کوئی حد بھی ہے دادا گیری کی؟

ہم نے شاید گذشتہ کالم میں بھی حضرتِ جوش کے حوالہ سے لکھا تھا کہ؎
دنیا کا عجب دور نظرآتا ہے
بدلا ہوا ہر طور نظر آتا ہے
تو یہ صرف شاعرانہ ترنگ کے تحت نہیں کہا تھا بلکہ واقعی دنیا کا جو احوال ہم اس دور میں دیکھ رہے ہیں اپنی طویل اور صبر آزما، مہم جو، زندگی میں ایسا عجیب و غریب دور کبھی نہیں دیکھا تھا!ہمارے وہم و گمان میں بھی یہ نہیں آیا تھا کہ ہم اپنی زندگی میں کبھی یہ منظر بھی دیکھیں گے کہ نشہء اقتدار سے مغلوب ایک بڑی عالمی طاقت کا سربراہ اس حد تک اپنے طاقتور ہونے کا ایسا مظاہرہ کرے گا کہ ایک کمزور ملک کے صدر پہ ایسی تہمت لگائے گا ، اور اس تہمت اور الزام کو بار بار بڑے تکبر سے دنیا کے سامنے دہرائے گا ، کہ اس کا ہدف منشیات کی فروخت کا باوا آدم بنا ہوا ہے اور یہ یکطرفہ الزام لگاکے اس کے ملک پہ حملہ کردے گا اور اپنے ہدف سربراہ کو ہتھکڑیاں لگاکے، نہ صرف اسے بلکہ اس کی اہلیہ کو بھی، دنیا کے سامنے بے عزت کرکے اپنے ملک میں جیل کی سلاخوں کے پیچھے بند کردے گا اور اپنے اس ‘کارنامہ پہ شرمندہ ہونا تو درکنار وہ اپنے پڑوس کے کمزور ملکوں کو دھمکی دے گا کہ اگر انہوں نے وہ نہیں کیا جو یہ داداگیر ان سے چاہتا ہے تو ان کا انجام بھی وینزویلا کےصدر مودورو سے مختلف نہیں ہوگا!
ہم معذرت چاہتے ہیں اگر ہمارے کسی قاری کو داداگیر کی اصطلاح پر ذہنی تحفظ ہو۔ لیکن ہم نے جس کراچی میں آنکھ کھولی تھی اس میں یہ اصطلاح بہت عام ہے۔ ہماری دلی میں تو ایسے انسان کو جو دوسروں کو اپنی طاقت یا اپنی شرپسندی سے مرعوب کرنا چاہتا ہو طرم خان کے نام سے یاد کرتے ہیں لیکن دادا گیر سے جو مفہوم کھل کر ذہن نشین ہوتا ہے وہ طرم خان سے نہیں ہوتا!تو آج کل دنیا کی سب سے بڑی عسکری طاقت کے جو سربراہِ مملکت ہیں، یعنی صدر ٹرمپ، انہوں نے من و عن وہی رویہ اور طور اپنایا ہوا ہےجو کراچی کی زبان میں کسی داداگیر کا ہوتا ہے یا ممبئی اور ماضی کی بمبئی کی عام فہم اصطلاح میں کسی بھائی کا ہوا کرتا ہے!
تو موصوف داداگیر کو، جنہیں عالمی داداگیر کہا جائے تو بیجا نہ ہوگا، ابھی اقتدار سنبھالے ایک برس بھی نہیں ہوا لیکن اس مختصر عرصہ میں وہ دنیا کے کم از کم سات ممالک پر حملہ کرچکے ہیں ، انہیں اپنے بمبار طیاروں کا نشانہ بناچکے ہیں لیکن وہ جو کہا جاتا ہے کہ ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات، یا وہ جو کہاوت زباں زدِ عام ہے کہ ہونہار پوت کے پاؤں تو پالنے میں ہی نظر آجاتے ہیں۔ تو موصوف کے متعلق بھی یہ یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ وہ ان ممالک پر ہی اکتفا نہیں کرینگے بلکہ داداگیر کی فطرت کے عین مطابق ان کے حوصلے بڑھتے ہی جائینگے۔
داداگیر کی خصلت یہ ہوتی ہےکہ اگر اس کے آنکھیں دکھانے پر کوئی اس کی آنکھ میں آنکھ ڈال کےبات نہ کرے تو اس کا سینہ اور چوڑا ہوجاتا ہے اور اسے یقین ہوجاتا ہے کہ فریقِ ثانی، یا کوئی اور فریق، نہ اسے روک سکتا ہے نہ اس کے مقابل آسکتا ہے۔ تو یہ عالمی دادا گیر اب ایک طرف گرین لینڈ کو جو ڈنمارک کا حصہ ہے ہتھیانے کی دھمکی دے رہا ہے تو دوسری طرف ایران کی حکومت کو بھی دھمکا رہا ہے کہ اگر اس نےان بلوائیوں کےخلاف کوئی کارروائی کی، جنہیں احتجاج پر لشکارنے میں ان کی حکومت اور ان کے بغل بچے صیہونی اسرائیل کا بڑا نمایاں کردار ہے، تو وہ ایران پر پھر سے چڑھائی کردینگے اور اس کی قیادت کے ساتھ بھی وہی سلوک کرینگے جو انہوں نے وینزویلا کے صدر مودورو کے ساتھ کیا ہے!
یہ اس کے باوجود ہے کہ اپنی انتخابی مہم میں انہوں نے امریکی عوام کو یہ سبزباغ دکھایا تھا کہ وہ اگر صدر ہوگئے تو وہ امریکہ کو کسی جنگی مہم میں مبتلا نہیں کرینگے۔ وہ امن کے پیامبر کا فریبی نعرہ لگا کے امریکی عوام میں مقبول ہوئے تھے۔ یعنی وہ جو پاکستان میں اصطلاح بہت عام ہے انہوں نے امن اور چین کا چورن بیچا تھا اورووٹ حاصل کئے تھے۔لیکن یہی تو منافق کی سب سے کھری پہچان ہے کہ وہ جو کہتا ہے اس پر عمل نہیں کرتا اور یوں عمل نہیں کرتا کہ اس کی نیت میں ہمیشہ کھوٹ ہوتا ہے!تو داداگیر ٹرمپ کی نیت میں گرین لینڈ کےحوالے سے بھی وہی کھوٹ ہےجو ایران کے متعلق ہے۔گرین لینڈ کو وہ خریدنے کی بات کرتے ہیں لیکن ایران کو غرا کے آنکھیں دکھارہے ہیں کہ اگر اس نے اپنےبلوائیوں کے خلاف طاقت استعمال کی تو وہ شرپسندوں کے پشت پناہ بن کے ایران کے خلاف اپنی فوج استعمال کرینگے جس کے متعلق ان کا پسندیدہ نعرہ ہے کہ جو طاقت امریکہ کے پاس ہےوہ عالمی تاریخ میں اس سے پہلے کسی ملک کو نصیب نہیں ہوئی!یورپ نے تو چوڑیاں پہنی ہوئی ہیں لہٰذا اس سے یہ توقع رکھنا بیکار ہے کہ وہ داداگیر کی گرین لینڈ کو ہتھیانے کی دھمکی کے جواب میں کھڑے ہوجائینگے۔ یورپ کی دھونس اس وقت تک تھی جب چین اور تیسری دنیا کے ممالک کمزور تھے اور جس کمزوری سے فائدہ اٹھا کر یورپ نےان ممالک کی آزادی سلب کی، وہاں استعماری طاقت استعمال کرتے ہوئے نو آبادیاں قائم کیں، ان ممالک کے وسائل کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا اور اپنا گھر بھرا لیکن اب برطانیہ جیسی طاقت، جسےبڑا زعم تھا کہ اس کی سلطنت پر سورج کبھی غروب نہیں ہوتا تھا، سمٹ کے اپنے اسی چھوٹے سے جزیرہ میں رہ گئی ہے جہاں سے اس نے چار صدیاں قبل ہاتھ پاؤں نکالے تھے اور دنیا کو تہہ و بالا کیا تھا!سو دادادگیر کی گرین لینڈ کو قبضہ میں لینے کی دھمکی کے جواب میں یورپ کے ممالک کاغذی کارروائی سے آگے بڑھنے کی جراءت نہیں کرینگے اور داداگیر اپنی غنڈہ گردی میں کامیاب و کامران رہے گا!لیکن ایران نے یورپ کی طرح چوڑیاں نہیں پہنیں۔ وہ داداگیر کی غنڈہ گردی کا منہ توڑ جواب دے گا ۔ سو اب دردسری سامراج کے حلیف خلیجی ممالک کیلئےکہ وہ کیسے آپے سے باہر ہوئےداداگیر کو لگام دے سکتے ہیں اور اسے ایران کے خلاف اپنے بغض کو جارحیت میں بدلنے سے باز رکھ سکتے ہیں۔ داداگیر کو باز رکھنے کی سکت اور ہمت پیدا کرنا ہی ان غلام خلیجی ممالک کیلئے ایک ایسا بڑا کام ہوگا جس کی بظاہر تو ان میں کوئی سکت نظر نہیں آتی لیکن جب جان پہ بن آئے تو چیونٹی بھی شیر ہوجاتی ہے !ایران کے خلاف داداگیر کے دل میں بغض بہت بھرا ہوا ہے اور بہت پرانا بھی ہے۔ اپنے پہلےدورِ اقتدار میں داداگیر نے پہلے ہی دن اس منصوبے کو یکطرفہ طور پہ کالعدم قرار دے دیاتھا جو ان کے پیشرو، صدر بارک اوباما نے 2015ء میں اپنے یورپی حلیفوں کے ساتھ مل کے ایران کے ساتھ کیا تھا اور جس کے تحت ایران صرف غیر عسکری افعال کیلئے اپنے جوہری پروگرام پہ عمل کرنے کا پابند تھا۔داداگیر نے صرف وہ معاہدہ ہی معطل نہیں کیا بلکہ ایران پر وہ اقتصادی پابندیاںبھی عائد کردیں جن کے نتیجہ میں ایران کی معاشی مشکلات اس حد تک بڑھیں کہ اب ایرانی ریال کی امریکی ڈالر کے مقابلہ میں کوئی قدر، کوئی حیثیت نہیں رہی اور مہنگائی میں وہ غیر معمولی اضافہ پیدا ہوا جو ایرانی عوام کے احتجاج کی اساس بنا ہے!ایران میں عوام کی بیچینی اور احتجاج صرف اور صرف معاشی بحران اور روز مرہ کی زندگی میں اضافہ ہے لیکن داداگیر اس پھٹے میں ٹانگ یوں اڑا رہا ہے کہ اس بہانے اسے ایران کی قیادت کے خلاف شرپسندی کا موقع مل رہا ہے!اس شہنشاہ ایران کا بیٹا، جو امریکہ سے باہر کی دنیا میں سماراج کا سب سے بڑا چوکیدار اور نقیب تھا، اس مذموم کارروائی میں پیش پیش ہے کیونکہ اس کا خیال یہ ہے کہ اس کے ذریعہ اسے پھر سے ایران پر مسلط کردیا جائے گا تاکہ اپنے رسوائے زمانہ باپ کی ملت فروشی کو ایک نئی زندگی دے سکے۔
شاہ کا یہ سامراجی غلام اور پروردہ صیہونیت کا بھی بندہء بے دام ہے اور ابھی دو برس پہلے اس نے اسرائیل کا دورہ کیا تھا جہاں اس نے صیہونیت سے اپنی وفاداری اور غلامی کا بیڑا اٹھایا تھا۔تو داداگیر اپنی غنڈہ گردی کے کام میں ہر وہ ہر حربہ اور مہرہ استعمال کرناچاہتا ہے جس سے اس کی ہوسِ ملک گیری بلکہ عالم گیری کو تقویت مل سکے!دنیا کا امن چین برباد ہو اس سے داداگیر کو کوئی غرض نہیں۔ وہ صرف اور صرف اپنی ہوس کا غلام ہے اور اسکے لئے وہ ہر وہ کام کرسکتا ہے جس کی کسی شریف انسان سے توقع نہیں کی جاسکتی۔ وہ تو اپنے ہی ملک میں ہر اس بڑے شہر میں اپنے کرائے کے عسکری بھیج رہا ہے جہاں اس کے حریف ڈیموکریٹس کی حکومت ہے۔ مثال کے طور پر مینیسوٹا ریاست کا شہر مینیاپولس جہاں ایک بیگناہ خاتوں کی ان کرائے کے عسکریوں کے ہاتھوں بیدردی سے ہلاکت کے خلاف پورا شہر سراپا احتجاج بنا ہوا ہے لیکن داداگیر کا اصرار ہے کہ اس کے غلاموں کی زیادتی بالکل جائز تھی اور شہری ۔ بقول اس کے ، شرپسند ہیں!خربوزہ کو دیکھ کر دوسرے خربوزے رنگ پکڑتے ہیں یہ قول تو آپ نے سنا ہی ہوگا۔تو فی زمانہ اگر عالمی داداگیر یا عالمی غنڈہ کا کوئی سب سے بڑا پیروکار، مقلد یا جانشین ہے تو وہ ہمارے وطنِ مرحوم پر قابض یزیدی ٹولہ ہے جس نے پاکستان کو اپنی ہوسِ اقتدار کا غلام بنایا ہوا ہے۔سامراجی داداگیر کے متعلق تو وثوق سے کہا جاسکتا ہے کہ جب اس کے چار سال پورےہوجائینگے تو وہ مسند سے اتر جائے گا اسلئے کہ اسکی انانیت اپنی جگہ لیکن امریکہ کا جمہوری نظام اس کی چیرہ دستیوں کے باوجود سلامت ہے لیکن پاکستان پر جو داداگیر یزیدی ٹولہ مسلط اور قابض ہے اس کی کوئی مدت نہیں ہے، اس کی کوئی اس تاریخ تک اس کی حیات ہے کا لیبل نہیں ہے۔یزید عاصم منیر اپنی دانست میں اگلے کم از کم دس برس کا انتظام کرچکا ہے اور پاکستان پر اس کی فسطائیت ایسی ہے کہ جو اس کے خلاف بولتا ہے اٹھا لیا جاتا ہے۔ یہ نام نہاد حافظِ قرآن قرآنی احکامات کا خود کو بالکل پابند نہیں سمجھتا اور قرآنی آیات بھی وہ دہراتا اور نقل کرتا ہے جس سے اس کے مفتوح دیس کے مکینوں کو یہ یقین آجائے کہ وہ ، اس کے بقول، اولی الامر ہے اور ہر پاکستانی پر لازم ہے کہ اس کی اطاعت کرے اور اس کے خلاف لب نہ ہلائے !
یہ وہ چھٹ بھیا ہے جسے یقین ہے کہ وہ ہمیشہ رہےگا، اسے موت نہیں آئے گی اسی لئے تواس نےاپنے لئے تاحیات استثنیٰ لے لیا ہے کہ کوئی عدالت اس کا محاسبہ نہ کرسکے اور اس خود ساختہ فیلڈ مارشل کو کامل یقین ہے کہ اگر، بفرض، محال اسے موت آئی، تو اسے منصفِ ازل کی عدالت کے سامنے نہ طلب کیا جائے گا نہ اس سے کوئی حساب لینے والا ہوگا!تو پاکستانی بھی اسی طرح ورطہء حیرت میں ہیں کہ ان کے کونسے گناہ تھے جو یہ دادگیر بلکہ غنڈوں کا ٹولہ ان کی زندگی کو عذاب بنادینے کیلئے ان پر مسلط ہوگیا ہے اور ان کے سینے پر مونگ دل رہا ہے ؟ اور دنیا کے دوسرے باشعور اور صاحبانِ فہم و ادراک بھی حیران و پریشان ہیں کہ ان پر کون ابلیسی چیلا سوار ہوگیا ہے اور دنیا کو چین کا سانس نہیں لینے دے رہا!
یہ چار مصرعے اسی ذہنی اور اعصابی پس منظر کی نشاندہی کرتے ہیں:
آوازِ خلق کو جو دبانا چاہیں
جو دین کے بدلے میں یہ دنیا چاہیں
وہ اہلِ ہوس کوئی بھی چولا پہنیں
مظلوم نقاب ان کے الٹنا چاہیں !



