تین عورتیں، تین کہانیاں، ہفتہ واری منگل نامہ!

ایک زمانے میں جنگ گروپ نے روزنامہ جنگ اخبار کے علاوہ، ایک ہفت روزہ ’’اخبار جہاں‘‘ شروع کیا تھا۔ اس ہفت روزہ میگزین میں ایک سلسلہ تھا جس کام ’’تین عورتیں، تین کہانیاں‘‘ تھا۔ اس میں عام زندگی سے تعلق رکھنے والی تین خواتین کے ساتھ ان کی اصل زندگی کی آپ بیتی شائع کی جاتی تھی، اس سیگمنٹ کی وجہ سے اخبار جہاں مقبولیت کی بلندیوں پر پہنچ گیا اور جس میگزین ’’اخبار خواتین‘‘ کو اس کے مقابلے پر لانچ کیا گیا تھا وہ پیچھے رہ گیا۔
آج کل پاکستان میں بھی اسی طرح سے ہر ہفتے منگل والے روز تین عورتیں، تین کہانیاں کی طرز پر ایک ایونٹ ہوتا ہے جس میں پاکستان کے سابق وزیراعظم اور تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی تین بہنیں، علیمہ خان، ڈاکٹر عظمیٰ خان اور نورین نیازی پر براہ راست گزرنے والی آپ بیتی پوری دنیا دیکھتی ہے، اخبار جہاں کی تین عورتوں کے برعکس ان تینوں خواتین پر پاکستان کی ریاست ستم ڈھاتی ہے۔ پاکستان آرمی کا ڈکٹیٹر جنرل حافظ سید عاصم منیر شاہ ہر ہفتے نت نئے طریقے سے ظلم ڈھاتا ہے۔ کبھی ان تینوں خواتین پر لاٹھی چارج کیا جاتا ہے، کبھی ان پر آنسو گیس پھینکی جاتی ہے، کبھی ان پر کیمیکل ملا ہوا زہریلا ٹھنڈا یخ پانی پریشر سے پھینکا جاتا ہے اور کبھی ان تینوں خواتین کو برفیلی رات میں دور ویرانے جنگل میں لے جا کر جانوروں کی خوراک بننے کیلئے پھینک دیا جاتا ہے۔ پچھلے دنوں بشریٰ بی بی کی ماہواری کا حافظ جی نے اپنے میڈیا کے ذریعے بڑا چرچا کرایا تھا مگر اب ہر ہفتے منگل واری کو سوشل میڈیا اس جنرل کی فسطائیت کا پردہ چاک کرتا ہے۔ اس ہفتے بھی حسب معمول اڈیالہ جیل کے باہر تینوں بہنیں اپنے بھائی سے ملاقات کرنے کیلئے بیٹھی رہیں عدالت کے جج کے پروانے کیساتھ مگر جیل میں بیٹھے ایک کرنل نے ایک دفعہ پھر عدالتی حکم نامے کو اپنے بوٹوں تلے روند ڈالا۔ اس ہفتے علیمہ خان جب اپنے خلاف ایک جھوٹے کیس کی سماعت کیلئے عدالت گئیں تو انہوں نے جج صاحب سے شکوہ کیا کہ عمران خان نے تو ججز اور عدالتوں کی آزادی کیلئے پرامن احتجاج کرنے کیلئے کہا تھا اور آپ ہمیں جیلوں میں ڈال رہے ہیں، علیمہ خان کے اس شکوے کے جواب میں جج صاحب نے کہا کہ آپ دعا کریں کہ ہم آزاد ہو جائیں، دیکھا جائے تو جج صاحب کی اس دعائیہ التماس نے جہاں عدلیہ کی نام نہاد آزادی کی پول کھول کر رکھ دی وہیں اس بات کی بھی تصدیق کر دی کہ جنرل عاصم منیر کی تمام تر سختیوں اور بلیک ملینگ کے باوجود خود حافظ جی کے لگائے ہوئے جج اندر سے اس ڈکٹیٹر جنرل کے کتنے مخالف اور عاجز ہیں۔
پچھلے سال 2025ء میں، ورلڈ جسٹس پروجیکٹ(WJP) کی ر ول آف لاء انڈیکس کی ریٹنگ کے مطابق دنیا کے 143ممالک کی جوڈیشری کی پرفارمنس کے مطابق پاکستانی عدلیہ کی نچلی ترین 133رینکنگ آتی ہے جو جنرل عاصم منیر کے منہ پر ایک طمانچے کے مترادف ہے جس کا کہنا ہے کہ ملک میں عدلیہ مکمل طور پر آزاد ہے۔
دوسری طرف جنرل عاصم منیر کو وہ تھپڑ بھی یاد رکھنا چاہیے جو خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کراچی کے لاکھوں شہریوں کے باہر سڑکوں پر نکالنے کی صورت میں لگایا ہے۔ ڈکٹیٹر اس خوش فہمی میں مبتلا تھا کہ عمران خان کو جیل میں ڈال کر، غلیظ ترین مقدمات دائر کر کے، ٹی وی، اخبارات اور ریڈیو پر عمران خان کے نام، تصویر، ویڈیو اور کسی بھی قسم کے امیج اور بیان پر پابندیاں لگا کر عمران خان کو پاکستانیوں کے دلوں سے اتار دے گا مگر منی پاکستان کراچی کے لاکھوں شہریوں نے عمران خان کے نمائندے سہیل آفریدی کو زبردست پذیرائی دے کر ایک مرتبہ پھر ثابت کر دیا کہ وہ آنکھ سے دور سہی، دل سے کہاں جائے گا؟



