رجیم چینج نہ ہوئی !

تین جنوری کی رات امریکہ کے ایلیٹ آرمی یونٹ کی ڈیلٹا فورس نے کراکس کے صدارتی محل سے صدرمادورو اور انکی اہلیہ Cilia Flores کو گرفتار کر کے بروکلین کی جیل میں قید کر دیا۔ اس نوعیت کے حملے کے فوراً بعد حکومت کو معزول کر کے وزرا ءکو یا تو دستبردار یا گرفتار کر لیا جاتا ہے۔ بیس مارچ 2003 کو عراق پر حملے کے بعد صدام حسین کی حکومت ختم کر دی گئی تھی۔ اسی سال مئی میں صدر جارج ڈبلیو بش نے بغداد میں Coalition Provisional Authority قائم کر کے امور مملکت اسے سونپ دیئے تھے۔ Paul Bremer کی سربراہی میں چلنے والے اس بندوبست نے جون 2004 میں اختیارات ایک سول عبوری حکومت کو منتقل کر دیئے تھے۔ امریکی وائسرائے کی سربراہی میں چلنے والی حکومت اسقدر ناکام اور نااہل ثابت ہوئی تھی کہ دیر تک اسکی رسوائی کے چرچے امریکی میڈیا میں ہوتے رہے تھے۔ شاید اسی ناکامی سے سبق سیکھتے ہوئے اس مرتبہ وینزویلا میں کسی امریکی وائسرائے کو تعینات نہیں کیا گیابلکہ مادورو حکومت کو برقرار رکھا گیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے نائب صدر Delcy Rodriguez کو امور مملکت سونپ دیئے ہیں۔ ڈیلسی روڈریگز چند روز تک نت نئے اور متضاد بیانات دیتی رہیں۔عبوری حکومت کے سربراہ کے طور پر انہوں نے پہلے بیان میں کہا کہ وینزویلا ایک آزادملک ہے اور اسکی خود مختاری کا ہر صورت میں دفاع کیا جائے گا۔ اسکے جواب میں صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ اگر انکے احکامات پر عمل نہ کیا گیا تو نئی صدر کا انجام نکولس مادورو سے بھی زیادہ بھی بُرا ہو گا۔ اسکے بعد سے آج تک کراکاس کی نئی حکومت نے کوئی اختلافی بیان نہیں دیا۔ چند روز پہلے صدر ٹرمپ نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا ہے کہ وینزویلا تیس سے پچاس ملین بیرل تیل امریکہ کے حوالے کرئے گا۔ اس تیل کی فروخت سے ملنے والی آمدنی کو امریکہ اور وینزویلا کے عوام کی بہتری کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ بدھ سات جنوری کے ایک بیان میں صدر ٹرمپ نے وینزویلا کی نئی حکومت کے بارے میں کہا They are treating us with great respect. We are getting along very well with this administration” اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مائنس ون کے فارمولے پر عمل کرتے ہوے سابقہ صدر کی کابینہ سے معاملات طے کر لئے گئے ہیں۔
یہ حکمت عملی امریکہ کی پرانی رجیم چینج کی پالیسی سے نہایت مختلف ہے۔ تین جنوری کے حملے سے پہلے امریکی وزارت خارجہ کا مئوقف یہ تھا کہ نکولس مادورو نے 2024کے انتخابات دھاندلی کر کے جیتے تھے۔ اس الیکشن میں جیت اپوزیشن کے صدارتی امیدوار Edmundo Gonzalez کی ہوئی تھی جو مقبول رہنما Maria Corina Machado کے نااہل قرار دیئے جانے کی وجہ سے انتخابی میدان میں اترے تھے۔ اب چاہیئے تو یہ تھا کہ گذشتہ برس کے انتخابات کے اصل فاتح کو صدارت سونپ دی جاتی لیکن صدر ٹرمپ نے دھاندلی سے جیتنے والی جماعت کی حکومت کو برقرار رکھ کے اپنی خارجہ پالیسی پر خط تنسیخ پھیر دیاہے ۔ میرینا کورینا مچاڈو کو 2025 میں امن کا نوبل انعام بھی ملا تھا۔ صدر ٹرمپ کیونکہ کئی مرتبہ یہ انعام لینے کی خواہش کا اظہار کر چکے ہیں اس لیے کہا جا رہا ہے کہ صدر ٹرمپ کورینا مچاڈو کو نا پسند کرتے ہیں اس لیے انہیں حکومت نہیں سونپی گئی۔ صدر ٹرمپ نے اس الزام کی تردید کرتے ہوے کہا کہ انکی رائے میں کورینا مچاڈو حکومت چلانے کی اہلیت نہیں رکھتیں۔
کورینا مچاڈو دائیں بازو کی قدامت پسند سیاستدان ہیں جو فری مارکٹ اکانومی پر یقین رکھتی ہیں۔ اسکے برعکس موجودہ صدر ڈیلسی روڈریگز بائیں بازو کی سوشلسٹ سیاست سے وابستہ رہی ہیں۔ یہاں اہم سوال یہ ہے کہ صدر ٹرمپ نے وینزویلا میں اپنے نظریات سے اختلاف رکھنے والی جماعت کو اقتدار کیوں سونپا۔ ٹرمپ انتظامیہ نے یہ حساب کتاب کیا ہے کہ اگر وینزویلا میں عراق اور لیبیا کی طرح رجیم چینج کر دی گئی تونکولس مادورو کی جماعت ایک ایسی تحریک شروع کر دے گی جسے سنبھالنا نئی حکومت کے بس کی بات نہ ہو گی۔ رجیم چینج میں دوسری رکاوٹ یہ تھی کہ لاطینی امریکہ کے کئی ممالک جن میں برازیل‘ بولیویا‘ کولمبیا‘ میکسیکو‘ اور ایکواڈور شامل ہیںمیں اس وقت سوشلسٹ حکومتیں قائم ہیں۔ یہ ممالک وینزویلا کی نئی حکومت کی اس لیے مخالفت نہ کریں گی کہ اسکا تعلق بائیں بازو سے ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے لاطینی امریکہ کے نقشے کو دیکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا کہ وینزویلا میں رجیم چینج پورے خطے کو عدم استحکام سے دو چار کر دے گی لیکن پرانی رجیم کو برقرار رکھنے کا یہ نیا راستہ بھی مشکلات سے اٹا ہوا ہے۔ اب اگر کورینا مچاڈو نے اپنا حق لینے کے لیے احتجاجی تحریک شروع کر د یتی ہیں تو اس پر کیسے قابو پایا جائے گا۔ اس تحریک کے امکانات فی الحال اس لیے نظر نہیں آ رہے کہ کورینا مچاڈو جمعرات کے دن وائٹ ہائو س میں صدر ٹرمپ سے ملاقات کر رہی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق انہیں نئی حکومت میں کوئی اہم عہدہ ملنے کا امکان ہے۔ وہ اس پیشکش کو قبول کرتی ہیں یا نہیں ہر دو صورتوں میں امریکہ اور وینزویلا دونوں کو ایک غیر یقینی صورتحال کا سامنا کرنا پڑیگا۔
وینزویلا کئی برسوں کی امریکی پابندیوں اور کرپشن کے بعد معاشی طور پر کھوکھلا ہو چکا ہے۔ یہ ملک تیل کی دولت سے مالا مال تو ہے مگر اس Crude Oil یا بھاری تیل کو قابل استعمال بنانے کے لیے جس انفرا سٹرکچر کی ضرورت ہے وہ پرانا اور منہدم ہو چکا ہے۔ اسوقت کوئی امریکی آئل کمپنی اس صنعت میں سرمایہ کاری کے لیے تیار نہیں کیونکہ وینزویلا سخت سیاسی عدم استحکام سے دو چار ہے۔ نکولس مادورو کے حامی اسکی رہائی کے لیے تحریک چلا رہے ہیں اور اس ملک میں مسلح عسکری گروہوں کی بھی کمی نہیں۔ ان حالات میں رجیم چینج نہ ہونے کے باوجود مشکلات موجود ہیں اور مبصرین کی اس رائے سے اتفاق کرنا پڑتا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے دوسرے ممالک پر حملوں اور قبضوں کی تاریخ سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔



