ ہوئے۔فرانسیسی وزارتِ داخلہ کے مطابق جمعرات تک تقریباً 1,949 افراد گرفتار کیے گئے، جن میں بڑی تعداد نوعمر طلبہ کی بتائی گئی ہے۔ پولیس اور مظاہرین دونوں جانب زخمی ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔حکومت نے 400 بند اسکولوں کے اطراف احتجاجی اجتماعات پر پابندی عائد کردی ہے، جبکہ پولیس کی اضافی نفری بھی تعینات کی گئی ہے۔ طلبہ تنظیمیں حکومت سے اساتذہ کی بھرتی، تعلیمی عمارتوں کی فوری مرمت اور اسکولوں کے لیے مزید وسائل کا مطالبہ کر رہی ہیں۔



