Select Language
ہفتہ وار کالمز

دیکھیے اس بحر کی تہہ سے اچھلتا ہے کیا !

ایران پر 28 مارچ سے شروع ہونے والے امریکہ اور اسرائیل کے حملوں سے پہلے آبنائے ہرمز ایک رواں دواں بحری راستے کے طور پر کھلی ہوئی تھی، ایران کے ایٹمی پروگرام پر جاری مذاکرات نتیجہ خیز ہونے کے قریب ہی تھے۔مبینہ طور پر ایران امریکہ کو قابل قبول معاہدے تک پہنچ چکا تھا کہ اچانک، بغیر کسی معلوم وجہ ، بغیر کسی جواز اور بغیر کسی اشتعال کے اسرائیل اور امریکہ نے ایران پر بموں اور میزائلوں کی بارش شروع کر دی۔چند ہی روز کے اندر ایران کی اعلی ترین قیادت کو تاک تاک کر مار دیا گیا۔ایران کے اسکولوں ، یونیورسٹیوں ، پاور اسٹیشنوں ، آئل ریفائنریوں، پلوں ، سول آبادی پر میزائل اور بم برسائے گئے۔تاریخ نے پہلی بار حیرت اور تشویش سے کھلی آنکھوں سے دیکھا کہ دو ایٹمی ملک ایک ایسے غیر ایٹمی ملک پر مشترکہ طور پر حملے کر رہے ہیں جو تیس سال سے متجاوز عرصے سے بین الاقوامی تجارتی پابندیوں کا شکار ہے ۔پھر ہوا یوں کہ ایران کے جوابی میزائل حملوں نے اسرائیل اور امریکہ کو پہلے حیران، پھر مجروح اور بالآخر نڈھال کر کے رکھ دیا۔اور بات عارضی سیز فائر کی درخواست تک جا پہنچی۔اب جاری مذاکرات میں تکبر مآب امریکہ آبنائے ہرمز کو فوراً کھولنے اور ایٹمی پروگرام کو بند کرنے پر بھی اصرار کر رہا ہے۔یعنی جو آبنائے ہرمز پہلے کھلی ہوئی تھی اور جسے اسرائیل اور امریکہ کے حملوں کے بعد پہلے بند اور پھر ایران کی نگرانی میں کھول دیا گیا ،اس کی پوزیشن کو اگر 28 مارچ سے پہلے کی حالت میں لے جانے کی بات کی جا رہی ہے تو پھر لازم ہے کہ ایران کو بھی 28 مارچ کے حملوں سے پہلے والی حالت میں واپس لایا جائے۔کیا امریکہ اور اسرائیل ایسا کر سکتے ہیں؟ اگر ایران بلاخیز تباہی و بربادی کے ملبے سے اٹھ کر جارح ملک سے جنگ بندی کے مذاکرات کر سکتا ہے تو پھر امریکہ کو بھی آبنائے ہرمز پر ایرانی ٹیکسیشن کو ٹھنڈے پیٹ قبول کر لینا چاہیئے۔ لیکن امریکہ کی مجبوری بلکہ معذوری کا نام بنجمن نیتن یاہو ہے۔جس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بڑی گہرائی سے بلیک میل کر رکھا ہے۔گویا اس وقت عالمی فساد اور عدم استحکام کا باعث اسرائیل کا وزیر اعظم نیتن یاہو ہے۔جب تک اُسترا نیتن یاہو جیسے بندر کے ہاتھ میں رہے گا، یہ خود بھی زخمی ہو گا اور جنگل کو بھی لہو لہان کرتا رہے گا۔دنیا کے امن و امان اور خطے کے ممالک کی سلامتی کو اسرائیلی ریاست کی توسیع پسندی کے حوالے نہیں کیا جا سکتا۔اسرائیل اپنی سلامتی کا اہتمام اپنے طرزعمل سے ہی کر سکتا ہے۔اگر وہ پُرامن بقائے باہمی کے اصول کو تسلیم کر لے اور اس پر خلوص نیت سے عامل ہو جائے ،تو فلسطینیوں کے آزاد و خودمختار ملک کا ہمسایہ اور دوست بن کر رہے اور ترقی کرے ،تو دنیا میں اس کے وجود پر کوئی بھی سوال نہیں اٹھائے گا۔لیکن مسٔلہ وہاں سے شروع ہوتا ہے جہاں سے اسرائیل اپنی قوت ِشر اور جبلت فساد کو اپنی بقا کا سامان اور جواز سمجھنے لگتا ہے۔حال ہی میں سیز فائر کے عمل سے گزرنے والی ایران امریکہ اور اسرائیل جنگ نے جہاں ایران کی مزاحمت ،ثابت قدمی اور مقابلے کے جوابی وار کرنے کی صلاحیت نے پوری دنیا کوحیران اور امریکہ اسرائیل کو پریشان کیا ہے ،تو وہیں خود اسرائیل کے اندر سے صیہونیوں کی شیطانی انتہا پسندی کے خلاف جنگ مخالف شہریوں کی مزاحمت اور ہنگامہ آرائی نے دنیا کو متوجہ اور متحیئر کر دیا ہے۔امریکہ کے اندر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس احمقانہ جنگ میں شرکت پر احتجاج سے آگے بڑھ کر نوبت لعنت ملامت اور تحریک عدم اعتماد تک پہنچتی نظر آ رہی ہے۔ رجیم چینج کا جو تصور ڈونلڈ ٹرمپ نے دنیا کے سامنے رکھا تھا ،یعنی دنیا بھر میں جہاں بھی حکومت خود کو آزاد و خودمختار خیال کرتی ہو ، امریکہ کی چاکری کرنے میں دلچسپی نہ رکھتی ہو ، کسی بھی نفسیاتی عوارض کے شکار امریکی صدر کو پسند نہ آئے ، وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون کے اشاروں پر چلنے کے لیے تیار نہ ہو تو وہاں کے صدر کو اس کے ملک پرحملہ کر کے اس کی بیگم سمیت اٹھا لو، جیسا کہ وینزویلا میں کیا گیا۔ دنیا میں جہاں بھی کوئی ملک اسرائیل کی راستے میں رکاوٹ بنتا نظر آئے یا اس کے مقاصد میں حائل ہو سکتا ہو ، تو وہاں حملہ کر دو، اور اس کی پوری قیادت کو مار دو۔ یہ سائنس بنیادی طور پہ عالمی مجرم نیتن یاہو نے ایجاد کی ہے، جب اس نے چن چن کے مخالفین کے رہنما مارنے شروع کیے اور سچی بات تو یہ ہے کہ اسرائیل کے تمام تر جرائم کی تہہ میں امریکی اسلحہ ،امریکی اعانت ، امریکی مدد اور امریکی تائید شامل ہوتی ہے۔ تو اسی لیے ہم دونوں کے جرائم کو جدا جدا کر کے نہیں دیکھ سکتے۔ اب دنیا بھر کا یہ تسلیم شدہ قانون ہے کہ کسی کو قتل کی دھمکی دینا قابل دست اندازی پولیس جرم ہوتا ہے اور اس پر سخت تادیبی کارروائی کی جا سکتی ہے۔اگر یہ قانونی فراست افراد پر موثر ہے تو اقوام و ممالک پر کیوں نہیں۔امریکہ کے موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایسی مجرمانہ دھمکیاں دینے کے عادی ہیں۔اسرائیل کا جرائم پیشہ نیتن یاہو عملاً یہ کام کرتا ہے ۔کیا ایسے دنیا چل سکتی ہے۔اب تو یوں لگتا ہے کہ جنگوں کی پوری سائنس ہی تبدیل کر دی گئی ہے۔متحارب ممالک میں ان کی سیاسی و عسکری قیادت کو چن چن کر اور تاک تاک کر مار دینا اسرائیل اور امریکہ کا تازہ ترین رویہ ہے۔ان ممالک نے ابھی یہ اندازہ نہیں لگایا کہ جب جنگی سائنس کا یہی اصول ان کے اپنے ممالک کے خلاف روبہ عمل لایا جائے گا تو پھر ان کا ردعمل اور رویہ کیا ہوگا۔؟ اگر ایران کی قیادت کو مارا جا سکتا ہے ، ایران پر حملہ کیا جا سکتا ہے ۔اگر رجیم چینج کے بہانے بچیوں کے اسکول پر امریکی میزائل مار 160 ننھی طالبات کو شہید کیا جا سکتا ہے، تو پھر مان لینا چاہیئے کہ اس وقت پوری دنیا امریکہ اور اسرائیل میں رجیم چینج کرنا چاہتی ہے۔ اب ڈونلڈ ٹرمپ اور نیتن یاہو باہم بیٹھ کر اور مشورہ کر کے بتائیں کہ یہ والے رجیم چینج کرنے کے لیے دنیا کو کیا کیا کچھ کرنا پڑے گا؟ کیا اسلام آباد مذاکرات میں اسرائیل کی طرف سے کئے گئے ایرانی رہنماؤں کے مسلسل قتل کو بھی ایجنڈے کا حصہ بنایا جائے گا؟ کیا اسرائیل کو لبنان پر حزب اللہ کے بہانے تباہ کن حملوں سے روکا جائے گا؟ حزب اللہ کو ایران کی پراکسی کہنے والے خطے میں اسرائیلی پراکسیز یعنی اردن،بحرین ابوظہبی،دبئی، شارجہ، عمان، راس الخیمہ،فجیرہ اور ام القوین کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں۔یہ وہ پراکسیز ہیں جہاں امریکی اور اسرائیلی فوجی اڈے اور افواج براجمان ہیں اور ایران پر حملوں میں استعمال ہو رہی تھیں ۔ مذاکرات سے امیدیں وابستہ کرتے ہوئے ان سارے معاملات و مسائل کو سامنے رکھنا ہو گا۔ امر واقعہ تو یہ ہے کہ،اب جتنی توجہ آبنائے ہرمز کی بندش کھلوانے پر دی جارہی ہے ،اس سے آدھی توجہ بھی اسرائیل اور امریکہ کے جنگی جرائم پر نہیں دی جا رہی ۔ایران میں ننھی بچیوں کے اسکول پر میزائل مار کر ایک سو ساٹھ سے متجاوز ننھی طالبات کے قتل پر دنیا میں نہ تو آندھی آئی اور نہ کوئی طوفان اٹھا۔ایسے میں ان مذاکرات سے بہت بڑی بڑی امیدیں وابستہ کرنا مناسب نہیں ہو گا۔بس بہتر توقعات کے ساتھ منتظر و متوجہ رہنا چاہیئے ،یعنی بقول علامہ اقبال ؛
دیکھیے اس بحر کی تہہ سے اچھلتا ہے کیا
گنبد نیلو فری رنگ بدلتا ہے کیا!

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button