سڈنی سوینی کے بولڈ اسپورٹس اشتہار پر کھلاڑیوں کا اعتراض، خواتین کی نمائندگی پر نئی بحثڑ

ہالی ووڈ اداکارہ سڈنی سوینی کی امریکی اسپورٹس پریڈکشن پلیٹ فارم نووگ کے لیے بنائی گئی نئی تشہیری مہم نے خواتین کے کھیلوں کی نمائندگی پر بحث چھیڑ دی ہے۔مہم کی تصاویر میں سڈنی سوینی کو نیم عریاں حالت میں باسکٹ بال اور فٹ بال سمیت مختلف کھیلوں کے سامان کے ساتھ پوز کرتے دکھایا گیا ہے۔ ان اشتہارات پر اعتراض صرف عام صارفین کی جانب سے نہیں بلکہ کئی پیشہ ور خواتین کھلاڑیوں نے بھی کیا ہے۔چار مرتبہ کی اولمپک گولڈ میڈلسٹ آرین ٹٹمس نے مہم پر ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ برسوں کھیلوں میں محنت کرنے والی خواتین کی صلاحیت، تربیت اور کامیابی کے بجائے ان کے جسم کو تشہیر کا ذریعہ بنانا مناسب نہیں۔برطانوی اسپرنٹر ایمی ہنٹ نے بھی مہم پر تنقید کی اور خواتین کے کھیلوں کی اصل حقیقت کی جانب توجہ دلائی، جس میں سخت ٹریننگ، پسینہ، مقابلہ اور برسوں کی محنت شامل ہوتی ہے۔ تیراک لینی پیلسٹر اور اسپرنٹر بری ریزو نے بھی اپنی ٹریننگ اور مقابلوں کی ویڈیوز شیئر کرکے خواتین کے کھیلوں کی ایک مختلف تصویر پیش کی۔اولمپک سلور میڈلسٹ واٹر پولو کھلاڑی ٹلی کیئرنز اور عالمی چیمپئن باکسر اسکائی نکلسن سمیت دیگر ایتھلیٹس نے بھی مہم کے تصور پر سوال اٹھائے۔ نکلسن نے خاص طور پر خوبصورتی اور جنسی کشش کو بطور تشہیری حربہ استعمال کرنے کے درمیان فرق کی نشاندہی کی۔تنقید کا بنیادی نکتہ سڈنی سوینی کا بولڈ انداز نہیں بلکہ یہ ہے کہ خواتین کے کھیلوں کو اسپورٹس کی محنت اور کامیابی کے بجائے جنسی انداز میں کیوں پیش کیا جارہا ہے۔



