جنگ بندی ہے یا چال ہے ؟

حالیہ جنگ بندی پر بڑی قیاس آرائیاں سننے کوا ور دیکھنے کو مل رہی ہیں مگر یہ یقین کہیں مکمل ہوتا ہوا نہیں نظر آ رہا کہ جنگ بندی کا مکمل خاتمہ ہو گااور دنیامیں موجود چھوٹی بڑی طاقتیں اپنی قوت کو قتل و غارت کرنے کی بجائے اسے معاشی سطح پر اُجاگر کرنے میں صرف کریں گی اسلحہ سازی کو صرف ملکی دفاع کو مد نظر رکھتے ہوئے توجہ دی جائے گی یوں دنیا میں امن کی فاختہ کو کوئی گھر بیٹھے اپنے ایٹمی نشانے پر نہیں لے گا بھائی چارہ اور دوستی سے بڑے بڑے مسائل جیسے پانی کی تقسیم کا مسئلہ ،مقبوضہ کشمیر و فلسطین کی آزادی کا مسئلہ دوستانہ ماحول میں امن کے سائے میں حل ہو جائیں گے مگر نیتوں کے سیاہ بادل جس نے آسمان کو اپنی سیاہ چادر میں لپیٹ رکھا ہے اس کے کارن امن کا سورج کسی بھی مقام پر اپنی صورت دکھانے سے قاصر ہے یا یوں کہہ لیں کہ رنجشوں کی گہما گہمی میں امن کی کرنیں بھی معدوم ہوتی نظر آرہی ہیں حکومت ِ پاکستان کی کاوشوں سے انکار نہیں کہ اُس نے امن کے لئے اپنے دوستانہ ،سفارتی تعلقات کو بروئے کار لاتے ہوئے جنگ بندی کرانے میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے جو دنیا کے کے لئے قابل ِ تعریف اقدام بنا ہے پاکستان تعظیم و احترام کے اس پُل سے فخریہ انداز سے گزر رہا ہے مگر قابل فخر وہ لمحات ہیں جب جنگ بندی کا خاتمہ کرتے ہوئے پاکستان فریقین کو سفارتی سطح پر یکجا کر دے یہ خواہش دنیا کی ہے کہ جنگ و جدل کی بجائے امن قائم ہو مگر دنیا میں موجود تمام اذہان کی سوچ ایک جیسی نہیں ہے کوئی امن چاہتا ہے تو کوئی اس کے برعکس جارحانہ کاروائیوں سے نہتے غریب ملکوں کو نیچا دکھا کر اُس کے دستیاب وسائل پر قابض ہونے کی کوششوں میں رہتا ہے باوثوق ذرائع کہہ رہے ہیں کہ نیتن یاہو کی جارحانہ جنگی کاروائیاں جو لبنان میں کی گئیں کسی طور پر پسند نہیں کی جا رہی ہیں اسرائیلی عوام اور امریکی اپوزیشن کے ساتھ ساتھ دیگر ممالک بھی اس تیسری عالمی جنگ سے چھٹکارا پانے کے لئے مذاکرات کی کامیابی کی اُمید لئے بیٹھے ہیں دنیا عقل و خرد کی پکار لئے امن کی مالا کو ٹوٹنے سے بچانے کے لئے جہاں کامیاب مذاکرات کے لئے کوشاں ہے تو اُسے مستقبل قریب میں ایسی ہی اکٹھ کے ذریعے اُن طاقتوں کا راستہ روکنا ہو گا جو اپنی مذموم خواہشات کی تکمیل کے لئے کسی بھی دوسرے ملک کی خود مختاری کو نشانہ بنانے سے دریغ نہیں کرتے کسی کی بھی آزادی کو سلب کرنا ،خودمختاری کو روندنا انسانیت کے ضمرے میں نہیں آتا اور اگر ایسی طاقتورں کو کھلا چھوڑا گیا تو یہ انہونی ہونے میں دیر نہیں لگے گی کہ انسانوں نے اپنی دنیا میں جنگل کا قانون رائج کر لیا ہے جنوبی لبنان پر اسرائیل کے پے در پے حملے اسی سوچ کے عکاس ہیں ایران و لبنان پر اسرائیل و امریکہ کے حملوں نے انسانی ضمیر کو جھنجوڑ ڈالا ہے احساس ہوتا ہے کہ جنگ و جدل کو عالمی سطح پر متفقہ ضابطوں کا پابند ہونا چائیے اور جنگ کو انسانیت کے خلاف سنگین جرم قرار دینا امن کی راہیں ہموار کرنا ہے تو کیوں اقوام عالم اپنے پلیٹ فارم سے ان ضابطوں کو پائیدار شکل نہیں دیتی؟ جرم و زیادتی کرنے والے ممالک کے خلاف پوری دنیا کا اکٹھ ہونا لازمی امر ہے تا کہ آنے والی نسلیں اپنی سانسیں امن کی فضاء میں لیں سکیں ممتاز دانشور وجاہت مسعود کہتے ہیں کہ جنگ کا جواز خواہ کچھ بھی ہو جنگ ،نظریات ،وسائل اور شناخت پر قبضے کا جواز تراش کر فرد کی دنیا پر تاریکی اتارنے کا نام ہے طاقت اور کمزوری میں یہ غیر متناسب مقابلہ جنگل کی میراث ہے جنگ کا متبادل صرف ایسی دنیا کا قیام ہے جس میں بقائے باہمی کے اصول پر انسانی زندگی کا حترام یقینی بنایا جا سکے پاکستان نے چین کے ساتھ اپنے اوائل میں ہی سرحدی تنازعات کو حل کرتے ہوئے کچھ علاقے چین کو دئیے تھے اُس پر اپنا قبضہ ختم کر کے چین کے حوالے کئے آج چین و پاکستان کی دوستی ان ہی غیر سگالی جذبات کی وجہ سے مثالی تسلیم کی جاتی ہے بہتر ہو گا کہ مذاکرات میں دورس نتائج کو دیکھتے ہوئے جنگ کی تباہ کاریوں کو مدنظر رکھتے ہوئے انسانی بقاء کو معاشی ترقی کو ترجیح دیتے ہوئے دوستانہ ماحول پیدا کیا جائے بصورت ِ دیگر طاقت کے گھمنڈ میں رہتے ہوئے امن کا قیام ممکن مجھے نظر نہیں آتا اللہ کرے کہ مکمل جنگ بندی ہو اور پاکستان کو دونوں فریقین کو امن کی جانب راغب رکھنے پر کامیابی ملے بس ڈر ہے کہ امن مذاکرات میں کسی کی کوئی چال پنہاں نہ ہو۔



