خلیج سے سپلائی بحال ہوتے ہی عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں کم ہوگئیں

مشرق وسطیٰ سے خام تیل کی برآمدات میں اضافے کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔خطے سے خام تیل کی برآمدات بعض دنوں میں امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ سے قبل کی سطح سے بھی تجاوز کر گئی ہیں، جس سے عالمی سپلائی کے حوالے سے فوری خدشات میں کمی آئی ہے۔رپورٹ کے مطابق برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودے تقریباً ایک فیصد کمی کے بعد 101.18 ڈالر فی بیرل پر آگئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل 1.03 فیصد کمی کے ساتھ 90.12 ڈالر فی بیرل پر آ گیا۔ حالیہ دنوں میں مشرق وسطیٰ سے تیل کی ترسیل میں نمایاں بحالی دیکھی گئی ہے۔اعداد و شمار کے مطابق خطے سے خام تیل کی یومیہ برآمدات 24 ستمبر اور پھر 27 سے 29 ستمبر کے دوران جنگ سے پہلے کی سطح سے اوپر چلی گئیں۔ یکم اکتوبر تک مشرق وسطیٰ کی اوسط خام تیل برآمدات تقریباً 18.5 ملین بیرل یومیہ تھیں، جبکہ جنگ شروع ہونے سے قبل اوسط تقریباً 18 ملین بیرل یومیہ تھی۔تیل کی قیمتوں پر دباؤ کی ایک اور وجہ جی سیون ممالک کا ہنگامی ذخائر سے مجموعی طور پر 10 کروڑ بیرل خام تیل اور ایندھن جاری کرنے کا فیصلہ ہے۔ اس اقدام کا مقصد عالمی منڈی میں اضافی سپلائی فراہم کرنا اور خاص طور پر ڈیزل کی بلند قیمتوں کو قابو کرنے میں مدد دینا ہے۔



