ہفتہ وار کالمز

کیا صدر ٹرمپ کی دوستی ایک پھندا ہے؟

پاکستانیو، ہوش کے ناخن لو۔ امریکہ کی خوشنودی کے لیے اپنے وطن کا بیڑہ غرق نہ کرو۔ کیونکہ امریکہ کا موجودہ صدر بھی خود مختار نہیں۔ اسے بلیک میل کیا جا رہا ہے۔ اس لیے وہ تسمانیہ کے شیطان کے ہاتھوں کھلونا بنا ہوا ہے۔ وہ جو بھی حکم پاکستان کی فوج کو دیتا ہے وہ اس کا اپنا فیصلہ نہیں ہوتا۔ اس کو جو اوپر سے کہا جاتا ہے وہی پاکستان سے کروانا چاہتا ہے۔اور ازرائیل کیا چاہتا ہے؟ اسرائیل پاکستا ن کا ازلی دشمن ہے۔خصوصاً ان کا موجودہ وزیر اعظم۔ آج سے14سال پہلے ایک ٹی وی کی صحافی کو اس نے کیا بتایا تھا، وہ ہی اسکے ارادوں اور رویہ کو ظاہر کر دینے کے لیے کافی ہے۔ ملاحظہ ہو:
16جون 2011 کو ایک انٹرویو میں نیتین یاہو،اسرائیل کے وزیر اعظم سے پوچھا گیا کہ ایسا کونسا مسئلہ ہے جو آنے والی نسل کو پیش آئے گا اور اس کے لیے کیا کرنا چاہیئے؟ ۔وزیر اعظم نے کہا، ’’کہ ہمارا اولین اورعظیم ترین مقصد ہے کہ اس بات کا سد باب کریں کہ کسی انتہا پسند اسلامی حکومت کے قبضہ میں ایٹمی ہتھیار آئیں۔پہلا ملک ایران ہے اور دوسرا پاکستان۔کیونکہ ان انتہا پسند حکومتوں کے پاس اگر ایٹمی ہتھیار آ گئے تو یہ ان اصولوںپر عمل نہیں کریں گی جن پر گذشتہ سات دہائیوں سے عمل ہو رہا ہے۔‘‘ یہ انٹرویو یو ٹیوب پر موجود ہے اور کبھی بھی دیکھا جاسکتا ہے۔
اگر آپ اس بات کو سمجھ لیں تو آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ امریکہ کس کے کہنے پر پاکستان کی مدد کرتا ہے یا اس کے خلاف فیصلہ کرتا ہے۔ امریکہ کی حکومتیں پاکستان میں اس قدر دلچسپی کیوں لیتی ہیں اور اس کے حکمرانوں کے چنائو میں کیوں دخل دیتی ہیں؟ پاکستان میں جو اتنی دفعہ ملٹری ڈکٹیٹروں نے مارشل لاء لگائے اس کے پیچھے ہمیشہ امریکہ کا ہاتھ تھا۔اسر ائیل کو پاکستان سے اس لیے بغض ہے کہ پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے اور طاقتور ہے۔ اس کے پاس ایسے ہتھیار ہیں جو وہ دور سے بھی پھینک سکتے ہیں۔ اسرائیل بیشک ایٹمی اور دوسرے خطرناک ہتھیاروں سے لیس ہے لیکن وہ ایک ایٹمی دھماکہ بھی نہیں سہہ سکتا۔یہی وجہ ہے کہ وہ ایران اور پاکستان دونوں کا جانی دشمن ہے۔وہ پاکستان کے خلاف بھارت سے قریبی تعلقات رکھتا ہے، اور اسکو مشاورت بھی دیتا ہے۔دونوں کا ایک ہی مقصد ہے کہ پاکستان کو اس کے ایٹمی ہتھیاروں سے چھٹکارا دلوایا جائے۔ابھی جو پاکستان اور بھارت کی چار روزہ جنگ ہوئی ، اس کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ پاکستان کے جوہری اثاثوں کا سراغ لگایا جائے، جس کے لیے اسرائیلی ڈرون بھیجے گئے۔
ہمیں امیدہے کہ اس نقطہ پر ہمار ے فوجی قائدین بھی آگاہ ہیں، اور وہ اپنی طرف سے پوری تیاری رکھتے ہیں۔ یہ کہنا کہ وہ ہمارے ایٹمی اثاثے بیچ کر کھیل بتاشے کھا لیں گے، غلط تاثر ہے۔کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ ایٹمی اثاثوںکے بغیر ان کی فوج ایک ہفتہ کی مار ہے۔ زیادہ سے زیادہ دو ہفتہ۔اس لیے وہ ان اثاثوں کی حفاظت جان سے زیادہ کرتے ہیں۔جہاں تک صدر ٹرمپ اور ان سے پہلے کے صدور کا تعلق ہے، وہ بھی تین دہائیوں سے اسرائیل کے حکم پر چلتے رہے ہیں۔کم از کم جہاں تک مشرق وسطیٰ میں امریکی حکمت عملی کا تعلق ہے۔آپ کو یاد ہو گا کہ باوجود کوئی ثبوت نہ ہونے کہ کہ صدام حسین کے پاس ایسے ہتھیار ہیں جو بڑی آبادی کا صفایا کر دیں گے، امریکہ بہادر نے عراق پر حملہ کیا اور اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ در حقیقت اسرائیل کو عراق سے خطرات تھے کہ صدام حسین مسلم لیڈر تھا اور اگر وہ اسرائیل پر فوجیں لیکر چڑھائی کر دیتا اور اس کے ساتھ دوسرے عرب ممالک جیسے مصر بھی شامل ہو جاتے تو اسرائیل باوجود اپنے ایٹمی ہتھیاروں کے پسپا ہو جاتا۔ اس لیے اسے اپنی بقا کے لیے ،صدام حسین کو حکومت سے فارغ کرنا ضروری تھا۔ اس کے لیے انہوں نے امریکہ پر زور ڈالا کہ وہ عراق پر حملہ کرے۔اور جارج بش کو کرنا پڑا۔امریکہ نے اس حملہ کے لیے، اقوام متحدہ کی منظوری بھی نہیں لی۔جب امریکہ نے عراق پر ْقبضہ کر لیا، تو لوٹ ما رکی گئی، قومی اثاثے نجی قبضہ میں دے دیئے، امریکی کمپنیوں کو بڑے بڑے ٹھیکے دئیے گئے، عراقی سرمایہ کا بیرون ملک اخراج ہوا۔ریاستی ڈھانچے کو مسمار کیا گیا۔فرقہ وارانہ تشدد، اور داعش بنایا گیا۔ملک کو تباہ حال کر کے چھوڑ دیا گیا۔ تقریباً کچھ ایسا ہی افغانستان کے ساتھ ہوا۔امریکی سپاہیوں نے شاہی محلات کے نوادرات لوٹے۔ لیکن آخر کار امریکہ کو شکست ہوئی اور اس کو وہاں سے بھاگنا پڑا۔
در اصل یہ تسمانین شیطان ، عظیم تر اسرائیل کے ایک پرانے منصوبے پرعمل کر رہا ہے۔اور اس نے امریکی صدور کو پانچ اسلامی ملکوں پر حملہ کر کے ان کی حکومتیں بدلوانے کا منصوبہ دیا۔یہ پانچ ملک ہیں: عراق، لیبیا، شام، صومالیہ اور ایران۔ آپ نے غور کیا کہ ایران کے علاوہ امریکہ نے تقریباً سارے ملکوں میں حکومتیں بدلوا دیں، اور وہ ملک اب انارکی کا شکار ہیں۔امریکہ نے جہاں بھی جنگ لڑی، قبضہ کیا، وہاں کے ذخائر پر قبضہ کیا، لوٹ مار کی، اور بغیر کسی مستحکم حکومتی نظام قائم کرنے کے، ملک کو درندوں کے حوالے کر کے چھوڑ دیا۔
عقل والوں کے لیے ان مثالوں میں بہت سے سبق ہیں۔
بظاہر امریکہ نے ،ایشیا ءمیں، سوائے ویت نام کے،جتنی ریاستوں پر جارحانے حملے کیے وہ اسلامک تھے، اور مشرق وسطی کے تھے۔ ان سے یہ نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ امریکی صدور جان کر مسلمانوں کو نشانہ بناتے تھے، لیکن یہ کہنا زیادہ صحیح ہو گا کہ انہیں جو ہدایات اسرائیل سے ملتی تھیں وہ تھیں ہی ایسی۔یہ ممالک عظیم تر اسرائیل کے منصوبے میں شامل تھے۔افغانستان البتہ کسی اور وجہ سے نشانہ بنا۔
ہم نے مصنوعی ذہانت کے ذرائع سے پوچھا تو اس کا لب لباب یہ تھا کہ امریکہ حکمت عملی اور خارجہ پالیسی میں کچھ نمایاںرحجان نظر آتے ہیں، جیسے:
۔ سلامتی یا انسانی ہمدردی کے نام پر مداخلت
۔ حکومت کی تبدیلی یا ریاستی کمزوری
۔ قلیل مدتی سٹریٹجک فوائد
۔ پائیدار سیاسی نظام قائم کرنے میں نا کامی
۔ انخلاء یا عدم توجہی
۔ طویل المدت انتشار جس کا بوجھ مقامی معاشروں پر پڑتا ہے۔
امریکہ کی حکمت عملی اگر مسلمانوں کے خلاف تھے تو اس کی حدود مشرق وسطی تک تھیں۔ اور وہاں اس کے محرکات بیرونی تھے۔ لیکن امریکہ نے جو لاطینی امریکہ میں کیا ، وہاں محرکا ت کچھ اور تھے،جیسے کہ تیل کے ذخائر، معدنیات، یا پلانٹیشنز، یا کیمونزم کا خطر ہ ،وغیرہ
اب ایک دفعہ پھر، امریکہ بہادر پاکستان کو پھنسانے لگا ہے، غزہ میں۔کیوں؟ یہ در اصل اسرائیل کی خواہش ہے کہ پاکستانی فوجی غزہ میں آئیں اور حماس سے ان کے ہتھیار لیں۔یہ کتنی حیرانی کی بات ہے؟ لیکن خیر اتنی حیرانی کی بھی نہیں۔ اگر اس طرح اسرائیل کچھ پاکستانی فوجیوں کو حماس سے بھڑوا کر، مروا دیتا ہے تو اس کو پتہ چل جائے گا کہ پاکستانی فوجی کتنے بہاد ہیں، کتنے تربیت یافتہ ہیں، اور ان کی لڑنے کی صلاحیت کیا ہے؟ کل کلاں کو جب اسرائیلی فوجیوں کو ان سے لڑنا پڑا تو وہ کن چیزوں کا خیال رکھیں گے؟
ابھی کی بات ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتین یاہو واشنگٹن ڈی سی تشریف لائے اور صدر ٹرمپ کے ساتھ ملاقات کی۔ اس ملاقات کے بعد صدر ٹرمپ نے کہا ’’اگر حماس نے ہتھیار نہیں پھینکے، تو ان کے لیے بہت برا ہو گا۔ جن ممالک نے اپنی فوجیں بھیجنے کا ارادہ کیا ہے، وہ حماس کو صفحہ ہستی سے مٹا دیں گے۔ اسرائیل کو کچھ کرنے کی ضرورت نہیں۔یہ ممالک سب کچھ کر دیں گے۔‘‘
ُاور نیتین یاہو نے کہا کہ ہمیں اسقدر سپورٹ کبھی کسی صدر سے پہلے نہیں ملی تھی۔اس بیان کو پڑھنے کے بعد بھی اگر پاکستان غزہ میں اپنے فوجی بھیجے گا تو غلطی کرے گا۔ پاکستان کو چاہیے کہ صدر ٹرمپ سے معذرت کر لے اور کہے کہ پاکستانی مذہب کی وجہ سے فلسطینیوں کے ساتھ لڑنا نہیں چاہتے، یا کوئی اور اچھی سی توجیہ۔
پاکستان کے وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل، حالیہ چند دنوں میں، امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملے، اور اتنی گرم جوشی کے ساتھ کہ جیسے گمشدہ بھائی مل گئے ہوں۔ ایسے موقع پر ٹرمپ نے ان سے جو بات منوانی تھی منوا لی، خواہ وہ پاکستان کے حق میں تھی یا خلاف۔اس وقت ٹرمپ کاسب سے بڑا مسئلہ اس کےاسرائیلی آقائوں کا تھا۔ وہ چاہتے ہیں کہ پاکستان اسرائیل کے ساتھ ابراہیم ایکارڈ پر دستخط کر دے جس کا مطلب ہے کہ پاکستان اسرائیل کو تسلیم کرے اور اس کے سفارت خانے پاکستان میںکھولنے کی اجازت دے دے۔دوسرا یہ کہ پاکستان اپنی فوج غزہ میں بھیجے جو حماس سے اس کے ہتھیار لے لے۔
ذرا غور کریں، کہ جہاں پناہ ٹرمپ صاحب بہادر کے مسلمانوں کے بارے میں کیا خیالات ہیں؟
پہلے سوشل میڈیا پر کسی کا کمنٹ پڑھیں:’’ٹرمپ ، انتہا پسند عیسائی گروپ، ایونجیلیکل عیسائیوں کے مشیروں سے ہدایات لیتا ہے۔اور ان سازشی قوم پرست عیسائیوں کے گروہ سے، (Heritage Project 25) یا جس کسی بھی لقب سے جانے جاتے ہیں، وہ ، کسی کی مصیبت پر ، چند سکوں کی خاطر، شیطان سے اپنی روح کا سودا کر لے گا۔اس لیے وہ غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی کر کے، ان کو نکال کر ،وہاں اپنی عیاشی کی کلبیں اور عمارتیں بنائے گا، جس کی منصوبہ بندی اس کا یہودی داماد ، اسرائیل کے ساتھ مل کرکر رہا ہے۔‘‘
راوی کا مقصد ہر گزامریکی صدر کو نا راض کرنا نہیں ہے۔کیونکہ ہمارے قرضے، آئی ایم ایف کے ساتھ تعلقات وغیرہ پر امریکہ کی مرضی چلتی ہے۔ویسے بھی ہمارے علاقائی معاملات میں، امریکہ بڑا کردار ادا کرتا ہے۔اور نہ ہی ہمیں اسرائیل سے پنگا لینے کی ضرورت ہے۔ اسرائیل کو سفارتی حیثیت میں قبول کرنا فی الحال سعودی عرب اور دوسرے اسلامی ممالک کے ساتھ جوڑ دیں۔ ابھی کوئی جلدی نہیں۔ہمارے فیلڈ مارشل بھی آخر کار پاکستان کا بھلا چاہتے ہیں۔ ان کو جن باتوں کا علم ہو گا ہمیں نہیں ہے۔لیکن بادی النظر میں ہمارا مشورہ بھی غور سے سننا چاہیے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button