دنیا میں بڑھتی کشیدگیاں

اختلاف ِ رائے میں اپنی رائے کو مقدم کر دینے سے امن نہیں نفرت و جنگ کے خطرات بڑھتے رہے ہیں آپ بھارتی مظالم کو مقبوضہ کشمیر کی وادیوں میں پھیلتا دیکھ سکتے ہیں آپ غزہ میں اسرائیلی بربریت کو کھلی آنکھوں سے سلگتا ،جلتا محسوس کر سکتے ہیں اگر بر وقت اقوام ِ متحدہ نے اس دنیا میں بڑھتی کشیدگیوں کو سنبھالا ہوتا تو آگ و خون میں جلتے انسان سکون سے اپنی مقررہ حدود میں زندگی گزار رہے ہوتے نہ جانے کیوں اقوام عالم کے بڑے بڑے ذہانت سے بھرے مفکرِ اعلیٰ ان کشیدگیوں کو ان رنجشوں کو باہمی اتفاق کا صحت افزا پیغام کیوں نہیں پہنچایا انھیں امن کے رستے پر گامزن کرنے میں انھیں کیوں ناکامی ہوئی اگر کسی کی غلطی یا ہٹ ڈھرمی سامنے لاتے تو آج تاریخ انھیں بڑے ادب سے اپنے ابواب میں بہتر مقام دیتی ۔محسوس ہوتا کہ اقوام ِ متحدہ کے پلیٹ فارم سے انصاف کی ،انسانی احترام کی توقع کی جا سکتی ہے ہر ذی شعور ،ہر دانشوراس بات پر متفق ہے کہ بڑی طاقتوں کے حصار میں گھری اس اقوام عالم سے کمزرو،مسلم ممالک کے حقوق کا تحفظ کرانے میں ناکام رہی ہے کشمیر و فلسطین کی خون سے بھری مثالیں ہمارے سامنے ہیںاب تو وینزویلا پر امریکی یلغاربھی اس ظلم و ستم کا ایک حصہ ہے تیل سے مالا مال یہ ملک اس وقت شدید معاشی اور سیاسی بحران کا شکار ہے اصولی طور پر اس کی امداد دیگر ممالک پر انسانی حقوق کے حوالے سے ثابت ہوتی ہے لیکن یہ سلوک تو جانوروں سے بھی بد تر ہے کہ کمزور اور بد حال ملک پر طاقت کے بم گرا ئے جائیں یہ بتاتا چلوں کہ وینزویلا جنوبی امریکہ کا چھٹا سب سے بڑا ملک ہے اور رقبے کے اعتبار سے دنیا میں اس کا نمبر 32واں ہے ملک کا کل رقبہ تقریبا 916,445مربع کلو میٹر ہے جو حجم کے لحاظ سے نائیجیریا اور پاکستان کے قریب جب کہ امریکی ریاست ٹیکساس سے ڈیڑھ گنا زیادہ ہے ملک میں مہنگائی بے لگام گھوڑے کی مانند قابو سے باہر ہے فی کس آمدنی زوال پذیری کی شکار ہو چکی ہے مختلف ممالک کی جانب سے لگائی گئی معاشی پابندیوں نے بحران کو مزید گہرا کر دیا ہے غریبی کے اس بحران میں ایک بڑی طاقت کا فضائی حملہ کسی اخلاقی ،انسانی رواداری کا عکاس نہیں البتہ دل اس احساس ندامت سے نا آشنا نہیں رہتا کہ عصر ِ حاضر میں کوئی ہٹلر کا معتقد اُس کی پالیسیوں کی پیروی کرتا غم و رنجیدگی کے اُن عملیات کر نمایا ں کر رہا ہے بڑی طاقتوں کی ان حرکات کی عمل پذیری سے خدشات یہ کہتے ہوئے جنم لے رہے ہیں کہ دنیا کو تیسری عالمی جنگ میں دھکیلنے کا عمل شروع ہونے والا ہے اللہ نہ کرے کہ دنیا تباہی کے دہانے پر وقت سے پہلے پہنچے اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ وہ واحد جنگ ہو گی جس کے مقاصد کمزور ملکوں سے اُن کے وسائل چھین کر انھیں زیر نگیں کرنا ہو گا جیسا کہ میکسیکو ،کولمبیا کو بھی دہمکی آمیز پیغامات دینے کا سلسلہ جاری ہے یاد پڑتا ہے کہ دو عالمی جنگوں کے ہولناک نتائج کے بعد اقوام ِ عالم اس پر متفق ہوئی تھی کہ اپنے اختلافات اور تنازعات کا تصفیہ زور ِ بازو کی بجائے بات چیت کے ذریعے طے کر کے دنیا میں دوام ِ امن میں اپنا کردار ادا کریں گے اس حوالے سے ممتاز کالم نگار ثروت جمال اصمعی کہتے ہیں کہ امریکہ نے 80سال قبل سان فرانسسکو میں 50 ملکوں کے نمائندوں کو مدعو کیا جنھوں نے دو ماہ کے غورو غوض کے بعد عالمی امن کی خاطر ایک بین الاقوامی ادارے کی تشکیل کی اُس وقت کے امریکی صدر فرینکلن ڈی روز ویلٹ نے اس ادارے کانام یونائیٹڈ آرگنائزیشن تجویز کیا اس ادارے کا منشور جو دنیا کے سامنے لایا گیا اُس کے اہم نکات ایک اعلان کی صورت میں یہ تھے کہ ہم اراکین ِ اقوام متحدہ نے یہ طے کیا ہے کہ آنے والی نسلوں کو جنگ سے بچائیں گے ۔انسانوں کے بنیادی حقوق کی بحالی کو یقینی بنائیں گے اور انسانی اقدار کی عزت اور قدر و منزلت کریں گے مرد و زن اور چھوٹی بڑی قوموں کے حقوق برابر ہوں گے ۔ایسے حالات پیدا کریں گے کہ معاہدوں اور بین الاقوامی قانون کی عائد کردہ ذمہ داریوں کو نبھایا جا سکے ۔آزادیء کی اس وسیع فضا میں اجتماعی ترقی کی رفتار بڑھے اور زندگی کا معیار بلند ہو اس کے باوجود جب کہ قیام امن کی کاوشوں میں امریکہ سر فہرست رہا ہو اُس کی مثبت کاوشوں سے کئی تنازعات حل ہوئے ہوں وہ ملک کیوں اور کیسے عالمی امن کے خلاف ہو سکتا ہے ؟ مگر نہ جانے کیوں ٹرمپ حکومت ان ساری اخلاقی سماجی قدروں کو اور اقوام عالم کے بنے قوانین کو سبوتاژ کرتی ہوئی ہر کمزور پر زور آزمائی کرنے پر تلی ہوئی ہے اب ایران اپنے اندرونی معاشی مسائل کی ابتری کی وجہ سے عوامی احتجاج سے نبرد آزما ہے تو اُس کی مدد کرنے کی بجائے اُس کی پامالی میں شریک ہونا کہاں کا انصاف یا انسانیت ہے ٹرمپ کو اگر امن قائم کرنے کی کاوشوں کا صلہ نوبیل انعام کی صورت نہیں دیا گیا تو اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ وہ دنیا کو جنگ و جدل کی آگ میں جھونک دے ۔امریکہ جس نے عالمی امن کے لئے سنہری کاوشیں کیں ہیں اُسے عصر حاضر میں بھی دنیا میں بڑھتی کشیدگیوں کو روکنا فرض بنتا ہے نا کہ خود ان کا حصہ بن جائے۔



