جذبہ و جنون

ارادے صرف کرنے سے کبھی پورے نہیں ہوتے اُس کے لئے جنون کی ضرورت بنیادی طور پر ہونی چاہئے جیسے کوئی بندہ سائنس دان بننے کا ارادہ کر لے تو اُسے اُس وقت تک کامیابی نصیب نہیں ہو سکتی جب تک وہ اپنی پڑھائی پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے جنونی طور پر مستند معلومات کو حاصل کرنا ممکن نہ بنائے جذبہ و جون دونوں کا یکجا ہونا ہی منزل مقصود کو آسان کرتا ہے صرف باتوں کی جگالی کرنا یا خوابوں میں مگن ہو کر سوچتے رہنا عمل سے محروم رکھتا ہے اور عملی قدم اُٹھانے کا موقع نہیں دیتا نیک جذبات لئے کئی با برکت ہستیاں ہدایت کی مشعل لئے خلق ِ خدا کو دین الہٰی کی صراط المستقیم پر رواں رکھنے کے لئے آئیں اور توحید ِ حق کے فرمان سے جاہلیت میں ڈوبی اشکال کو آگاہ کر کے اسلامی تعلیمات سے منور کیا اس جذبہ ٔ جنون کی بدولت دین ِ اسلام کا پھیلائو تیزی سے بڑھا اور آج بھی تبلیغ ِ اسلام سے وابستہ لوگ اپنے گھر بار،بال بچے چھوڑ کر اللہ کے پیغام کی دستک ہر گلی ہر دروازے پر دیتے ہیں تا کہ لوگ دین ِ اسلام سے آگاہی حاصل ہونے کے بعد تسبیح کے دانوں کی طرح یکجہتی سے زندگی گزاریں کسی تفرقے یا کسی غیر ضروری فرقے کے تابع ہو کر اپنی دنیا و آخرت کو برباد نہ کریں اللہ تبارک و تعالی نے اپنا دین نبی کریم حضرت محمد مصطفی ﷺکی حیات ِ مبارکہ میں ہی مکمل کر دیا تھا جو ہر زمانے کے لئے ہے لہٰذا اس دین کے اندر کسی بھی قسم کی ترمیم کی کوئی گنجائش ہے ہی نہیں اور نہ ہو سکتی عصر حاضر میں ہر مسلمان بھارت و اسرائیل کی متعصب جنگی کاروائیوں سے خوف زدہ ہونے کے بجائے جذبہ و جنون سے ان کو مٹانے کا عزم لئے برسر ِ پیکار ہے کیونکہ دونوں ممالک اپنی اخلاقی حدود سے تجاوز کرتے ہوئے سنگین جنگی جرائم کے اور انسانی حقوق کی پامالی کے مرتکب ہوئے ہیں بھارت کشمیر میں مسلمانوں کو جینے نہیں دے رہا تو اسرائیل آٹے کی ایک تھیلی اٹھائے مسلمان فلسطینی بچے کوڈرون سے حملہ کر کے اُسے شہید کر رہا ہے جو ظلم و جبر کی انتہا ہے مگر ظالموں کا بہایا یہ خون کسی کی پناہ نہیں مانگتا یہ دین ِ اسلام کے لئے پورے جذبہ و جنون سے کفار کے مدمقابل رہتا ہے پاکستان نے بھی بھارت کے سیندور کو خاک میں ملا کر اُسے سوچنے پہ مجبور کر دیا ہے کہ ظلم و بربریت برداشت کرنا کسی مسلمان کی شان نہیں مملکت ایران ان ہی جذبات سے لبریز ہو کر میدان ِ عمل میں ہے ایران کے اس جذبہ و جنون کے سامنے خاموش شکست تسلیم کرنے کے بعد وہ ممالک جو اسرائیل کی پشت پر مسلمانوں کی نسل کشی کے لئے سرگرم تھے آج وہی ایران کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھے اُسے بھاری مراعات دے رہے ہیں کہ وہ یورینیم کی افزودگی زیرو کر دے جس کا ہونا ممکن نہیں ایران کبھی بھی اپنی ایٹمی طاقت بننے کے خاتمے پر راضی نہیں ہو گا اسرائیل کی جنگی مہم جوئی کی ناکامیاں یہ تاثر دینے کے لئے کافی ہیں کہ وہ مسلمانوں کو اپنا غلام کرنے میں ناکام رہا ۔ایران و اسرائیل کی بارہ روزہ جنگ میں اسرائیل کو شدید مالی مشکلات سے دوچار ہونے کے ساتھ ساتھ 500ملین ڈالر کے دفاعی نظام کی تباہی دیکھنا پڑی ،متعدد عمارتیں تباہ اور 9000ہزار لوگ بے گھر ہوئے بین گورئین ائرپورٹ بند معاشی سرگرمیاں سست اور سرمائے کا انخلاء بھی بڑھا جنگ سے دونوں ملکو ں میں ہلاکتیں و نقصان ہوا مگر ایران اپنے جذبۂ جنون کے ہاتھوں جنگ اس قدر بالغ نظری سے لڑا کہ بڑی بڑی طاقتوں کی سر پرستی کے باوجود اسرائیل اس کی یورنیم کی افزودگی روکنے میں بری طرح ناکام رہا ایران کی 60فی صد افزودہ یورنیم اور سینٹری فیوجز محفوظ رہیں ۔بتانا یہ ہے کہ سازشوں میں اور کسی نیک جذبے میں مقاصد کے حصول کے رنگ یکجا نہیں ہوتے ان کے مابین واضح فرق ہوتا ہے اب ظہران ممدانی کا ڈیموکریٹ کے ووٹوں پر نیویارک کا میئرکے امیدوار کے طوربڑے مارجن سے منتخب ہونا حیرت زدہ اس لئے کرتا ہے کہ نیویارک کے ایک بڑے کومو خاندان جو اسی سٹیٹ میں گورنر رہ چکے ہوں اس کے باوجود ظہران ممدانی ایک مسلمان اُمیدوار کی حیثیت سے ڈیمو کریٹس کے 43فی صد ووٹ لینا بہت بڑی کامیابی ہے جس میں اُن کی سماجی و اخلاقی ملنساری کا بڑا عمل دخل ہے وہ سٹیٹ کے محنت کشوں کے مسائل پر گہری نظر لئے نیویارک کی مئیر شپ کے لئے اپنے خلاف چلائی گئی مہم کا بڑے تحمل سے جواب دے رہا ہے ظہران ممدانی نیویارک کے غریب محنت کش طبقے کی معاشی مشکلات کو حل کرنے کے لئے کوشاں دکھائی دیتے ہیں سمجھ نہیں آتی کہ صدر ٹرمپ کی اس دھمکی کہ اگر ممدانی مئیر بنا تو نیویارک کو وفاقی فنڈز نہیں دوں گا وہ کمیونسٹ ہے اور ممدانی مئیر بننا نیویارک کے لئے بُرا ہو گا کسی بڑی طاقت والے جمہوری ملک کے اعلی منصب پر بیٹھے شخص کو یہ بیانیہ زیب نہیں دیتا ہے تاریخ یہ بتاتی کے جو بھی ڈیمو کریٹک پارٹی کا امیدوار بنتا ہے وہ جنرل ایکشن بآسانی جیت جاتا ہے سیاسی مخالفت میں تعصب شامل ہوجائے تووہ اچھے برے کی تمیز گنوا دیتی ہے اور ایسی مذکورہ جنونی کیفیت میں مبتلا ہونا اپنے گڑھے میں خود گرنے کے مترادف ہوجاتا ہے ظہران ممدانی کا جذبہ و جنون یہ ہے کہ وہ نیویارک کے محنت کشوں کے لئے مکان کا کرایہ جو اُن کے لئے دینا مشکل کام ہوگیا ہے انھیں آسان سستا کرنا اُن کے ایجنڈے میں شامل ہے انھوںنے عوام کو یہ یقین بھی دلایا ہوا ہے کہ مئیر بننے کے بعد اُن کی حکومت گھروں کے کرایہ بڑھانے پر پابندی لگائے گی اور کھانے پینے کی اشیاء سے لے کر ٹرانسپورٹ پر شہریوں کو ریلیف دے گی اور ان سارے اخراجات کو بڑے سرمایہ داروں پر ٹیکس لگا کر پورا کرے گی یہ جنون و جذبہ انسانیت کی بقاء کا ضامن ہوتا ہے جسے نظر انداز کرنا ،بنی نوع انسان سے آسانیاں چھین کر انھیں مشکلات میں ڈالنا ،سہولتوں میں تفریق پیدا کرنا طبقاتی جنگ کو ہوا دیتا ہے ایسی باتوں سے اجتناب بہتر ہے ۔