سائنس دان دو ارب سال پرانے زمینی راز کو سمجھنے میں غلطی کر گئے؟

ایک نئی تحقیق میں سائنس دانوں نے دریافت کیا ہے کہ دو ارب سال قدیم ایک مشہور کیمیائی نشان (جسے پہلے زمین کے کاربن سائیکل میں ہونے والی ایک بڑی عالمی تبدیلی کا ثبوت سمجھا جاتا تھا) ممکنہ طور پر مقامی میگما، ہائیڈروکاربنز اور میتھین کھانے والے جرثوموں کی سرگرمیوں کے نتیجے میں وجود میں آیا تھا۔تقریباً 2.5 سے 2 ارب سال قبل جب فضا میں آکسیجن جمع ہونا شروع ہوئی تو زمین کی سطح پر ایک بہت بڑی کیمیائی تبدیلی رونما ہوئی۔سائنس دانوں کے مطابق اس تبدیلی نے ایسے حالات پیدا کرنے میں کردار ادا کیا جو بعد میں پودوں اور جانوروں جیسے پیچیدہ جانداروں کے ارتقا کے لیے سازگار ثابت ہوئے۔آکسیجن کی مقدار میں اضافے کے ابتدائی دور میں سمندر کی تہہ کے نیچے بڑی مقدار میں جرثوموں سے پیدا ہونے والا مواد دفن ہوا۔ اس عمل کے نتیجے میں کاربن چٹانوں میں محفوظ ہوگیا اور کاربن کے آئسوٹوپس میں ایک مخصوص کیمیائی نشان باقی رہ گیا۔کئی دہائیوں سے سائنس دان اس نشان کو زمین کے عالمی کاربن سائیکل میں ایک بڑے اور سیاروی سطح کے عدم توازن کی علامت سمجھتے رہے ہیں۔



