لاہور فضائی انڈیکس میں آلودہ ترین شہروں میں 16ویں نمبر پر، سموگ سیزن سے قبل پنجاب میں پیشگی اقدامات سخت

لاہور ( آصف اقبال ) عالمی فضائی انڈیکس میں لاہور آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں 16ویں نمبر پر آگیا ہے، جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے نومبر میں متوقع سموگ سیزن سے قبل مؤثر اور جامع پیشگی انتظامات یقینی بنانے کی ہدایت کردی ہے۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے گزشتہ برس سموگ کی روک تھام کے لیے اختیار کی گئی کامیاب حکمت عملی کو مزید مؤثر بنانے اور فضائی آلودگی کے پھیلاؤ کے تمام ذرائع کی روک تھام کے لیے کارروائیاں تیز کرنے کی ہدایت کی ہے۔حکام کے مطابق بھارت سے چلنے والی تیز ہواؤں کے رخ میں تبدیلی کے باعث لاہور، فیصل آباد، رحیم یار خان سمیت پنجاب کے مختلف اضلاع میں فضائی آلودگی کے انڈیکس میں معمولی اتار چڑھاؤ جاری ہے۔ موسمیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگلے ہفتے لاہور میں بارش سے فضائی آلودگی میں کمی کا امکان ہے، جبکہ ہوا کی رفتار اور نمی میں اضافے کے باعث آلودہ ذرات فضا میں موجود رہنے سے ایئر کوالٹی انڈیکس میں تبدیلی آتی رہتی ہے۔وزیراعلیٰ کی ہدایت پر گزشتہ سال کے اینٹی سموگ سیزن کے تمام ایس او پیز پر عملدرآمد مزید سخت کردیا گیا ہے۔ پنجاب کی انتظامیہ اور متعلقہ محکموں کو فصلوں کی باقیات جدید مشینری کے ذریعے تلف کرنے اور انہیں آگ لگانے کی روک تھام یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔مریم نواز شریف نے پلاسٹک جلانے اور پلاسٹک سے تیار کردہ مصنوعات کے باعث انسانی زندگی کو لاحق خطرات کے خاتمے کے لیے بھی مؤثر اقدامات کی ہدایت کی ہے۔ بھٹہ خشت کی مانیٹرنگ بڑھا دی گئی ہے جبکہ زگ زیگ ٹیکنالوجی کے بغیر چلنے والے بھٹوں کے خلاف کارروائیاں بھی تیز کردی گئی ہیں۔دھوئیں کے باعث فضائی آلودگی پیدا کرنے والے ریستورانوں اور باربی کیو آؤٹ لیٹس کی نگرانی اور معائنہ مؤثر بنانے کے احکامات بھی جاری کیے گئے ہیں۔ لاہور کے داخلی راستوں پر بڑی اور چھوٹی گاڑیوں کی چیکنگ اور سموک ایمیشن کی سخت پڑتال جاری ہے، جبکہ دھواں چھوڑنے والی موٹر سائیکلوں کی مانیٹرنگ بھی کی جارہی ہے۔سموگ کی روک تھام کے لیے سیف سٹی کیمروں، تھرمل امیجنگ اور جدید مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی نظام کے ذریعے مانیٹرنگ کا دائرہ بھی وسیع کردیا گیا ہے۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ سموگ کے تین ماہ کے دوران انتظامیہ، متعلقہ محکموں اور عوام کے باہمی تعاون سے فضائی آلودگی پر قابو پانے اور ماحولیاتی تحفظ کے لیے کامیابی کی ایک نئی مثال قائم کی جائے گی۔



