Select Language:
Urdu / English /Spanish / Bengali / Hindi
بین الاقوامی

خلیج سے امریکہ تک، پاکستان کی تیل پالیسی میں نئی کروٹ اربوں ڈالر کی درآمد، زرمبادلہ اور ادائیگی کا چیلنج

لاہور (آصف اقبال)

پاکستان کی جانب سے امریکہ سے خام تیل کی درآمد میں اضافہ توانائی کے شعبے میں سپلائی کے ذرائع کو متنوع بنانے کی ایک اہم پیش رفت کے طور پر سامنے آیا ہے۔ دستیاب رپورٹنگ کے مطابق نجی ریفائنری سینرجیکو (Cnergyico) نے نو ماہ کے دوران امریکہ سے تقریباً 81 لاکھ بیرل خام تیل درآمد کیا، جبکہ مالی سال 2025-26ء میں درآمد شدہ امریکی خام تیل کی مقدار تقریباً 71 لاکھ بیرل رہی، جس کی مالیت تقریباً 75 کروڑ ڈالر بتائی گئی ہے۔

رپورٹس کے مطابق امریکی خام تیل کی پاکستان آمد کا سلسلہ 2025ء میں شروع ہوا اور اس کے بعد درآمدی حجم میں اضافہ ہوا۔ امریکی خام تیل کی خریداری کو توانائی کے درآمدی ذرائع میں تنوع کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستان نے خلیجی ممالک سے خام تیل کی درآمد ختم کر دی ہے۔

حالیہ عالمی اور علاقائی حالات کے باعث خام تیل کی محفوظ اور متنوع سپلائی پاکستان کے لئے اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ ایسے میں مختلف ممالک سے خام تیل کی دستیابی اور اس کی قیمت کا موازنہ تجارتی فیصلوں میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

امریکی خام تیل کی درآمد کے حوالے سے ایک اہم پہلو اس کی حتمی درآمدی لاگت ہے۔ خام تیل کی بنیادی قیمت کے علاوہ فریٹ، انشورنس، بندرگاہی اور دیگر لاجسٹک اخراجات کو بھی مجموعی لاگت میں شامل کیا جاتا ہے۔ اس لئے کسی بھی درآمدی معاہدے کا حقیقی معاشی جائزہ اس کی مکمل landed cost سامنے آنے کے بعد ہی کیا جا سکتا ہے۔

اسی طرح امریکی خام تیل کی ریفائننگ کے بعد حاصل ہونے والی مصنوعات بھی اہم ہیں۔ سینرجیکو کی ریفائنری خام تیل سے پٹرول، ہائی اسپیڈ ڈیزل، جیٹ فیول، کیروسین، نَفْتھا، ایل پی جی اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات تیار کرتی ہے۔ اس لئے امریکی خام تیل کے معاشی فائدے کا اندازہ صرف خام تیل کی خریداری کی قیمت سے نہیں بلکہ ریفائننگ کے بعد حاصل ہونے والی مجموعی مصنوعات اور ان کی مارکیٹ ویلیو سے لگایا جا سکتا ہے۔

ادائیگی کے معاملے میں بھی مزید تفصیلات سامنے آنا ضروری ہیں۔ دستیاب رپورٹنگ میں امریکی EXIM Bank کے ذریعے تجارتی فنانسنگ اور ادائیگی مؤخر کرنے کی سہولت کے امکان کا ذکر کیا گیا ہے، جس سے مستقبل میں امریکی خام تیل کی خریداری بڑھانے میں مدد مل سکتی ہے۔ تاہم دستیاب معلومات کی بنیاد پر یہ حتمی طور پر کہنا درست نہیں کہ مالی سال 2025-26ء میں درآمد کیے گئے تقریباً 75 کروڑ ڈالر کے پورے خام تیل کی ادائیگی اسی فنانسنگ سہولت کے تحت ہوئی۔

اس لئے متعلقہ اداروں کی جانب سے یہ تفصیلات سامنے آنا اہم ہوگا کہ امریکی خام تیل کی درآمد کی مجموعی لاگت کیا رہی، ادائیگی کن تجارتی شرائط کے تحت ہوئی، کسی مالیاتی ادارے سے فنانسنگ حاصل کی گئی یا نہیں، اور اگر کوئی مؤخر ادائیگی کی سہولت استعمال ہوئی تو اس کی شرائط کیا تھیں۔

ماہرین کے مطابق کسی بھی درآمدی توانائی معاہدے کا جائزہ قیمت، معیار، دستیابی، نقل و حمل کے اخراجات، ریفائنری کی پیداوار اور ادائیگی کی شرائط سمیت تمام عوامل کو سامنے رکھ کر کیا جانا چاہیے۔

امریکی خام تیل کی درآمد کو اسی وسیع تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔ اگر مختلف ذرائع سے خام تیل مسابقتی قیمت پر دستیاب ہو تو سپلائی کے ذرائع میں تنوع پاکستان کے توانائی کے تحفظ میں معاون ہو سکتا ہے۔ تاہم حتمی معاشی فائدے کا تعین مکمل درآمدی لاگت اور ریفائننگ کے بعد حاصل ہونے والی مصنوعات کے اعدادوشمار سے ہی ممکن ہوگا۔

پاکستان کے لئے بنیادی سوال یہ نہیں کہ خام تیل کس ملک سے خریدا گیا، بلکہ یہ ہے کہ خام تیل کی مکمل لاگت کیا رہی، اس سے کتنی پیٹرولیم مصنوعات حاصل ہوئیں اور اس تجارت کے نتیجے میں ملک کی مجموعی توانائی اور زرمبادلہ کی صورتحال پر کیا اثر پڑا۔

اسی لئے امریکی خام تیل کی درآمد سے متعلق مکمل تجارتی اور مالیاتی اعدادوشمار کی دستیابی اس معاملے کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد دے سکتی ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button